تیسرا ایشز ٹیسٹ: ٹریوس ہیڈ کی سنچری، آسٹریلیا کو 356 رنز کی برتری

چائے کے وقفے تک مہمان ٹیم پانچ کھلاڑیوں کے آوٹ ہونے پر 132 پر تھی۔

آسٹریلوی بلے باز ٹریوس ہیڈ جعمے کو انگلینڈ کے خلاف تیسرے ایشز کرکٹ ٹیسٹ میچ میں سنچری بنانے کے بعد پچ کو چوم رہے ہیں (ولیم ویسٹ / اے ایف پی)

ٹریوس ہیڈ نے جمعہ کو انگلینڈ کے خلاف اپنے ہوم گراونڈ ایڈیلیڈ اوول کے ساتھ اپنی محبت جاری رکھی اور مسلسل اتنے ہی ٹیسٹ میچوں میں چوتھی سنچری بنائی لی۔

ایسا کرتے ہوئے، وہ صرف تین دیگر آسٹریلوی کھلاڑیوں کے ساتھ شامل ہو گئے جنہوں نے اسی مقام پر چار مسلسل ٹیسٹ میچز میں سنچریاں بنائیں۔

ڈونلڈ بریڈمین نے یہ کارنامہ دو بار انجام دیا، میلبورن کرکٹ گراؤنڈ اور لیڈز انگلینڈ میں، جبکہ مائیکل کلارک نے ایڈیلیڈ میں اور سٹیو سمتھ نے میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں بھی ایسا کیا۔

31 سالہ نے کہا: ’سوچا نہیں تھا کہ مجھے یہ ملے گی، تو چار ملنا زیادہ برا نہیں ہے۔‘

ان کی ناقابل شکست 142 رنز نے آسٹریلیا کو انگلینڈ کے خلاف 356  رنز کی برتری دلائی، جس سے وہ تیسرے ٹیسٹ میں برتری لے چکے اور ایشز رکھنے کے قریب ہیں۔

ہیڈ کی اہم سنچر، جو ان کی 11ویں سنچری تھی، 146 گیندوں پر ممکن ہوئی۔ ان کا کیچ تاہم ہیری بروک نے 99 رنز پر چھوڑ دیا تھا۔ مایوس ہوئے بغیر، انہوں نے اگلے اوور میں جو روٹ کو باؤنڈری ماری اور سنگ میل مکمل کیا اور پھرگھٹنوں کے بل گر کر خوشی میں زمین پر بوسہ دیا۔"

تیسرے دن چائے کے وقت، میزبان ٹیم 119-2 تھی، عثمان خواجہ نے ہیڈ کے ساتھ 27 رنز بنا کر پانچ میچوں کی سیریز انگلینڈ کی پہنچ سے بظاہر باہر کر دی ہے۔ ایسے میں انگلینڈ کی ایشز جیتنے کی امیدیں ختم ہوتی نظر آتی ہیں۔

انگلینڈ نے پرتھ میں پہلا ٹیسٹ دو دن کے اندر اور دوسرا برسبین کے اندر چار اننگز میں آٹھ وکٹوں سے ہار دیا تھا۔ اب صرف ایڈیلیڈ میں فتح ہی انہیں بچا سکتی ہے۔

آسٹریلیا کو دوپہر کے کھانے سے پہلے 20 منٹ کے کشیدہ لمحات میں ابتدائی دھچکا لگا جب انگلینڈ 286 رنز پر آل آؤٹ ہو گیا، جس میں بین سٹوکس نے آسٹریلیا کی پہلی اننگز کے 371 رنز کے جواب میں 83 رنز بنائے تھے۔

ایک ایسے وقت جب ایشز ان کی گرفت سے نکل رہی ہے، انگلینڈ کے بولنگ کوچ مارکس ٹریسکوتھک نے کہا کہ انگلینڈ 'لڑے' گا۔ انہوں نے ایک ڈی ہائیڈریٹڈ بین سٹوکس کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔

انگلینڈ کو آسٹریلیا کے خلاف ایڈلیڈ میں تیسرے ٹیسٹ میں جیت کی ضرورت ہے تاکہ سیریز میں رہ سکے۔

وہ آسٹریلیا سے دوسرے دن کے اختتام پر 158 رنز پیچھے ہے اور ان کے پاس دو وکٹیں باقی ہیں۔ انہوں نے کر آسٹریلیا کے 371 کے جواب میں دوسرے دن کے اختتام پر 213-8 پر کھیل ختم کیا۔

ٹریسکوتھک نے کہا کہ یہ مایوس ہیں کہ وہ ایک ایسی ہموار پچ پر زیادہ فائدہ نہیں اٹھا سکے جو بیٹنگ کے لیے بہترین تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’نئی گیند کے لیے 10-11 اوورز ابھی باقی ہیں جس دوران ہم جتنے ممکنہ رنز بنا سکے بنائیں گے اور پھر ظاہر ہے کہ دیکھیں گے کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔

’لیکن ہم مایوس ہیں، یقیناً۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم اب بھی لڑ رہے ہیں، ہم اب بھی اس معاملے میں لڑائی کر رہے ہیں جو ہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’میں نے سوچا کہ آسٹریلیا نے اچھی بولنگ کی اور اس کے لیے انہیں کریڈٹ ملنا چاہیے۔ لیکن ہمیں صرف ٹہرے اور لڑتے رہنے کی ضرورت ہے اور دیکھنا ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔‘

انہوں نے اعتراف کیا کہ بیٹسمین ’مایوس‘ ہیں کہ وہ زیادہ اثر نہیں ڈال سکے، سٹوکس کا ناٹ آؤٹ 45 سب سے زیادہ سکور ہے۔

’میرا خیال ہے کہ آپ ہمیشہ مایوس ہوتے ہیں جب آپ کامیاب نہیں ہوتے اور وہ رنز نہیں ملتے جو آپ چاہتے تھے، اور یہ شاید کچھ ہے جو ہم نے دوسری سیریز کے مقابلے میں اس بار اتنا نہیں کیا ہے۔

’کسی کے لیے اب بھی موقع موجود ہے کہ وہ یہ کرے۔

’بین نے آج سخت لڑائی کی ہے اور یہ سب کے لیے ضروری ہے کہ وہ کام کرتے رہیں۔‘

سٹوکس اپنی بہترین فارم میں تھے جنہوں نے 151 گیندوں کا سامنا ایک ایسے وقت کیا جب درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔

ٹریسکوتھک نے اسے سٹوکس کی کلاسک اننگز قرار دیا۔

’وہ ظاہر ہے کہ تھکے ہوئے ہیں اور کچھ ڈی ہائیڈریٹڈ ہیں۔

’مجھے لگتا ہے کہ انہیں کاربوہائیڈریٹ مشروبات لینے میں مشکل پیش آئی، کیونکہ وہ بہت زیادہ پسینے سے شرابور تھے۔

’وہ آخری سیشن کے دوران کچھ بیمار محسوس کر رہے تھے اور زیادہ تر وقت میں ان کے پٹھے کھچ رہے تھے، لیکن یہ ان کی عادت ہے اور یہ تقریباً ان کی توجہ کا بہترین وقت ہوتا ہے جب وہ اس ذہنی حالت میں ہوتے ہیں۔‘

اس سے قبل آسٹریلیا نے رات کے سکور میں 45 کا اضافہ کیا جب درجہ حرارت 39 سیلسیس تک پہنچ گیا۔

بین سٹوکس 19 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے اور جیمی سمتھ پانچ رنز پر تھے، جب انہوں نے جو روٹ (19) اور ہیری بروک (45) کو دوسرے سیشن میں آوٹ کیا۔

آسٹریلیا پانچ میچوں کی سیریز میں 2-0 سے آگے ہے اور اگر وہ پرتھ اور برسبین میں مسلسل آٹھ وکٹوں کی شکست کے بعد جیت یا ڈرا کرتا ہے تو وہ ٹرافی برقرار رکھے گا۔

بیٹنگ کے لیے بہترین پچ پر، اوپننگ جوڑی بین ڈکٹ اور زیک کراؤلی نے مچل سٹارک اور پیٹ کمنز کے ابتدائی اوورز میں کامیابی حاصل کی۔ لیکن یہ ایک سراب تھا کیونکہ انگلینڈ نے بعد میں 15 گیندوں میں پانچ رنز دے کر تین وکٹیں گنوا دیں۔

کمنز نے سب سے پہلے کراؤلی سے وکٹ کیپر ایلکس کیری کو نو رنز پر ایج دلائی، جو آسٹریلوی کپتان کے کمر کے نچلے حصے کے مسائل کے بعد جولائی کے بعد پہلا ٹیسٹ تھا۔

 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل ایشز سیریز کا تیسرا ٹیسٹ، کھیل کے دوسرے روز آسٹریلیا کی ٹیم 371 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔

الیکس کیری 106 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہے، عثمان خواجہ نے 82 اور جوش انگلس نے 32 رنز بنائے، کپتان پیٹ کمنز نے 13 اور ٹریوس ہیڈ نے 10 رنز بنائے، انگلینڈ کی طرف جوفرا آرچر نے 5 وکٹیں حاصل کیں۔

تیسرے ٹیسٹ کے آغاز سے پہلے سڈنی حملے میں فائرنگ سے ہلاک افراد کی یاد میں خاموشی اختیار کی گئی، دونوں ٹیموں کے کھلاڑی بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر میدان میں آئے۔

ایشیز سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میچ سے قبل سڈنی میں فائرنگ واقعے کے متاثرین کی یاد میں تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا تھا، اس موقع پر سٹیڈیم میں موجود ہزاروں کرکٹ شائقین نے بھی پرنم آنکھوں کے ساتھ متاثرین کو یاد کیا۔

تقریب میں آسٹریلیا کے معروف گلوکار جان ولیمسن نے گیت گا کر حاضرین کے حوصلے بڑھائے اور متاثرین کو یاد کیا۔ دوسری جانب سٹیڈیم میں پرچم سرنگوں ہیں جبکہ میچ کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ