بھارت میں 'گاندھی گیری' ختم ہوتی جارہی ہے

گاندھی کو کبھی گلے لگا لیا جاتا ہے اور کبھی دھتکار دیا جاتا ہے۔

سیاستدان اب بھی گاندھی کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ سیاسی حالات اور اقدار گاندھی کی سوچ سے ہٹتے جا رہے ہیں۔

سفید بنگلے کے باہر مہاتما گاندھی کے آخری وقت کے قدموں کے نقوش نمایاں طور پر بنایے گئے ہیں۔

موہن داس کرم چند گاندھی، جنہیں عام طور پر مہاتما کے نام سے جانا جاتا ہے، سردیوں کی ایک دوپہر دو جوان خواتین کے کندھے کے سہارے نئی دہلی میں موجود سرکاری لان میں ٹہل رہے تھے کہ ان کے قاتل ان کے پاس آئے، قدم چھوئے اور پھر ان پر گولی چلا دی۔

جس لان میں انہیں قتل کیا گیا اور جس بنگلے میں انہوں نے آخری ایام گزارے اس بنگلے کو ان کی یادگار بنا دیا گیا ہے۔ یا دگار میں داخلے پر آپ کو کسی سکیورٹی چیک کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ آپ بڑی آسانی سے یادگاری بنگلے میں داخل ہو سکتے ہیں بالکل جیسا کہ گاندھی کو پسند آتا ہوگا۔

یادگار جسے گاندھی سمرتی کہا جاتا ہے شاید بہترین جگہ ہے جہاں آکر دنیا کی تاریخ کی اہم ترین ہستیوں میں سے ایک کی زندگی اور افکار پر سوچ بچار کی جاسکتی ہے۔

گاندھی کے قتل کے 71 سال کے بعد بھی گاندھی کا دنیا بھر میں اثر و رسوخ موجود ہے اور ان کی اچھائی کے پرچار کے حوالے سے شہرت ابھی بھی قائم و دائم ہے۔

ان جیسے بہت کم افراد ہے جنہوں نے تاریخ میں عدم تشدد کے ذریعے مذاحمت سے ہندوستان سے برطانوی راج کا خاتمہ کیا۔ پرامن مظاہروں کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کے طریقہ کار نے بہت سے لوگوں اور تہذیبوں پر اپنا تاثر چھوڑا ہے جن میں مارٹن لوتھر کنگ جونئیر جیسی ہستیاں بھی شامل ہیں۔

21 ویں صدیوں میں بھی گاندھی ابھی دنیا کے لیے مشعل راہ ہیں۔ سابق امریکی صدر باراک اوبامہ نے اس تمنا کا اظہار کیا تھا کہ وہ گاندھی کے ساتھ کھانا کھانا چاہیں گے۔

مگر آج کے بھارت میں گاندھی کو وہ اہمیت حاصل نہیں رہی۔ اگرچہ بھارتی سیاستدان اب بھی گاندھی کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ سیاسی حالات اور اقدار گاندھی کی سوچ سے ہٹتے جا رہے ہیں۔

اشوکا یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ماہر سیاسیات پرتاپ بی مہتا کہ کہنا ہے کہ 'مجھے ڈر لگتا ہے کہ گاندھی کی اہمیت ختم ہوتی جارہی ہے۔ جدید بھارت میں دو طاقتور قوتیں گاندھی سے نفرت کرتی ہیں۔'

مہتا کے مطابق ہندو قوم پرست اور بھارتی جنتہ پارٹی کا حلقہ انتخاب گاندھی کو کمزور سمجھتا ہے۔ ہندو برتری پر یقین رکھنے والے افراد گاندھی پر اپنا غصہ دکھاتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے اور انہوں نے ہندوستان سے پاکستان بننے دیا۔

کچھ ہندو قوم پرستوں نے گاندھی کے قاتل نتھو رام گوڈسے کا بت بھی بنا رکھا ہے۔ نتھو رام گوڈسے کا تعلق اسی گروہ سے تھا جس سے بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے بیشتر سیاسی حلیفوں کا ہے۔ اکثر قوم پرست گوڈسے کا بھارت کا اصلی ہیرو مانتے ہیں۔

دلت جو کہ ہندو معاشرے میں سے نیچی ذات مانے جاتے ہیں وہ گاندھی کو پسند نہیں کرتے۔ دلتوں کی تعداد 20 کروڑ سے زائد ہونے کی وجہ سے ان کا سیاسی اثر و رسوخ بھی جاندار بن چکا ہے۔

گاندھی غریبوں بشمول دلتوں کے لیے درد رکھنے والے تھے اور استحصال کے سخت خلاف تھے۔ انہوں نے اپنا رہن سہن نہایت سادہ رکھا، سادہ سفید لباس زیب تن کرتے تھے اور بہت کم کھاتے تھے۔ جب اوبامہ نے گاندھی کو کھانے کی میز پر اپنا آئڈیل چنا تو ازراہ تفنن یہ بھی کہا کہ 'شاید کھانا بہت کم ہوگا۔'

گاندھی سمرتی یادگار میں اگر جائیں تو زمینی منزل پر آپ کو گاندھی کی "دنیاوی باقیات" نظر آئیں گی جن میں گلاس، چمچ، گھڑی اور نہانے والا پتھر شامل ہیں۔

1928 میں ایک صنعت کار نے جو کے کاروبار اور دوسروں کے پیسنے سے کمائے گیے پیسے سے یہ عالیشان بنگلہ تعمیر کیا تھا جس میں گاندھی رہائش پذیر تھے۔ سوال کیا جا سکتا ہے کہ غریبوں سے محبت کرنے والے گاندھی کیوں اس بنگلے میں رہ رہے تھے۔  مگر گاندھی کے ہندوستان میں امیر سرمایہ کاروں کے ساتھ مراسم تھے اور جب بھی وہ دہلی آتے تھے تو اکثر اسی بنگلے میں قیام پذیر ہوتے تھے۔

ہندوستان کے سرمایہ کاروں اور اشرافیہ کے ساتھ گاندھی کے تعلقات کی وجہ سے دلت اور بائین بازو کے کچھ افراد ان پر تنقید کرتے ہیں کہ انہوں نے ہندوستان میں ذات پات کے نظام کو ختم کرنے کی خاطر خواہ کوشش نہیں کی۔ اگرچہ گاندھی نچلی ذات کو افراد کے حقوق کے لیے کھڑے ضرور ہوئے مگر ان کے ناقد کہتے ہیں کہ گاندھی نے اس شدت سے اس نظام پر سوال نہیں اٹھایے جس کی ضرورت تھی۔

مہتا کہتے ہیں: 'وہ [ناقدین] سمجھتے ہیں کہ دلت کو حقوق دلوانے میں گاندھی نے سرتوڑ کوشش نہیں کی۔'

بھارت کی آزادی کے پونے صدی کے بعد بھی نچلی ذات کے افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں نچلی ذات کے ایک شخص کے سر کی جلد کاٹ دی گئی کیونکہ اس نے اپنی واجب تنخواہ کا تقاضا کیا تھا۔

تنقید کے باوجود بھارتی سیاستان اپنے آپ کو گاندھی کا مداح ماننے میں لگے رہتے ہیں اور اس میں گاندھی کے ساتھ جڑی ہوئی پارٹی سب سے زیادہ پیش پیش ہے۔

گاندھی موجودہ بھارت کی حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے رکن تھے اور انہوں نے جماعت کو تقویت بخشنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ کانگریس کے رہنما اکثر گاندھی کے تصاویر کو اپنے بینروں پر لگاتے ہیں بالخصوص تب جب وہ بھوک ہڑتال کرتے ہیں۔

مودی حکومت ہندو قوم پرستوں کی ناراضی کے باجود بھی کبھی کبھی گاندھی کے نام پر سیاسی فائدہ لینے کی کوشش کرتی ہے۔ آپ کو بھارت کے ہر گاوں میں گاندھی کے زیر استعمال چشمے کی تصاویر نظر آئیں گی کیونکہ مودی کے سب سے بڑے سماجی مہم سواچ بھارت )صاف بھارت) کا نشان گاندھی کا چشمہ ہے۔ حکومتی اعداد وشمار کے مطابق اس منصوبے کے تحت تقریبا 10 کروڑ نیے بیت الخلاء دیے جا چکے ہیں۔

گاندھی کی سالگرہ ہر سال 2 اکتوبر کو منائی جاتی ہے اور اس سال ان کی 150ویں سالگرہ منائی جائے گی۔ گاندھی کی سالگرہ کو قومی دن قرار دیا گیا ہے اور 26 جنوری کو بھارت کے ریپبلک ڈے پر گاندھی کی تصاویر اور بتوں کا استعمال عام ہوتا ہے۔

گاندھی کی زندگی پر کتاب لکھنے والے معروف مصنف اس رام چندر گوہا اس چیز پر حیران نہیں کہ گاندھی کو کبھی گلے لگا لیا جاتا ہے اور کبھی دھتکار دیا جاتا ہے۔

گوہا کہتے ہیں کہ: 'گاندھی بھی عظیم ہستیوں جیسے چرچل، نپولین، پاو اور لنکن کی طرح ہیں۔ کبھی ان کا برانڈ اوپر جاتا ہے تو کبھی نیچے۔ ان کی میراث پر ہمیشہ بحث ہوتی رہے گی۔'

حالیہ سالوں میں گاندھی کے جنسی معاملات پر بھی کڑی نظر ڈالی گئی ہے۔ عالم کہتے ہیں کہ گاندھی جوان خواتین کے ساتھ بستر میں عریاں لیٹ کر اپنا امتحان لیا کرتے تھے۔

ایک اور نئی بحث گاندھی کے حوالے سی یہ ہے کہ وہ نسل پرست تھے۔ دسمبر میں گھانا میں ایک یونیورسٹی سے گاندھی کے بت کو طلباء اور اساتذہ کی شکایت پر ہٹا دیا گیا کیوںکہ ان کے مطابق 19ویں صدی کے آخری اوائل اور 20ویں صدی کے آغاز میں جب گاندھی جنوبی افریقہ میں مقیم تھے تو وہاں وہ سیاہ فام افراد سے نفرت کیا کرتے تھے۔ گاندھی پر علم رکھنے والے اس بات کی تردید نہیں کرتے مگر وہ یہ کہتے ہیں کہ بعد میں گاندھی نے اپنے خیالات کو تبدیل کر لیا تھا۔

جب گوہا سے پوچھا گیا کہ وہ بھارت کی کس سیاسی جماعت کو گاندھی کے نظریاتی وارث سمجھتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ کرپشن، موروثی سیاست اور مذہبی تقسیم کی وجہ سے 'کسی بھی جماعت کے پاس گاندھی کی اخلاق میراث کے وارث ہونے کا جواز نہیں۔'

گوہا کہتے ہیں کہ گاندھی کے اص وارث حکومت سے باہر ہیں، وہ گروہ جو ماحول کی بات کرتے ہیں، جو دیہی زندگی اور مذہبی ہم آہنگی کی بات کرتے ہیں وہ گاندھی کے اصل وارث ہیں۔

گاندھی کی یادگار پر موجود گائیڈ گاندھی کی ہی طرح کا لباس زیب تن رکھتے ہیں۔ گاندھی برطانیہ سے برآمد شدہ کپڑوں کی بجائے گھر کے سلے ہوئے کپڑے پہنتے تھے۔

کھچا کھچ گلیوں سے گزر کر گاندھی کی یادگار پر جب پہنچتے ہیں تو یکدم سکون کی سی کیفیت میسر ہوتی ہے جیسے کہ 2 کروڑ افراد کے شہری علاقے میں کوئی پرسکون جزیرہ ہو۔

یادگار کی جگہ پرسکون ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں زیادہ افراد آتے نہیں ہیں کیوںکہ گاندھی کی اہمیت عام بھارتی کے لیے کم ہوتی جارہی ہے۔ مگر پھر بھی کچھ لوگ آتے ہیں۔

یادگار پر آئے منوج چودسمہ کا کہنا ہے کہ 'ایسا نہیں کہ گاندھی کا ذکر روزمرہ کی گفتگو میں ہو مگر ہم ان کے بارے میں سوچتے ضرور ہیں۔'

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ