خیبرپختونخوا میں دو کارروائیاں، 13 عسکریت پسند مارے گئے

آئی ایس پی آر کے مطابق ’علاقے میں کسی بھی ممکنہ انڈین سرپرستی میں موجود خوارجی دہشت گرد کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں۔‘

پاکستان فوج کے کمانڈوز 13 ستمبر، 2021 کو راولپنڈی میں گاڑیوں پر جا رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان فوج نے اتوار کو بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا میں 12 اور 13 دسمبر کو سکیورٹی فورسز کی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئیں دو الگ الگ کارروائیوں میں 13 عسکریت پسند مارے گئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے ضلع مہمند میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔

کارروائی کے دوران فورسز نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا جس کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں سات عسکریت پسند جان سے گئے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ضلع بنوں میں کیا گیا جہاں سکیورٹی فورسز نے چھ مزید عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ’علاقے میں کسی بھی ممکنہ انڈین سرپرستی میں موجود خوارجی دہشت گرد کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’عزمِ استحکام کے وژن کے تحت، جس کی منظوری نیشنل ایکشن پلان سے متعلق وفاقی ایپکس کمیٹی نے دی ہے، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشت گردی کے خلاف بھرپور اور بلا تعطل مہم جاری رہے گی تاکہ ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور معاونت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔‘

اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں پاکستانی فوج کے مطابق خیبر پختونخوا میں ہونے والی دو الگ الگ جھڑپوں میں انڈین حمایت یافتہ نو عسکریت پسندوں مارے گئے تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے ضلع ٹانک اور لکی مروت میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیے تھے تھا۔

دوسری جانب بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے اتوار کو بتایا ہے کہ رواں برس سکیورٹی فورسز کی صوبے میں کارروائیوں میں 707 ’دہشت گرد‘ مارے گئے ہیں۔

کوئٹہ میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں حمزہ شفقات نے کہا کہ ’رواں سال بلوچستان میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر 78 ہزار آپریشن کیے گئے جبکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں 707 دہشت گرد مارے گئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز کے 202 اہلکار اور 280 شہری بھی جاں سے گئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان