’چینی حراستی مراکز میں مسلمان خواتین کا گینگ ریپ کیا جاتا ہے‘

2017 سےچین میں دس لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو زیر حراست رکھا جا رہا ہے، جن میں اکثریت  کا تعلق سنکیانگ سے  ہے (اے ایف پی)

چین کے ’تربیتی ‘ کیمپ سے فرار ہونے والی ایک مسلمان خاتون نے بتایا ہے کہ کیمپوں میں قیدیوں کو اجتماعی ریپ، تشدد اور سائنسی تجربات کا نشانہ بنانے کے علاوہ سور کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

سیرہ گل سیوتبے قازق نسل کی چینی مسلمان ہیں۔ سیرہ کے مطابق انہیں نومبر 2017 میں حراست میں لیا گیا تھا۔

اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے مطابق 43 سالہ استاد سیرہ کو مسلح افراد کیمپ تک لے کر گئے تھے، جہاں وہ کئی ماہ تک رہیں۔ انہیں چینی قیدیوں کو پڑھانے کا کہا گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے ’وہاں قیدیوں سے بات کرنے، ہنسنے یا رونے اور کسی کے سوال کا جواب دینے پر پابندی تھی۔ وہاں 16 مربع میٹر کے کمرے میں 20 لوگ رکھے جاتے تھے، کمروں میں کیمرے موجود تھے یہاں تک کے برآمدے میں بھی ہر جگہ کیمرے نصب تھے۔‘

’ہر کمرے میں ٹوائلٹ کے لیے ایک بالٹی موجود رہتی تھی۔ قیدیوں کو ٹوائلٹ استعمال کرنے کے لیے دو منٹ دیے جاتے تھے اور اس بالٹی کو دن میں صرف ایک بار خالی کیا جاتا تھا۔‘

سیرہ کا کہنا ہے کہ خواتین کو منظم انداز سے ریپ کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور انہیں بھی ایک خاتون کو بار بار تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھنے پر مجبور کیا گیا۔

انہوں نے ہاریٹرز کو بتایا:’ پولیس اہلکاروں نے اس خاتون کو برہنہ ہونے کا کہا اور باری باری اس کا ریپ کیا۔ ایسا سب کے سامنے کیا جا رہا تھا، جب وہ اس کا ریپ کر رہے تھے تو وہ ہمیں دیکھ رہے تھے تاکہ ہمارا رد عمل جان سکیں۔ ‘

’وہ لوگ جو نیچے دیکھ رہے تھے یا آنکھیں بند کر رہے تھے یا وہ افراد جو غصے یا صدمے میں نظر آرہے تھے انہیں وہاں سے لے جایا گیا اور پھر ہم نے انہیں کبھی نہیں دیکھا۔ یہ بہت اذیت ناک تھا، میں لاچارگی کا وہ احساس کبھی نہیں بھول سکتی، میں اس کی مدد نہیں کر سکی، یہ بات میں کبھی نہیں بھولوں گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا’ تقریباً روز ہی پولیس اہلکار خوبصورت قیدی خواتین کو ساتھ لے جاتے اور وہ پوری پوری رات واپس نہیں آتی تھیں۔‘

خیال ہے کہ چین میں 2017 سے دس لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو زیر حراست رکھا جا رہا ہے، جن میں اکثریت سنکیانگ سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی ہے۔

حالیہ مہینوں میں ان کیمپوں کے حوالے سے عالمی برادی نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے چینی اقلیتوں سے بیجنگ کے سلوک کو ’اس صدی کا سب سے بڑا داغ‘ قرار دیا ۔

سیرہ کے مطابق تشدد کے علاوہ قیدیوں پر عجیب و غریب تجربات بھی کیے جاتے تھے۔

ان کا کہنا ہے ’ قیدیوں کو انجیکشن یا گولیاں دی جاتی تھیں، جو ان پر مختلف انداز سے اثر کرتی تھیں۔ کچھ قیدیوں کو جانتے بوجھتے کمزور کیا جا رہا تھا۔ خواتین کو ماہواری نہیں آ رہی تھی اور مرد اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں تھے۔‘

43 سالہ سیرہ کو قیدیوں کو کمیونسٹ پارٹی کے گانے اور نعرے سکھانے کا کہا گیا تھا۔

کیمپ میں پڑھانے کی وجہ سے وہ اس بدتر سلوک سے محفوظ رہیں۔ ان کا کہنا ہے :’ قیدیوں کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ ’مجھے چین سے محبت ہے‘ جیسے نعرے لگائیں، یا ’ کمیونسٹ پارٹی کا شکریہ‘ یا ’میں چینی ہوں مجھے شی جن پنگ سے پیار ہے‘ جیسے نعرے سکھائے جاتے تھے۔ ان کے مطابق تمام قیدیوں بشمول مسلمانوں کو سور کا گوشت کھانے پر مجبور کیا جاتا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’وہاں کا کھانا بہت برا تھا اور سونے کے لیے دیا جانے والا وقت بھی کافی نہیں ہوتا تھا۔ صفائی کی صورتحال بھی ابتر تھی۔‘

مارچ 2018 میں سیرہ کو آزاد کیا گیا تاکہ وہ اپنے پانچ نرسریوں کی ڈائریکٹر کی سابقہ ملازمت کو جاری رکھ سکیں۔ ان کے واپس آنے کے تین دن بعد انہیں نوکری سے برخاست کر دیا گیا اور پولیس نے پھر سے ان کی تفتیش کی، جس کے بعد انہیں غدار قرار دے دیا گیا۔

سیرہ کو بتایا گیا کہ اب وہ استاد کے بجائے قیدی کے روپ میں کیمپ واپس جائیں گی۔

ان کا کہنا ہے :’ کیمپ میں رہنے کے بعد میں جانتی تھی اس کا کیا مطلب ہے۔ میں جانتی تھیں وہاں جو ہو رہا ہے ،میں اس کو برداشت نہیں کر سکوں گی بلکہ مر جاؤں گی۔ میں نے خود سے کہا اگر میری قسمت میں ایسے ہی مرنا لکھا ہے تو میں فرار ہونے کی کوشش کروں گی۔‘

وہ کھڑکی سے اپنے ہمسائے کے گھر کودنے اور وہاں سے ٹیکسی پر قازقستان کی سرحد تک گئیں جہاں انہوں نے کامیابی سے سرحد پار کر لی۔

سیرہ کہتی ہیں:’ قازقستان میں مجھے میرے خاندان والے مل گئے، میرا خواب پورا ہو گیا، میں اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہتی تھی۔‘

سیرہ کو قازقستان کی سیکریٹ سروس نے سرحد پار کرنے پر گرفتار کیا لیکن پھر انہیں سویڈن میں سیاسی پناہ مل گئی۔

 ان کا کہنا ہے ’ دنیا کو اس مسئلے کا حل ڈھونڈنا ہو گا تاکہ میرے لوگ سکون سے رہ سکیں۔ جمہوری حکومتوں کو چین کو ان اقدامات سے باز رکھنے کے لیے وہ سب کرنا ہوگا جو وہ کر سکتے ہیں۔‘

بیجنگ نے سیرہ کے الزامات کی تردید کی ہے۔ دی انڈپینڈنٹ نے لندن میں واقع چینی سفارت خانے سے اس بارے میں موقف لینے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی