انسانی جسم دوبارہ بنانے کے لیے انیس کروڑ

بل برائسن کی کتاب ’دی باڈی: آ گائیڈ فار آکیوپینٹس‘ میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ انسان کئی پیچیدہ عناصر کا مرکب ہے۔ ہم روزمرہ عناصر کے ایک مکس پر مشتمل ہیں جو ان حیرت انگیز پیچیدہ نظاموں کی وجہ سے تیار ہوا ہے جسے سائنس دان آج بھی سمجھنے سے قاصر ہیں۔

ہر فرد کا مدافعتی نظام انوکھا اورقابل تبدیل ہو سکتا ہے۔(اے ایف پی)

بل برائسن پہلی مرتبہ 1973 میں اپنے آبائی ملک  امریکہ سے برطانیہ پہنچے، وہ ایک دلچسپ شخصیت کے مالک ہیں۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے شہوت خیز گرم حمام سے لے کر زمین کے وجود میں آنے تک ہر معاملے پر مہربان اور طنزیہ نگاہ ڈالی ہے۔

جینیاتی سفر جیسے پیچیدہ عنوان پر لکھنے اور سائنس میں گریجویشن کرنے کے باوجود بل برائسن بچوں کی طرح اس وقت تک سوالات پوچھتے رہیں گے جب تک وہ اس کی وضاحت کے لیے خود مطمئن نہ ہو جائیں۔

آپ زمین کا وزن کیسے کرتے ہیں؟ انسانی خون کے خلیے کس طرح کام کرتے ہیں؟ ہم ہمیشہ زندہ کیوں نہیں رہ سکتے؟

سائنس کی بنیاد تجسس پر ہے اور برائسن کے معاملے میں بھی یہ بات ٹھیک بیٹھتی ہے۔ ان کی نئی کتاب ’دی باڈی: آ گائیڈ فار آکیوپینٹس‘ پہ نظر ڈالتے ہیں۔

برائسن ’ Body: A Guide for Occupants‘ میں اپنی تمام شاعری اور صحت سے متعلق درست معلومات کو ’جسم کے گرم گوشت‘ سے جوڑتے ہیں جو ان کے بقول ہماری روح کا گھر ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ کتاب ان حقائق سے بھری پڑی ہے جن پر رات گئے تک کسی شراب خانے میں بیٹھ کر بحث کی جا سکتی ہے لیکن یہاں میرے کچھ پسندیدہ نکات ہیں۔

1:  رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کے اندازے کے مطابق آپ کے جسم کو دوبارہ بنانے کے لیے 96,546.79  پاؤنڈ (19,080,740 پاکستانی روپے) لاگت آئے گی۔ برائسن کی کتاب میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ انسان بہت سے عام اور کئی پیچیدہ عناصر کا مرکب ہے۔ ہم روزمرہ عناصر کے ایک مکس پر مشتمل ہیں جو ان حیرت انگیز پیچیدہ نظاموں کی وجہ سے تیار ہوا ہے جسے سائنس دان آج بھی سمجھنے سے قاصر ہیں۔

اعداد و شمار کے لحاظ سے آپ 61 فیصد آکسیجن (قیمت 8.90 پاؤنڈ) اور 10 فیصد ہائیڈروجن (£ 16) پر مشتمل ہیں جو عام طور پر پانی بنانے کے لیے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔

جب ہم کاربن کی بات کرتے ہیں تو اس کی قیمت زیادہ ہوجاتی ہے۔ 13.6 کلو گرام کاربن کی مالیت 44300 پاؤنڈ ہے۔ جسم کی باقی چیزیں کیلشیم، فاسفورس، پوٹاشیم یا دیگر غیر معمولی عناصر بناتے ہیں۔

لیکن جیسا کہ برائسن لکھتے ہیں: ’اس بات کی زیادہ اہمیت نہیں ہے۔ آپ ان تمام ذہین ترین لوگوں کو اکٹھا کرسکتے ہیں جو اب زندہ ہیں یا کبھی زندہ تھے اور اگر انہیں تمام انسانی علم سے نواز بھی دیں تب بھی وہ ایک زندہ خلیہ بنانے کے قابل نہیں ہیں۔

2: آپ روزانہ کینسر میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ آپ کیا کرتے اگر آپ کا مدافعتی نظام قدرتی طور پر آپ کا دفاع  نہ کر رہا ہوتا؟ ’ایک اندازے کے مطابق ہر روز آپ کے ایک اور پانچ کے درمیان خلیات کینسر کا شکار ہوجاتے ہیں لیکن آپ کا مدافعتی نظام ان کو پکڑ کر ہلاک کردیتا ہے۔‘

اور یہاں صرف ایک مدافعتی نظام نہیں ہے۔ ہر فرد کا مدافعتی نظام انوکھا اورقابل تبدیل ہو سکتا ہے۔ اگر آپ دباؤ یا تھکاوٹ کا شکار ہیں تو یہ مختلف ہوتا ہے۔ تب بھی، حیرت کی بات نہیں کہ بہت ساری بیماریوں کے بارے میں ہماری معلومات غیر واضح ہیں۔ اگرچہ جسمانی قوت مدافعت کو بہتر بنانے والی تکنیک بعض قسم کے کینسر کے خلاف کامیاب ثابت ہورہی ہے لیکن دیگر علاقوں میں یہ بری طرح ناکام ہو جاتی ہے۔

الرجی سمیت دیگر مسائل پر مشتمل آٹو اِمیون ڈیزیز میں آپ کا اپنا مدافعتی نظام آپ کے خلاف کام کرتا ہے۔ اس کے بارے میں ہم بہت کم جان پائے ہیں اور یہ ابھی تک لاعلاج ہے۔ برائسن لکھتے ہیں کہ 80 فیصد خواتین اس کا شکار ہیں۔

3: آپ کی نسل آپ کے جسم میں ایک ملی میٹر گہرائی کے اندر ہے۔ برائسن نے ایک سرجن کا حوالہ دیا جنہوں نے جلد کی ایک باریک پرت کو کھینچتے ہوئے کہا: ’آپ کی نسل بس اتنی ہی ہے۔ جلد کا ایک ٹکرا۔ جیسے جیسے ہم (سفید فام) پوری دنیا میں پھیل چکے ہیں ہمارے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ کمزور دھوپ سے وٹامن ڈی حاصل کرنے کے لیے ہماری جلد کا رنگ ہلکا ہوتا گیا۔ پوری انسانی تاریخ میں لوگوں کی رنگت ان کے ماحول سے مطابقت رکھتی ہے۔

’اور پھر تاریخ کے توسط سے یہ بھی یہ دیکھنا چاہیے کہ کتنے لوگوں کو ان جلد کی رنگت کی وجہ سے غلام بنایا گیا، ان سے نفرت کی جاتی رہی ہے یا انھیں بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔‘

4: آپ صرف دو پاؤں پر چلنے کے لیے نہیں بنائے گئے۔ انسان کی بندر نما پہلی نسل جب درختوں سے نیچے آئی تو انہیں سیدھے چلنے کا ایک ارتقائی فائدہ تھا، وہ یہ کہ ہم مزید آگے دیکھ سکتے تھے۔ لیکن زندگی گزارنے کے لیے ہمارا ڈھانچہ دو نہیں بلکہ چار پاؤں پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔

برائسن لکھتے ہیں: ’سیدھا کھڑا ہونے سے ہماری ان کارٹلیج ڈسکس (نرم ہڈیوں) پر اضافی دباؤ پڑتا ہے جو ریڑھ کی ہڈی کو سہارا دیتی ہیں۔ سیدھا کھڑا ہونے کے نتیجے میں وہ اپنی اصل جگہ سے ہٹ جاتی ہیں اور یہ بیماری عموماً سلِپڈ ڈسک کے نام سے جانی جاتی ہے۔ کمر میں درد عام بیماری ہے اور 60 فیصد بالغ افراد اس بیماری سے دوچار ہیں۔ ہمارے گھٹنے اور کولہے کے جوڑ اس گھماؤ کے لیے نہیں بنائے گئے جن سے ہم یہ کام لے رہے ہیں۔

لیکن ہم نے دو پاؤں پر چلنے کی حقیقی قیمت ادا کی ہے جیسا کہ کوئی بھی قریبی لیبر وارڈ اس کی گواہی دے سکتا۔ برائسن لکھتے ہیں: ’سب سے بڑھ کر نئی چال کو اپنانے سے بچوں کی ولادت کے دوران خواتین کو بہت زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس دوران انہیں موت کا خطرہ بھی لاحق ہوتا ہے۔ حالیہ دور میں بھی کرہ ارض پر کسی بھی جانور کی ولادت کے مقابلے میں کسی انسان کے مرنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے اور شاید اب تک ولادت کے وقت کسی جانور کو بھی اتنی تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جتنا ایک انسان کو کرنا پڑتا ہے۔‘

5: ہر سال آپ کی آدھا کلو جلد جھڑ جاتی ہے۔ انسانی جسم کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ’دی باڈی: آ گائیڈ فار آکوپینٹ‘ پڑھیں۔ تاہم پنیر کے ساتھ بنائے گئے پاستا کے پیالے کے ساتھ اسے پڑھنے سے گریز کریں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس