کام کے دوران 50 فیصد فنکار جنسی ہراسانی کا نشانہ بنتے ہیں: تحقیق

نئی تحقیق کے مطابق دو تہائی فنکار خود کو ہراسانی کا متوقع نشانہ اس لیے بھی زیادہ سمجھتے ہیں کہ وہ مستقل ملازمت کے بجائے فری لانسر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ خاموش رہنے کا یہ فیصلہ ’انڈسٹری کے کلچر‘ کے مطابق ہے(اے ایف پی)

حال ہی میں سامنے آنے والی ایک تحقیق کے مطابق پچاس فیصد موسیقاروں کو کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

میوزیشن یونین جو 30 ہزار موسیقاروں کی نمائندگی کرتی ہے کی تحقیق کے مطابق 85 فیصد متاثرین نے ہراسانی کے واقعات کو رپورٹ بھی نہیں کیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ خاموش رہنے کا یہ فیصلہ ’انڈسٹری کے کلچر‘ کے مطابق ہے۔

 تحقیق کے مطابق دو تہائی فنکار خود کو ہراسانی کا متوقع نشانہ اس لیے بھی زیادہ سمجھتے ہیں کہ وہ مستقل ملازمت کے بجائے فری لانسر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

میوزک یونین کے 90 فیصد فنکار فری لانسنگ پر کام کرتے ہیں۔ ان 90 فیصد میں ہر پانچ میں سے صرف ایک فرد کے کنٹریکٹ میں جنسی ہراسانی سے نمٹنے کے طریقہ کار درج ہیں۔

میوزیشن یونین جس نے اس سروے کے لیے 725 موسیقاروں کی رائے لی، نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فری لانسرز کے تحفظ کے لیے قوانین پر ’فوری طور پر نظر ثانی‘ کرے اور اسے بھی 2010 کے ایکوایلٹی ایکٹ میں شامل کیا جائے گا۔

سروے کے مطابق 55 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ کام کرنے کی جگہ کا کلچر موسیقاروں کی جانب سے ہراسانی کے خلاف آواز اٹھانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔

 41 فیصد متاثرین کو نوکری ختم ہونے کا ڈر ہوتا ہے جبکہ ایک تہائی کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ ان کے الزامات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا یا ان کی بات پر یقین نہیں کیا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک خاتون نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا: ’میں نے انڈسٹری کی ایک بڑی کمپنی کے مالک کو ایک بڑی شخصیت کی جانب سے جنسی ہراسانی کی کوشش کا بتایا۔ میں دس خواتین میں سے ایک تھی جنہوں نے اسی شخص کے بارے میں یہ شکایت کی لیکن میری اطلاعات کے مطابق اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔‘

انہوں نے کہا: ’ہم فری لانسر میوزیشن ہیں اور یہ واقعات اس وقت ہوئے جب ہم ایک ٹور پر تھے۔ مجھے میری شکایت پر بتایا گیا تھا کہ یہ بس ’لڑکوں کا کلچر‘ ہے۔ مجھے حیرت نہیں کہ ایسے بہت سے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔‘

میوزیشن یونین نے اس حوالے سے ایک پیٹیشن دائر کی ہے جس میں فری لانسرز کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے موثر قوانین بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملازمین کو اس قسم کی بد سلوکی سے محفوظ رکھنا کمپنیوں کے لیے لازم قرار دیا جائے۔ اس حوالے سے ضابطے اور قوانین بھی وضح کیے جائیں۔

یونین کے سیکرٹری ناؤمی پوہل کا کہنا تھا: ’ہمیں ایسے بہت سے واقعات کا علم ہے جس میں با صلاحیت موسیقار، خاص طور پر نوجوان فنکار انڈسٹری چھوڑ رہے ہیں جس کی وجوہات صنفی امتیاز، جنسی ہراسانی اور بدسلوکی ہیں۔ کئی موسیقار جنہوں نے اس سلوک کے بارے میں بات کی ہے انہیں ہتک عزت کے مقدمات کا سامنا ہے۔ یہ اس صورت حال کی سنگینی کا ثبوت ہے۔ ان واقعات کے شکار افراد نتائج کے ڈر سے بولنے سے کتراتے ہیں کیونکہ ایسا کرنا ان کے کرئیر اور ذاتی زندگی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ زیادہ تر واقعات میں متاثرین ملازمت یا انڈسٹری ہی چھوڑ دیتے ہیں جبکہ ذمہ داران کو کسی قسم کے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔‘

12 سو 27 موسیقاروں کا امریکی سروے جو میوزک انڈسٹری ریسرچ ایسوسی ایشن نے گذشتہ سال کیا تھا، اس کے مطابق 72 فیصد خواتین فنکاروں کو اپنی جنس کی بنیاد پر تعصب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دو تہائی کے مطابق انہیں جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔

اینڈ وائلنس اگینسٹ ویمن نامی تنظیم کی ربیکہ ہچن کہتی ہیں: ’خواتین موسیقاروں کی ایک بہت بڑی تعداد جو جنسی ہراسانی اور تشدد کا نشانہ بنتی ہے اور اگر وہ اس بارے میں بات کریں تو انہیں اس کے نتائج اور ردعمل بھگتنا پڑتا ہے۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ خواتین کو اس معاملے میں خاموش کرانے کے لیے لائبل کے قانون کو استعمال کیا جا رہا ہے جیسا کہ ’سالیڈیریٹی ناٹ سائلنس‘ کی مہم میں سامنے آیا ہے اور یہ بہت مشکل صورت حال ہے۔ میوزک انڈسٹری پر مردوں کا غلبہ ہے جو استحصال کی وجہ بنتا ہے اور اس حوالے سے ضوابط بہت کم ہیں۔ ہمیں ہراسانی کو روکنے اور اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی حمایت کرنی ہوگی‘

محکمہ حقوق نسواں کی سینئیر قانونی افسر دیبا سید کا کہنا ہے کہ ’فری لانسرز کے تحفظ کے لیے قوانین کو بدلنا ہوگا تاکہ وہ یہ سمجھ سکیں کو ذمہ داروں کو احتساب کا سامنا کرنا ہوگا۔‘

لابی گروپ یو کے میوزک کے چیف ایگزیکٹو مائیکل دوغر کہتے ہیں کہ وہ اس تحقیق کو خوش آمدید کہتے ہیں اور گروپ کے ارکان کے ساتھ اس بارے میں بات چیت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا: ’یو کے میوزک جنسی ہراسانی اور بدسلوکی کے الزامات کو بہت سنگین معاملہ سمجھتا ہے اور ہم انڈسٹری میں بہترین طرز عمل کو فروغ دیتے ہیں۔‘

محکمہ مساوات کے ترجمان نے کہا: ’جنسی ہراسانی ایک قابل نفرت عمل ہے اور اسے ہر حال میں روکنا چاہیے۔ اسی ماہ کے آغاز پر ہم نے مشاورت کی ہے کہ قوانین کو کس طرح سے بہتر بنایا جا سکتا ہے اور ہم اس حوالے سے ملنے والے تمام جوابات کو بغور دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے ایسے واقعات کے سدباب کے لیے کئی اقدامات کی تجویز دی ہے جو قوانین کو واضح اور مضبوط کریں گے تاکہ ہم کام کی جگہ پر بدسلوکی کا سامنا کرنے والے افراد کا تحفظ یقینی بنا سکیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی