خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر سخت پابندیوں کے باعث برسوں تک طالبان حکومت سے فاصلہ رکھنے والے یورپی ممالک اب افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے معاملے پر اسی حکومت کے ساتھ براہ راست رابطے بڑھا رہے ہیں۔
یورپ میں غیر قانونی یا مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افغان تارکین وطن کی بے دخلی کے لیے کئی ممالک طالبان حکام سے مذاکرات کر رہے ہیں، جسے طالبان اپنی بین الاقوامی قبولیت بڑھانے کے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق جون کے آخر میں برسلز میں 20 سے زائد یورپی عہدے داروں اور پانچ طالبان نمائندوں کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں افغان باشندوں کی واپسی کے طریقہ کار پر بات چیت کی گئی۔
یورپی یونین کی سرزمین پر طالبان کے ساتھ اس نوعیت کے مذاکرات ماضی میں ایک ممنوع موضوع سمجھے جاتے تھے۔
تاہم بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ اور تارکین وطن سے متعلق عوامی خدشات نے کئی حکومتوں کو اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اخبار کے ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں طالبان کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، خواتین کی تعلیم پر پابندیوں یا دیگر متنازع پالیسیوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک ایک طرف طالبان کی مذمت کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب ان ہی کے ساتھ مل کر افغانوں کو ایسے ملک واپس بھیج رہے ہیں جہاں انہیں ممکنہ خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی افغانستان محقق فرشتہ عباسی نے کہا کہ یورپی یونین بیک وقت طالبان کے جبر کی مذمت اور افغانوں کو ان ہی حالات میں واپس بھیجنے کا مؤقف برقرار نہیں رکھ سکتی۔
اگرچہ طالبان حکومت کو باضابطہ سفارتی تسلیم کرنا اب بھی بیشتر ممالک کے لیے حساس معاملہ ہے اور روس اب تک ایسا کرنے والا واحد ملک ہے۔
تاہم طالبان ان مذاکرات کو اپنی حکومت کی عالمی قبولیت کی جانب ایک اہم قدم سمجھتے ہیں۔ بعض یورپی سفارت کار بھی اس تجزیے سے اتفاق کرتے ہیں۔
جرمنی کا مرکزی کردار
افغان پناہ گزین کی بے دخلی کے معاملے میں جرمنی سب سے آگے نظر آتا ہے۔
ملک کی مرکز دائیں بازو کی حکومت پر سخت امیگریشن پالیسی اپنانے کا سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے، خصوصاً اس وقت جب انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’آلٹرنیٹو فار جرمنی‘ (AfD) مقبولیت حاصل کر رہی ہے اور لاکھوں تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
گذشتہ سال جرمن حکام نے طالبان حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت افغان تارکین وطن کو تیسرے ممالک کے ذریعے بھیجنے کی بجائے براہ راست افغانستان واپس بھیجا جا سکتا ہے۔
فروری میں اس معاہدے کے تحت 20 افغان مردوں کو، جو جرمن عدالتوں سے سزا یافتہ تھے، لیپزگ سے کابل بھیجا گیا۔
جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے کہا کہ یہ معاہدہ افغانستان کو براہ راست اور مستقل بنیادوں پر بے دخلیوں کے لیے قابل اعتماد بنیاد فراہم کرتا ہے۔
جرمن وزارت داخلہ کے اعدادوشمار کے مطابق مئی 2025 سے اب تک 263 افغانوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکام اس عمل کو مزید تیز کرنے کے خواہاں ہیں اور اب ایسے افغان مردوں کو بھی واپس بھیجنا شروع کیا جا رہا ہے جن کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ نہیں۔
دوسری جانب افغان خواتین کو اب بھی نسبتاً زیادہ تحفظ حاصل ہے۔ رواں سال کی پہلی ششماہی میں جرمنی میں پناہ کی درخواست دینے والی تقریباً 95 فیصد افغان خواتین کو تحفظ یا پناہ دی گئی۔
جرمنی میں پانچ لاکھ سے زائد افغان باشندے مقیم ہیں جن میں اکثریت قانونی حیثیت رکھتی ہے جبکہ ملک میں پناہ کے متلاشی افراد میں تقریباً 20 فیصد افغان ہیں۔
طالبان سفارت کاروں کی یورپ میں موجودگی
اخبار کے مطابق افغان تارکین وطن کی واپسی میں مدد کے لیے طالبان کے چند سفارت کار جرمنی میں کام کر رہے ہیں۔
جرمن حکومت کی جانب سے بے دخلیوں کے عمل میں تیزی کے فیصلے کے بعد طالبان نے مزید تین عہدیدار برلن اور بون بھیجے جو ان معاملات نمٹا رہے ہیں۔
فرانس بھی، جو ماضی میں طالبان کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے سب سے محتاط ممالک میں شمار ہوتا تھا اسی طرح کا انتظام زیر غور لا رہا ہے۔
فرانسیسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا مقصد ایسے افغان شہریوں کی واپسی کو آسان بنانا ہے جو غیر قانونی طور پر ملک میں موجود ہیں اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کیے جاتے ہیں۔
برطانیہ، جس کے حکام باقاعدگی سے کابل کے دورے کرتے ہیں، بھی یورپی یونین کی پیش رفت کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق کئی دیگر یورپی ممالک بھی طالبان کے ساتھ براہ راست معاہدوں پر غور کر رہے ہیں۔
طالبان کے مطالبات
طالبان صرف بے دخلیوں تک تعاون محدود رکھنے کے حق میں نہیں ہیں۔
انہوں نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں یورپ بھر میں افغان سفارتی مشنز تک وسیع رسائی دی جائے، واپس بھیجے گئے افغانوں کی بحالی کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے اور افغانستان کے لیے وسیع اقتصادی امداد کا آغاز کیا جائے۔
تاہم یورپی حکومتیں اس معاملے پر محتاط ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انسانی بنیادوں پر امداد تو جاری رکھی جا سکتی ہے لیکن ترقیاتی امداد طالبان حکومت کو مالی فائدہ پہنچا سکتی ہے، جس سے ان کی حکمرانی مزید مضبوط ہو گی اور بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کرنے والے افراد کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
جرمنی میں قائم بون انٹرنیشنل سینٹر فار کانفلکٹ سٹڈیز کے ڈائریکٹر کونراڈ شیٹر کا کہنا ہے کہ طالبان کے پاس حقیقی دباؤ ڈالنے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ یورپی یونین نسبتاً کمزور پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے۔
ان کے مطابق یورپی ممالک پر مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے پناہ گزین کو نکالنے کا اتنا زیادہ دباؤ ہے کہ وہ تقریباً ہر قسم کے معاہدے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔
برسلز میں خفیہ نوعیت کی ملاقات
23 جون کو برسلز میں ہونے والی ملاقات نے خاصی توجہ حاصل کی۔ پانچ طالبان عہدے دار استنبول سے برسلز پہنچے جہاں بیلجیئم پولیس نے انہیں خفیہ انداز میں ایک ہوٹل منتقل کیا۔
وہاں 20 سے زائد یورپی حکام پہلے سے موجود تھے۔
اس اجلاس میں افغانستان واپس بھیجے جانے والے افراد کے بارے میں تعاون، طالبان کی سفارتی موجودگی میں توسیع اور اقتصادی امداد جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں اور بعض یورپی سیاست دانوں کی مخالفت کے باعث اجلاس کی جگہ کو آخری وقت تک خفیہ رکھا گیا تھا۔
اجلاس کی مشترکہ میزبانی سویڈن اور یورپی کمیشن نے کی جبکہ افغان وفد کی قیادت افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے کی۔
اس ملاقات کے بعد طالبان وفد نے کم از کم چار یورپی ممالک کے ساتھ الگ الگ دوطرفہ مذاکرات بھی کیے، جن میں سویڈن شامل تھا۔
سویڈش حکام کے مطابق وہ جرائم میں ملوث 200 افغان شہریوں کو افغانستان واپس بھیجنے کے لیے طالبان حکومت کے ساتھ تکنیکی سطح پر کام کر رہے ہیں۔
تعلقات میں بداعتمادی بدستور موجود
اگرچہ رابطے بڑھ رہے ہیں، لیکن فریقین کے درمیان بداعتمادی برقرار ہے۔ طالبان حکام برسلز اجلاس سے قبل اس بات پر ناراض تھے کہ بیلجیئم حکومت نے ان کے ویزے جاری کرنے میں کئی ماہ لگائے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
احتجاجاً انہوں نے یورپی سفارت کاروں کے ساتھ دوپہر کے کھانے میں شرکت بھی نہیں کی۔
طالبان نمائندوں کو صرف ایک روزہ ویزا دیا گیا تھا، جس کے باعث وہ تقریباً پانچ گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد اسی دن واپس روانہ ہو گئے۔
بعض یورپی امدادی تنظیمیں اور ماہرین طالبان سے زیادہ کھلے رابطوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ناروے کی ریفیوجی کونسل کے سیکریٹری جنرل یان ایگیلینڈ مغربی ممالک پر زور دے چکے ہیں کہ وہ اپنے سفارت کار دوبارہ افغانستان بھیجیں۔
ناروے میں طالبان سفارت کار کئی برسوں سے خاموشی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
تاہم اوسلو اور برلن میں افغان سفارت خانوں کے باہر طالبان کا جھنڈا یا ’اسلامی امارت افغانستان‘ کی تختی موجود نہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ یورپی حکومتیں اب بھی طالبان کی مکمل سفارتی قبولیت سے گریز کر رہی ہیں۔
تاہم ایک یورپی سفارت کار کے مطابق تارکین وطن کے خلاف بڑھتے عوامی دباؤ کے باعث حکومتیں رفتہ رفتہ مزید رعایتیں دینے کی طرف بڑھ رہی ہیں جبکہ طالبان پہلے ہی اس صورتحال سے سیاسی اور سفارتی فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں آ چکے ہیں۔