سندھ میں دوست سے ناراض نوجوان کی فیس بک پر لائیو خودکشی

میرپور ماتھیلو کے منیر نے اپنے ناراض دوست کے گاؤں جا کر انہیں باہر بلایا لیکن دوست کے نہ آنے کے بعد فیس بک پر لائیو ہو کرخودکشی کر لی ۔

منیر نے اپنے دوستوں کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا  اگر ان سے کوئی غلطی ہوگئی ہو تو انہیں معاف کردیں(سوشل میڈیا)

 

شمالی سندھ کے ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپور ماتھیلو کے ایک گاؤں میں 25 سالہ نوجوان منیر احمد کلوڑ نے دوست کی ناراضگی کے بعد اپنے فیس بک آئی ڈی سے لائیو پستول سے خودکشی کرلی۔

کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، جس میں کسی نے فیس بک لائیو پر خودکشی کی۔

تحصیل میرپور ماتھیلو کے شہرعادل پور سے نزدیک گاؤں دین محمد کلوڑ کے رہائشی منیر نے اپنے ناراض دوست کے گاؤں پیر بخش گبول جا کر فیس بک پر لائیو ہونے کے بعد خودکشی کر لی۔

منیر نے  فیس بک لائیو میں کہا کہ وہ اپنے ناراض دوست کے گاؤں میں آئے ہیں اور اپنے دوست کو بلایا ہے، اگر وہ نہیں آیا تو میں خودکشی کرلوں گا۔

انہوں نے لائیو ویڈیو میں روتے ہوئے کہا دوستو کبھی عشق مت کرنا، میں عشق میں مجبور ہوں اور وہ بار بار کہتے رہے کہ انہیں خود کشی کی ہمت نہیں ہو رہی۔

منیر نے سندھی زبان میں بات کرتے ہوئے کہا: ’میں کامران خان لغاری کو بہت مِس کروں گا، کامران میری زندگی کا بہترین حصہ رہا ہے۔ بہرحال اب بہت دیکھ لیا، بہت سوچ لیا۔‘

انہوں نے اپنے دوستوں کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا اگر ان سے کوئی غلطی ہوگئی ہو تو انہیں معاف کردیں، یہ کہتے ہوئے انہون نے ہاتھ میں پکڑے پستول کو سر پر رکھ کر فائر کر دیا۔

واقعے کی اطلاع پر جروار پولیس نے پستول، موبائل فون اور ایک موٹر سائیکل تحویل میں لیتے ہوئے لاش کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میرپور ماتھیلو منتقل کردیا۔

اس واقعے کی کوریج کرنے والے سندھی اخبار روزنامہ ’کاوش‘ میرپورماتھیلو کے رپورٹر لطیف لغاری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ منیر غیر شادی شدہ تھے۔ ان کی ایک بہن اور دو بھائی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے منیر کے والد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا چار دن ہوئے گھر سے غائب تھا اور بعد میں انہیں اس کی لاش ملی۔

’منیر کی اپنے پڑوسی گاؤں کے ایک نوجوان سے بہت اچھی دوستی تھی، دونوں شام میں ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے تھے اور ساتھ گھومنے جاتے تھے۔ جب منیر کی لاش ہسپتال میں تھی تو ان کا دوست، جس کی وجہ سے خودکشی کی، وہ بھی آیا اور اس نے بتایا کہ اس کی منیر سے کوئی ناراضگی نہیں تھی، مگر ابھی تک اصل وجہ سامنے نہیں آسکی۔‘

منیر کی تقریباً پانچ منٹ کی لائیو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ۔ اس خبر کے رپورٹ ہونے تک فیس بک انتظامیہ نے اس ویڈیو کو نہیں ہٹایا تھا۔ کئی سوشل میڈیا صارفین نے واقعے پر افسوس کرتے ہوئے اپیل کی کہ اس ویڈیو کو مزید شیئر کرنے سے گریز کیا جائے ورنہ نوجوان اس ویڈیو کو دیکھ کر ایسا عمل کرسکتے ہیں۔

غازی جھنڈیر نامی صارف نے اپنے فیس بک پر لکھا ’منیر کلوڑ کی خودکشی والی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے سے دیگر نوجوانوں پر منفی اثر ہوگا، اس لیے اسے شیئر کرنے سے پرہیز کیا جائے۔‘

مقامی پولیس نے اس کیس کی تاحال کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی۔ جروار تھانے کے ہیڈ کانسٹیبل شبیر ابڑو نے انڈپینڈنٹ اردو کو فون پر بتایا: ’ہم ابھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ یہ خودکشی تھی یا قتل۔ جس کے بعد ہی کیس درج کرنے فیصلہ کیا جائے گا۔ مگر چونکہ مرنے والے نے فیس بک پر لائیو خودکشی کی لہذا اس صورتحال میں ہم کس پر ایف آئی آر درج کریں؟ خودکشی کی کوشش کرنے والے پر کیس درج کیا جاتا ہے مگر اس کیس میں وہ خودکشی کرچکے تو اب کس کو ذمے دار قرار دیں۔‘

انھوں نے مزید کہا پولیس تحقیقات کررہی ہے کہ جونوان نے جس پستول سے خودکشی کی وہ کہاں سے آیا اور کس کی ملکیت ہے۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر لکیش کھتری نے کہا: ’کسی بھی شخص میں نفسیاتی خلل کے باعث کسی بات پر ذہنی بریک ڈاؤن ہوسکتا ہے، جس کے بعد وہ کسی بھی سطح پر جاسکتا ہے۔ ایسی ویڈیو کے فیس بک پر رہنے سے نہ صرف صارفین خوف میں مبتلا ہوسکتے ہیں بلکہ کمزور دل افراد کو ڈپریشن ہوسکتا ہے اور اگر ایسے واقعے کو سراہا گیا اور خودکشی کرنے والے کو ہیرو بنایا گیا تو خدشہ ہے کچھ نادان نوجوان بھی ایسا کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔ اس لیے فیس بک انتظامیہ کو فوری طور پر اس ویڈیو کو ہٹا دینا چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان