یورپی ارکانِ پارلیمان کے دورۂ کشمیر کا مقصد کیا ہے؟

یورپ سے آنے والے یہ ارکانِ پارلیمان کن نظریات کے حامل ہیں اور یورپ میں اپنی زندگی میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟

خاص بات یہ ہے کہ ان تمام ارکانِ پارلیمان کا تعلق یورپ کی دائیں بازو کی جماعتوں سے ہے(اے ایف پی/ پی آئی بی)

پچھلے کچھ دن سے انڈین میڈیا پر شور برپا ہے کہ یوروپین ارکانِ پارلیمان کو مودی گورنمنٹ کی طرف سے کشمیر کا دورہ کروایا جائے گا۔

میرا تعلق چونکہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے ہے تو وہاں کے حالات و واقعات پر میری نظر زیادہ رہتی ہے۔ میں اس خبر کے پس منظر پر بات کرنا چاہوں گی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ بقول راہل گاندھی بھارت کے ارکانِ پارلیمان کو تو کشمیر جانے کی اجازت نہیں، لیکن یورپی ارکانِ پارلیمان کا کشمیر میں سواگت کیا جا رہا ہے۔  

پہلے تو میں قارئین کو یہ بتاتی چلوں کہ یہ کوئی سرکاری دورہ نہیں ہے یہ لوگ مودی حکومت کے بلاوے پر آئے ہیں اور اس دورے کے پیچھے معروف بزنس بروکر مادی  شرما کا ہاتھ ہے۔ 

خاص بات یہ ہے کہ ان تمام ارکانِ پارلیمان کا تعلق یورپ کی دائیں بازو کی جماعتوں سے ہے۔ چلیں ان میں سے کچھ کا تعارف کرواتی ہوں تاکہ آپ لوگوں کو تھوڑا اندازہ ہو کہ یہ ایم پی کس نظریہ کے حامل ہیں اور یہ عملی زندگی میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔

تین دن پہلے آپ نے سُنا ہو گا کہ فرانس میں ایک مسجد پر حملہ ہوا جس میں دو 80 سالہ افراد کو حراست میں لیا گیا اور ان دونوں افراد کا تعلق اُسی پارٹی سے ہے جس کے پانچ ارکان اسمبلی اس وقت دورہِ کشمیر پر مامور ہیں مودی گورنمنٹ کی طرف سے اور ان سب کا تعلق نیشنل ریلی کمپین سے ہے۔ ان پانچ ارکان کے نام درج ذیل ہیں:

1- جولی لیکھنٹکس 2- میکذتے پرباکاس۔ 3- ورجینیے جوران۔ 4- فرینس جیمٹ 5- نکولاس بے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ تمام لوگ فرانس میں مسلمان امیگریشن کے خلاف ہیں خصوصاً جو عرب اور افریقہ کے مسلمان ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان کی پارٹی کا موقف ہے کہ پردے پر پابندی لگائی جائے اور فرانس میں نقاب پر پابندی لگانے کی مہم چلانے کا سہرا بھی اسی پارٹی کے سر جاتا ہے۔

2018 میں الجزیرہ نیوز کی انویسٹیگیشن ٹیم نے اس بات کا کھوج لگایا تھا کہ نیشنل ریلی اور یورپ میں موجود اسلام مخالف تنظیمیں جوکہ یورپ سے مسلمانوں کی بے دخلی کے لیے سرگرم عمل ہیں، ان کے آپس میں روابط ہیں۔

اس کے بعد انگلینڈ سے شامل ہونے والے چار ارکان پر نظر ڈالتے ہیں: 

1- ڈیویژن ریچرڈ بُل 2- ایلگزینڈر فیلپس 3- جیمز ویلز 4- نیتھن گِل۔

نیتھن گِل برطانوی سیاست دان نائجل فراج کی نیو بریکسٹ پارٹی کا حصہ ہیں اور ان کا خاصہ ہے مسلمانوں کے خلاف اشتعال اور نفرت انگیز بیانات اور تبصرے کا کھل کر اظہار کرنا۔

اٹلی سے ایک رکن جیانس جینسیا شامل ہیں جو لیگا نارڈ سے منسلک ہیں اور ان کی پارٹی تارکینِ وطن کے خلاف نفرت اور اینٹی امیگرنٹ کمپین کے لیے مشہور ہے۔

بیلجیم سے ٹام وینڈن ڈریشے جن کا تعلق ولام بیلانگ نامی جماعت سے ہے اور ان کی پارٹی خود کو بہت بڑا اسرائیلی حمایتی تصور کرتی ہے اور ان کے مطابق یہ پارٹی اسرائیل کے ساتھ مل کر ریڈیکل اسلام مختلف مہمات چلانے میں ایک دوسرے کے اتحادی ہیں۔

جرمن کی دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیم اے ڈی ایف سے دو رکن شامل ہیں جن کے نام برین ہارڈ زمنوئیک اور لارس پیٹرک برگ ہے یہ بھی مسلمانوں کے اور تارکینِ وطن مہاجرین کے خلاف جرمنی میں سرگرم ہیں۔

سپین VOX سے ہیر من ٹارٹش شامل ہیں جہنوں نے سپین سے دس ہزار مسلمان مہاجرین کو ملک بدر کروایا۔  

اب پولنگ سے تعلق رکھنے والے چار پارلیمنٹیرینز کے ناموں پر نظر ڈالتے ہیں:

1 کوسوموزو لوٹووسکی 2۔ بوگڈن ریزونس 3- جوونا کوپسنسکا 4- گرزیگورز توبووسکی۔

ان سب کا تعلق لا اینڈ جسٹس سے ہے۔

ان کی تنظیم پی آئی ایس پولینڈ میں مہاجرین کے خلاف ایک شرمناک پروپیگنڈا میں مصروفِ عمل ہیں اور ان کی تنظیم کے نظریات کے مطابق مہاجرین اپنے ساتھ انفیکشن اور بیماریاں لے کر آئیں گے جو ہمارے لوگوں میں پھیل سکتی ہیں۔

یہ تو ان ارکانِ پارلیمان کا ان کے اپنے ممالک میں سیاسی کردار ہے جو مودی جی سے کافی ملتا جُلتا ہے۔

جیسے مودی جی اپنے ملک میں فاشسٹ، نسل پرست اور انتہا پسندی کے لیے جانے ہیں ویسے ہی ان ارکانِ پارلیمان نے اپنے ملک میں دوسری اقوام کے خلاف نفرت اور نسل پرستی کو ہوا دی ہے۔

اب اس بات کی طرف آتے ہیں کہ یہ دورہ کیوں رکھا گیا؟

کشمیر میں آج پورے 86 روز ہو گئے ہیں کرفیو کو۔ مواصلاتی نظام سے لے کر تعلیمی اور معاشی نظام سب کچھ میں درہم برہم ہے۔ بیرونِ ملک کشمیری اپنی عزیزوں سے رابطے کے لیے ہر دم پریشان ہیں۔ ہسپتالوں اور میڈیکل سٹوروں کی حالتِ زار قابل رحم ہے۔

اُوپر سے مودی گورنمنٹ نے تمام لوکل، نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا پر کشمیر کے اندر رپورٹنگ پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔  بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں پر بھی انڈیا کی جانب سے پابندی عائد ہے اور اتنی پابندیوں میں گنے چُنے افراد کو کشمیر لے جا کر اپنی آرمی کے ہائی آفیشلز اور پنچائت کے ارکان سے اُن کی ملاقات کروا رہی ہے جبکہ اُسی موقع پر کشمیر کے اندر سری نگر میں شدید قسم کے مظاہرے ہو رہے ہیں اور مختلف علاقوں سے پتھر بازی کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

اسی اثنا میں یو این کا کشمیریوں کے حقوق بحال کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا اور یوروپین پارلیمان کی جانب سے بھی ان 27 ارکان کے دورہ کشمیر سے لاتعلقی کا اعلان بھی سامنے آیا ہے۔

اس ای میل کو دیکھ کر واضح ہو جائے گا کہ یہ وزٹ کن بنیادوں پر کروایا جا رہا ہے اور وہیں انڈین میڈیا کا پروپیگنڈا اسے مودی کی جیت تصور کر کے دنُیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔ 

راہل گاندھی کی ٹویٹ مودی گورنمنٹ پر کشمیر کے اندرونی حالات پر حکومت مخالف سوال کھڑے کر رہی ہے۔  یاد رہے کہ راہل گاندھی کو 24 اگست کو سری نگر ایئرپورٹ سے واپس دہلی بھیج دیا گیا تھا اور وفاقی حکومت کی طرف سے اُنھیں کشمیر میں عام لوگوں سے ملنے کی اجازت تو دُور اُنھیں ایئرپورٹ سے باہر آنے کی بھی اجازت نہ ملی تھی۔ 

وہیں اگر ہم دیکھیں کہ کانگریس کے ایک اور فعال رکن پارلیمان غلام نبی آزاد جن کا اپنا تعلق بھارتی زیر انتظام جموں کشمیرسے ہے اُنہیں بھی ایئرپورٹ سے واپس دہلی بھیجا گیا مگر وادی میں جانے کی اجازت نہ دی گئی۔

جب انسانی حقوق کی تنظیمیں اور انڈیا کی سیاسی سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں رکھتیں وہیں ان حالات میں ان ارکانِ پارلیمان کو ذاتی حیثیت میں کشمیر بلانا اور وہ بھی اُس دن جس دن کشمیر میں میڑک کا پہلا پیپر تھا۔

اس کا مقصد تو ان لوگوں کو تعلیمی اداروں کی سیر کروانا ہے تاکہ انہیں باور کروایا جائے کہ کشمیر میں تعلیمی نظام بالکل ٹھیک چل رہا ہے۔ امتحانات اپنے وقت پر ہو رہے ہیں جبکہ دنیا جانتی ہے کہ 86 دن سے سکول، کالج اور یونیورسٹیاں بند پڑی ہیں۔ کیونکہ والدین کا کہنا ہے کہ ہم اپنے بچے سکول بھیجنے سے ڈرتے ہیں۔ ہم ڈرتے ہیں کیونکہ انٹرنیٹ فون سب بند ہے تو ہم اپنے بچوں کی خیریت کیسے دریافت کریں گے؟

اب دیکھنا یہ ہے کہ ان حالات میں یہ ارکانِ پارلیمان کس طرح مودی سرکار کے پروپیگنڈا کو یوروپین پارلیمنٹ میں اور یورپ میں پیش کریں گے۔ ظاہر ہے اتنی خاطر کے بعد وہ مودی جی کے حق میں دو شبد تو بولیں گے ہی۔

اگر مودی جی کو لگتا ہے کہ ایسے وہ کشمیریوں کے دل جیت سکتے ہیں تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا