امریکی محکمہ خارجہ نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) اور فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کے ارکان کے ویزے ’منسوخ اور واپس لے رہا ہے۔‘
جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ پی ایل او اور پی اے کو ’اس کے وعدوں پر عمل نہ کرنے اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچانے‘ پر ’ذمہ دار‘ ٹھہرا رہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ واضح نہیں کہ امریکہ کے اس اعلان کا فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں۔
امریکہ کے متعدد اتحادی، جو ستمبر میں نیویارک سٹی میں ہونے والے اسمبلی اجلاس میں شریک ہونے کی توقع رکھتے ہیں، اعلان کر چکے ہیں کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے، جن میں فرانس، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا شامل ہیں۔
اگرچہ فلسطین کو اقوام متحدہ کا مکمل رکن نہیں سمجھا جاتا، جزوی طور پر اس لیے کہ امریکہ نے اپریل میں ایک قرارداد کو ویٹو کر دیا جو اسے ریاست کے طور پر تسلیم کرتی، تاہم اقوام متحدہ فلسطین کو مبصر ریاست مانتی ہے۔
پی ایل او وہ سیاسی تنظیم ہے جو فلسطینی عوام کی نمائندگی کرتی ہے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی وکالت کرتی ہے۔
جبکہ پی اے وہ حکومتی ادارہ ہے جو فلسطین کے بعض حصوں کی نگرانی کرتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ پی اے کا مشن، جو عالمی سطح پر فلسطینی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے، کو ’اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز معاہدے کے تحت استثنیٰ‘ دیا جائے گا۔‘
ہیڈکوارٹر معاہدے کے تحت امریکہ پر لازم ہے کہ وہ غیر ملکی سفارت کاروں کو اقوام متحدہ تک رسائی دے، لیکن وہ قومی سکیورٹی یا دہشت گردی کی وجوہات پر ویزا دینے سے انکار کر سکتا ہے۔
یہ واضح نہیں کہ اس پالیسی کے تحت کتنے ویزے منسوخ کیے جائیں گے۔ اس حوالے سے محکمہ خارجہ نے وضاحت نہیں کی۔
محکمہ خارجہ کا یہ اقدام بظاہر انتظامیہ کے ان گذشتہ فیصلوں سے مطابقت رکھتا ہے، جن کا مقصد فلسطین کی موجودگی یا اثر و رسوخ کو محدود کرنا تھا۔ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے قریبی اتحادی ہیں۔ وہ طویل عرصے سے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے سے انکار کرتے آئے ہیں۔
جولائی میں امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ نامعلوم پی اے اور پی ایل او حکام پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے انہیں ویزے دینے سے انکار کرے گا، کیوں کہ امریکی حکام کا خیال ہے کہ وہ دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں۔
سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے، جس میں 1200 افراد مارے گئے اور سینکڑوں کو قیدی بنا لیا گیا تھا، کے بعد نتن یاہو نے غزہ میں جنگ چھیڑ دی۔
جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ میں 63 ہزار سے زیادہ افراد جان سے جا چکے ہیں۔ عالمی تنظیموں نے اسرائیل پر فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کرنے کا الزام لگایا ہے جبکہ غزہ کو اجتماعی قحط کے دہانے پر دھکیل دیا گیا ہے۔
ٹرمپ اور سابق صدر جو بائیڈن دونوں نے حماس اور اسرائیل کے درمیان امن قائم کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں ناکام رہے۔
محکمہ خارجہ کے جمعے کو جاری بیان میں الزام لگایا گیا کہ پی اے حکام نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمات دائر کر کے جنگ بندی مذاکرات ختم ہونے میں کردار ادا کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے ایکس پر لکھا: ’انہیں امن کے شراکت دار کے طور پر سنجیدگی سے لینے سے قبل، پی اے اور پی ایل او کو مکمل طور پر دہشت گردی کو مسترد کرنا ہوگا اور یک طرفہ طور پر خیالی ریاست کو تسلیم کروانے کی غیر سودمند کوششیں بند کرنا ہوں گی۔‘
© The Independent