بارسلونا ڈائری: پاکستانی مزدور جو اب کھرب پتی ہے

کون جانتا تھا کہ ٹھٹھرتی سردیوں میں سرائے عالمگیر کے چھوٹے سے گاؤں سے سکول کے لیے جانے والا نوجوان 30 سال بعد وہ مہ و سال کی حالت بدل کر رکھ دے گا۔

ایل کوندس کا شمار سپین کے بڑے سپر سٹوروں میں ہوتا ہے (ایل کوندس)

ہسپانیہ میں امیر بھی بہت ہیں اور امیر پاکستانیوں کی بھی کمی نہیں، لیکن ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو ترقی تو کرتے ہیں مگر اس کے فیوض و برکات ان کی اپنی ذاتِ بابرکت کے ارد گرد دھویں کے ہیولے کی طرح منڈلاتے رہتے ہیں۔

لیکن انہی میں سے ایک پاکستانی ایسے ہیں جن کی پاکستانیت اس چھتنار درخت کی طرح ہے جس کے مہربان سائے اب ہسپانیہ سے نکل کر پاکستان تک پھیل چکے ہیں اور جنہوں نے پاکستان میں کروڑوں یوروز مالیت کی فرینچائز کھولنے کے سلسلے کا آغاز کر دیا ہے۔  

نہر اپرجہلم اور دریائے جہلم کے بیچ سرائے عالمگیر سے کچھ ہی فاصلے پر ایک گاؤں آباد ہے بنام گُڑھا جٹاں۔ یہ کہانی اسی گاؤں کے ایک نوجوان کی ہے۔

عین جوانی میں وہ ہسپانیہ چلا آیا اور بارسلونا کے علاقے کو ڈیرہ بنایا۔ اول اول اس نے عام مزدور کی طرح کام کے لیے دوڑ دھوپ کی۔ ہماری اولین ملاقاتوں میں گو ہمیں اس کا رنگ اور ڈھنگ دیکھ کر احساس ضرور ہوا کہ مزدوری میں دوڑ زیادہ اور دُھوپ کم لگی۔ دُکان داری کو بطور کاروبار اپنایا پھر اُس کے بقول اس نے ایک خواب دیکھا: ’مجھے پاکستانی کمیونٹی کا سب سے بڑا کاروباری شخص بننا ہے!‘

وقت کا پہیہ چلتا رہا اور یہ ساتھ دوڑتے دوڑتے ہسپانیہ کی ایک خوراک اور غذائی مصنوعات کے برانڈ ’ایل کوندِس‘(El Condis) کے ساتھ مُنسلک ہو گیا۔ ایک سے دو، دو سے چار پھر ایل کوندِس کی دسیوں فرنچائزوں کا مالک بنا۔ وہ پہلا پاکستانی نژاد ہے جِسے پاکستانی کمیونٹی میں کاروبار کو فروغ دینے پر حکومتِ کاتالونیہ نے اعزاز سے نوازا۔ یہ عمومی تعارف ہے جِس میں راقم الحروف پہلے ہی کافی فریڈم لے چُکا ہے۔

تو صاحبانِ من! اب سیدھی تِیر کی طرح کہانی سُنیے۔ چوہدری امانت حسین مہر کو گذشتہ 11 سال میں صرف دو دفعہ ہم ان کے دفتر میں ملے۔ پہلی دفعہ قُربتِ علاقہ کی وجہ سے اور دوسری دفعہ ایک انٹرویو کے لیے۔

اوّل اوّل وہ کبڈی، والی بال کے مقابلوں میں دیکھے جاتے بطور مہمان خصوصی، اُن کی ضیافتوں، ظہرانوں اور عشائیوں میں چرچے ملتے، پھر پاکستانی ثقافتی میلوں میں پائے جاتے، کبھی پاکستانی سیاست دان اور اعلیٰ حکومتی عہدے دار یا خیراتی ادارے جیسے شوکت خانم ہسپتال، صحافی حضرات اور شعرا، جو ہسپانیہ میں وارد ہوتے اُن کی میزبانی کرتے نظر آتے۔

یہاں پر اکثر کیمروں کے پیچھے بننے والی خبروں میں اور خبر بنانے والے کے سر پہ وہی رہے ہیں اور تاوقت ہیں۔ چونکہ ہمارے لیے ہر چیز کو خود دیکھ کرلکھنا ضروری ہے چنانچہ ہم نے دیکھا کہ وہ کبڈی اور والی بال کے میدانوں سے اُوپر اُٹھے، عین 180 کے زاویے پہ مُڑے اور کرکٹ کی طرف متوجہ ہوئے۔

کاتالان کرکٹ فیڈریشن پہ پیسہ لگایا بلکہ بہایا، اپنا شُجاع والی بال کلب تو تھا ہی مگر فیڈریشن کے ایک پراجیکٹ میں جب کلبوں کی بولی لگی تو لاہور قلندرز کرکٹ کلب خریدا اور سب سے مہنگے داموں۔ جو ٹیمیں زیرِسرپرستی تھیں ان کو بھی ساتھ رکھا۔

بارسلونا کے مضافات میں واقع شجاع کرکٹ گراؤنڈ انہی کی سرپرستی میں بنا۔ یہ کرکٹ فیڈریشن کی ملکیت میں دوسرا کرکٹ گراؤنڈ ہے۔ پہلا کرکٹ فیڈریشن کے صدر نے فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے خالد شہباز چوہان نے بنوایا اور اُن کے بعد فیڈریشن کی باڈی تو بذریعہ الیکشن ضرور بنی مگر آج تک مالی اور اخلاقی معاونت کا ایک قابل ذکر حصہ چوہدری امانت حسین مہر کے دم سے ہے۔

اُنہوں نے پاکستانی کمیونٹی اِن بارسلونا کے لیے ہر شعبے، سماجیات، سیاسیات، کاروبار، کھیل، ثقافت کو پروموٹ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا اور وہ جو کوئی اور ’پیسے والا‘ نہ کر سکا۔

گو کوشش بہت لوگوں نے کی مگر پیسہ لگانے اور وارنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یوں بھی صحت، خد و خال پہ ایک عارفانہ نظر ڈال لی جائے تو سِلم، سمارٹ اور سیکسی وہی شخص ہوتا ہے جو پسینے کی بجائے دماغ کا تیل خرچ کرنے میں زیادہ یقین رکھتا ہو۔

چوہدری امانت مہر کاروبار میں ترقی تو کر ہی چکے تھے، مذہب، سیاست، ثقافت، کھیل میں بھی تیراکی کر چکے تھے۔ یہاں ہسپانیہ میں نہیں اپنے گاؤں میں اور تحصیل سرائے عالمگیر کی سطح تک تعلیمی اور فلاحی کاموں میں سرمایہ لگایا۔

اب وہ بارسلونا کے چیمبر آف کامرس کے انتخابات کے لیے پر تولنے لگے مگر ایک ہلکے پُھلکے شخص کو وقت ہی کتنا لگتا ہے، سو وہ انتخابات لڑ گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان انتخابات میں دو پاکستانی تھے، دونوں ہی چوہدری اور دونوں سے ہمارے تعلقات کی نوعیت ’قریبی‘ ہے۔ بس ہم رہتے فاصلے پر ہیں۔ چیمبر آف کامرس پاکستانی کمیونٹی کے لیے وہ دروازہ تھا جو کاروباری اور تجارتی لحاظ سے بند پڑا تھا، اب کُھل چُکا ہے۔

سیاست میں پاکستانی 30 سال سے کسی نہ کسی صورت میں اپنا نام لکھواتے آ رہے ہیں مگر بارسلونا چیمبر آف کامرس جو کاتالونیہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہے وہاں داخل ہونا بہت بڑی بات تھی۔

نام، کام، عزت، شہرت وہ کما چُکے۔ اپنے رُفقا اور خاندان کے لیے مضبوط بُنیاد فراہم کر چُکے اور نجانے کتنے پاکستانیوں کو ایل کوندِس فرنچائز کے مالکانہ حقوق دلوا چُکے مگر بڑا کام آگے تھا جو ہمارے خیال میں محض ایک کام ہی ہے کہ اس بے چین رُوح نے یہ پراجیکٹ مکمل کرنے کے ساتھ یا بعد میں کوئی نیا کٹا کھول لینا ہے، سیاپا پال لینا ہےاور ڈول ڈال لینا ہے۔

یہ نیا پراجیکٹ جس کا راقم الحروف بنفسِ نفیس ناقد رہا ہے، یہ کام نہیں، ایک اور کارنامہ ہے اور بڑا کارنامہ۔

ہسپانیہ کی مشہور فرنچائز ایل کوندس کو پاکستان لے کر جانا ہے۔ یہ پہلا ہسپانوی برانڈ ہے جو غذا اور غذائی مصنوعات لے کر خود پاکستان پہنچا ہے۔ 80 فیصد مصنوعات ان کی پاکستان میں تیار ہوں گی، بقیہ ہسپانیہ سے جائیں گی۔

پاکستان اور ہسپانیہ کا سالانہ تجارتی حُجم کسی طور ڈیڑھ بلین یوروز سے زیادہ نہیں۔ زارا، مانگو جیسی بڑی کمپنیاں مال اُٹھاتی ہیں مگر اُس کے دُور رس نتائج پاکستانی مقامی لوگوں تک محدود تر ہیں۔

چوہدری امانت کی یہ کاوش اس لحاظ سے بھی بڑی ہے کہ 12 بڑے شہروں میں ابتدائی طور پر بڑے ایل کوندِس سُپرسٹور مستقل طور پر پاکستان میں پاکستانیوں سے مال خریدیں گے اور یہ سلسلہ 12 پر نہیں رُکنے والا جس کی ابتدا ایم ایم عالم روڈ لاہور سے ہو رہی ہے۔

بات نکلی ہے تو دور تلک جائے گی اور چوہدری امانت مہر کو جو دھرتی کا بیٹا کہلوانے کا شوق تھا اُس جانب پرواز میں مزید بلندی لائے گی۔

تحصیل سرائے عالمگیر سے پاکستانی کمیونٹی سب سے پہلے ہسپانیہ میں آ براجمان ہوئی مگر قلیل ترین جناتی رفتار سے ترقی اور خدمت ساتھ لے کے چلنے کا سہرا چوہدری امانت مہر کے سر بندھا۔ ہمیں یقین ہے کہ مطلوب و مقصود مومن کے مصداق ایک آدھ مزید سہرے کی وہ گُنجائش پیدا کر لیں گے۔

کون جانتا تھا کہ ٹھٹھرتی سردیوں میں بٹ صاحب کی بس جو ’بٹ دا پہلا ٹائم‘ مشہور تھا، میں گُڑھا جٹاں سے سکول کے لیے جانے والا نوجوان 30 سال بعد نظر ویسا ہی آئے گا جیسا تھا مگر وہ مہ و سال کی حالت بدل کر رکھ دے گا۔

مقام حسرت تو ہے ہی مگر مقامِ عبرت ہے اُن احباب کے لیے جو ترقی تو کرتے ہیں مگر وہ اُس کے فیوض و برکات ان کی ذاتِ بابرکت کے ارد گرد دھویں کے ہیولے کی طرح چھپن چھوت کھیلتے ہیں۔

ایل کوندِس اب چوہدری امانت حسین مہر کی نہیں بلکہ پاکستان کی ملکیت ہے اور چوہدری اپنی پاکستانیت میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی