اثاثوں کی تفصیلات خفیہ رکھنے سے متعلق الیکشن ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی سے منظور

یہ بل رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔ تاہم یہ بل ابھی ایوان بالا یعنی سینیٹ سے پاس ہونا باقی ہے۔

پاکستان میں عام انتخابات کے بعد نو منتخب ارکان 3 مارچ 2024 کو پارلیمان کے باہر موجود ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

پاکستان کی قومی اسمبلی نے بدھ کو الیکشن ایکٹ ترمیمی بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت ارکان پارلیمان کو اپنے اثاثوں اور گوشواروں کی تفصیلات شائع نہ کرنے کی درخواست دینے کا اختیار حاصل ہو گا۔

یہ بل رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔ تاہم یہ بل ابھی ایوان بالا یعنی سینیٹ سے پاس ہونا باقی ہے۔ سینیٹ سے منظوری اور صدر مملکت کی جانب سے اس کی توثیق  کے بعد ہی یہ قانون بنے گا۔

بل، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، کے مطابق اگر کوئی رکن تحریری طور پر چیئرمین سینیٹ یا سپیکر قومی اسمبلی کو درخواست دے کہ الیکشن کمیشن ان کے اثاثوں یا گوشواروں کی تفصیلات شائع نہ کرے تو چیئرمین یا سپیکر کو ان تفصیلات کو خفیہ رکھنے کی اجازت دینا کا اختیار حاصل ہوگا۔

اس کے علاوہ بل میں کہا گیا ہے کہ ’درخواست میں رکن کو یہ موقف اختیار کرنا ہوگا کہ اثاثوں کی تفصیلات شائع ہونے سے ان کے یا خاندان کی زندگی کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔ ایسی صورت میں اثاثوں کی تفصیلات ایک سال تک شائع نہیں کی جائیں گی، لیکن یہ شرط ہوگی کہ رکن نے اثاثوں کی درست تفصیلات خفیہ طور پر الیکشن کمیشن میں جمع کروائی ہوں۔‘

بل میں الیکشن سے متعلق اپیلوں کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔

مسودے میں کہا گیا ہے کہ اس کے تحت الیکشن کمیشن یا الیکشن ٹریبونل کے فیصلے سے متاثرہ شخص 30 روز کے اندر آئینی عدالت میں اپیل دائر کر سکے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح کسی سیاسی جماعت کا اندراج نہ ہونے یا منسوخ کیے جانے کی صورت میں بھی متعلقہ جماعت آئینی عدالت سے رجوع کر سکے گی۔

بل کے مطابق ’اگر کسی سیاسی جماعت کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ وصول کرنے یا دہشت گردی میں ملوث ہونے کی بنیاد پر تحلیل کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے تو حکومت 15 روز کے اندر یہ معاملہ آئینی عدالت میں پیش کرے گی۔

اگر آئینی عدالت حکومت کے اعلان کو برقرار رکھے تو سیاسی جماعت تحلیل ہو جائے گی۔

بل پیش کیے جانے کے بعد وفاقی وزیر برائے قانون اعظم نذیر تارڑ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اثاثوں اور گوشواروں کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع تو ہوں گی لیکن بعض صورتوں میں انہیں شائع نہ کرنے کا اختیار چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کے پاس ہوگا۔

ایوان میں بل کی مخالفت کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین گوہر خان نے کہا کہ ’اس قانون کے ذریعے انتخابی معاملات کو سپریم کورٹ کے بجائے آئینی عدالت میں لے جایا جا رہا ہے، حالانکہ ان معاملات میں آئین کی تشریح کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘

گوہر خان کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمیشن چند پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ ووٹنگ کا فیصلہ کرے تو اسے آئینی عدالت میں چیلنج کیا جا سکے گا۔

اس پر اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی الیکشن کمیشن کے متعدد فیصلے آئینی نوعیت کے معاملات کے طور پر عدالتوں میں گئے ہیں۔

ان کے مطابق ’سیاسی جماعت کو کالعدم قرار دینے، فلور کراسنگ اور ارکان کی نااہلی جیسے معاملات آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں آئیں گے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ الیکشن کمیشن کے 80 فیصد فیصلے سپریم کورٹ اور 20 فیصد آئینی عدالت میں جائیں۔‘

منظور شدہ بل کے تحت ارکان پارلیمان کی نااہلی سے متعلق معاملات بھی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست