اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ سے غزہ فائر بندی معاہدے کی منظوری

 فلسطینی حکام کے مطابق فائر بندی کے معاہدے کے باوجود اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ میں شدید بمباری کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 86 افراد جان سے چلے گئے۔

15 جنوری 2025 کو غزہ شہر کے مرکز میں واقع الفارابی سکول پر اسرائیلی حملے کے بعد کا منظر (اے ایف پی)

اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے جمعے کو غزہ میں فائر بندی معاہدے کی منظوری دے دی ہے، جس سے اسرائیلی قیدیوں کی پہلی کھیپ کی واپسی اتوار تک ممکن ہو سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فائر بندی معاہدہ اب بھی مکمل کابینہ کی منظوری سے مشروط ہے، جس کا اجلاس جمعے کی سہ پہر ہونا تھا۔

معاہدے کے مطابق اسرائیل پہلے مرحلے کے اختتام تک تمام فلسطینی خواتین اور 19 سال سے کم عمر بچوں کو اپنی جیلوں سے رہا کرے گا۔ رہا کیے جانے والے فلسطینیوں کی کل تعداد اسرائیلی قیدیوں کی رہائی پر منحصر ہوگی اور یہ تعداد 990 سے 1650 کے درمیان ہو سکتی ہے جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں۔

جمعے کو اسرائیلی وزارت انصاف نے ان 95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کی، جو اتوار کو پہلے تبادلے میں رہا کیے جائیں گے۔

دوسری جانب فائر بندی کے معاہدے کے باوجود اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ میں شدید بمباری کی۔

 فلسطینی حکام نے جمعرات کو بتایا کہ فائر بندی کے اعلان کے ایک دن بعد اسرائیلی کارروائیوں میں کم از کم 86 افراد جان سے چلے گئے۔

جمعرات کو امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا تھا کہ مذاکرات میں ایک ’نامکمل معاملہ‘ حل طلب ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان قیدیوں کی شناخت پر تنازع تھا، جنہیں حماس رہا کروانا چاہتی ہے۔

عہدیدار نے مزید کہا، صدر جو بائیڈن اور نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی دوحہ میں مصری اور قطری ثالثوں کے ساتھ اس مسئلے کو حل کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ واشنگٹن سمجھتا ہے کہ معاہدہ درست سمت میں جا رہا ہے اور 15 ماہ پرانے تنازعے میں فائر بندی ’اسی ہفتے کے آخر تک‘ عمل میں آنے کی توقع ہے۔

انہوں نے جمعرات کو سی این این پر کہا: ’ہمیں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی جو اس وقت اس معاہدے کو ناکام کر سکے۔‘

سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے، جس میں 1200 افراد مارے گئے اور تقریباً 250 افراد کو قیدی بنا لیا گیا تھا، کے بعد اسرائیل نے غزہ پر زمینی اور فضائی حملے کیے۔

غزہ کی مقامی صحت کی وزارت کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 46 ہزار سے زائد فلسطینی جان سے جا چکے ہیں۔

اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ کی تقریباً 23 لاکھ کی آبادی بے گھر ہو چکی ہے اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دنیا بھر کے رہنماؤں نے اسرائیل اور حماس کے درمیان 15 ماہ بعد فائر بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے اعلان کا خیرمقدم کیا اور دونوں فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس پر قائم رہیں اور غزہ کے شہریوں کو امداد پہنچانے میں تیزی لائیں۔

معاہدے کے اہم نکات

روئٹرز کے مطابق معاہدے پر بریفنگ پانے والے حکام نے اس کے یہ اہم نکات بتائے ہیں۔

فائر بندی کے ابتدائی چھ ہفتوں میں اسرائیلی فوج کا مرکزی غزہ سے بتدریج انخلا اور بے گھر فلسطینیوں کی شمالی غزہ میں واپسی ہو گی۔

فائر بندی کے دوران روزانہ غزہ میں 600 ٹرکوں پر مشتمل انسانی امداد کی اجازت دی جائے گی، جن میں سے 50 ٹرک ایندھن لے کر آئیں گے اور 300 ٹرک شمال کے لیے مختص ہوں گے۔

حماس 33 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے گی، جن میں تمام خواتین (فوجی اور شہری)، بچے اور 50 سال سے زیادہ عمر کے مرد شامل ہوں گے۔

حماس پہلے خواتین قیدیوں اور 19 سال سے کم عمر بچوں کو رہا کرے گی، جس کے بعد 50 سال سے زیادہ عمر کے مردوں کو۔

اس دوران اسرائیل اپنے ہر سویلین قیدی کے بدلے 30 فلسطینیوں اور ہر اسرائیلی خاتون فوجی کے بدلے 50 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

اسرائیل سات اکتوبر، 2023 کے بعد سے گرفتار تمام فلسطینی خواتین اور 19 سال سے کم عمر کے بچوں کو پہلے مرحلے کے اختتام تک رہا کرے گا۔

رہائی پانے والے فلسطینیوں کی کل تعداد اسرائیلی قیدیوں کی رہائی پر منحصر ہوگی، اور یہ تعداد 990 سے 1,650 قیدیوں تک ہو سکتی ہے، جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں۔

پہلے مرحلے کے 16ویں دن معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات شروع ہوں گے، جس میں باقی تمام قیدیوں کی رہائی، بشمول اسرائیلی مرد فوجیوں، مستقل فائر بندی اور اسرائیلی فوجیوں کا مکمل انخلا شامل ہوگا۔

تیسرے مرحلے میں توقع ہے کہ تمام باقی ماندہ لاشوں کی واپسی اور غزہ کی تعمیر نو کا آغاز شامل ہوگا، جس کی نگرانی مصر، قطر اور اقوام متحدہ کریں گے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا