فردوس عاشق اعوان کو کریمنل توہین عدالت کا نیا نوٹس جاری

معاون خصوصی برائے اطلاعات نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے طبی بنیادوں پر ضمانت پر پریس کانفرنس میں عدالت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس کے جواب میں عدالت ان شو کاز نوٹس جاری کیا۔

اپنی صفائی میں  فردوس عاشق اعوان نے عدالت میں کہا: ’میں عدلیہ کی توقیر میں کمی کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ میں غیر مشروط معافی مانگتی ہوں اور میں مستقبل میں مزید محتاط رہوں گی۔‘ (ریڈیو پاکستان)

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جمعے کو وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ جج پر ذاتی تنقید پر عدالتیں ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

رواں ہفتے فردوس عاشق اعوان نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے طبی بنیادوں پر ضمانت پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے عدالت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایک ملزم کو خصوصی رعایت دینے کے لیے شام کے وقت عدالت لگائی گئی۔‘

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فردوس عاشق اعوان کے بیان کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جس کی سماعت جمعے کو ہوئی۔ اس دوران فردوس عاشق کی جانب سے غیر مشروط معافی مانگنے پر توہین عدالت کا پہلا نوٹس واپس لے لیا گیا جبکہ زیر التوا کیس پر اثر انداز ہونے اور تضحیک پر کریمنل توہین عدالت کا نیا نوٹس جاری کر دیا گیا۔

اپنی صفائی میں  فردوس عاشق اعوان نے عدالت میں کہا: ’میں عدلیہ کی توقیر میں کمی کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ میں غیر مشروط معافی مانگتی ہوں اور میں مستقبل میں مزید محتاط رہوں گی۔‘

 اس کے جواب میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’عدلیہ کی توقیر میں کمی آپ کے الفاظ سے نہیں ہوتی۔ ہمارے فیصلوں سے عدلیہ کی توقیر میں کمی ہو سکتی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ ڈیل ہو گئی، پوچھیں کیا کسی نے ججز کو اپروچ کیا ہے؟‘

جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا: ’میں آپ کو کبھی شوکاز نوٹس جاری نہ کرتا لیکن عدالت پریس کانفرنس نہیں کر سکتی اس لیے آپ کو صرف دکھانے کے لیے بلایا کہ آپ نے کیا کیا ہے۔ ‘

انہوں نے کہا: ’آپ توہین کر رہی تھیں کہ کاش غریب لوگوں کے لیے بھی ایسا ہو تو ہم آپ کو بتا رہے ہیں کہ ہم ججز یہاں بیٹھے ہی عام لوگوں کے لیے ہیں ۔ہم صرف اللہ کو جواب دہ ہیں جس کا نام لےکر حلف لیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا: ’کوئی بھی فوری معاملہ عدالت آ سکتا ہے ہم کبھی چھٹی پر نہیں ہوتے۔ حکومت کے اپنے میڈیکل بورڈ نے کہا ہوا ہے کہ نواز شریف کی حالت تشویش ناک ہے۔ اس معاملے پر آپ کو اگر وزارت قانون نے کچھ نہیں بتایا تھا تو کسی سینیئر وکیل سے ہی پوچھ لیتیں۔ بہتر ہے کہ آپ عدالت کو سیاست سے دور رکھیں۔‘

انہوں نے فردوس عاشق اعوان سے استفسار کیا کہ کیاوہ کبھی ضلعی عدالتوں میں گئی ہیں؟ ’اس سماعت کے بعد وہاں جا کر دیکھیں دکانوں میں عدالتیں لگی ہیں۔ اُس کچہری میں عام لوگوں کے مسائل سنے جاتے ہیں۔ آپ بار کے صدر کے ساتھ جائیں اور صورت حال دیکھیں۔ اُس کچہری میں ٹوائلٹ تک موجود نہیں ہیں۔‘

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے بعد معاون خصوصی برائے اطلاعات کو عدالتی ہدایت پر ایف ایٹ کچہری کا دورہ کرایا گیا۔ دورے کے دوران فردوس عاشق اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا  کہ یہ ان کی سیاسی زندگی میں پہلا موقع ہے کہ انہوں نے کچہریوں کا دورہ کیا ہے۔ ’میری سیاسی زندگی میں مجھ پر کوئی ایف آئی آر یا کیس نہیں بنا۔‘

ان کا کہنا تھا: ’بد قسمتی سے وفاقی دارالحکومت میں قائم ضلعی عدالتیں زبوں حالی کا شکا رہیں۔ لیکن اب حکومت ماسٹر پلان کے تحت ڈسٹرکٹ کورٹس میں سہولتیں فراہم کرے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست