’سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتال ہے تو نجی کلینک کیوں کھلے ہیں‘

حکومتی پالیسیوں سے نالاں خیبرپختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر گذشتہ 43 دنوں سے ہڑتال پر ہیں، تاہم انہوں نے اپنے نجی کلینکسں میں پریکٹس جاری رکھی ہے۔

خیبرپختونخوا کے ڈاکٹر گذشتہ   43 دن    سے ہڑتال پر ہیں (تصویر انڈپینڈنٹ اردو)

’تقریباً تین مہینے پہلے گردے میں مسئلے کی وجہ سے مجھے پشاور کے کڈنی سینٹر میں سٹنٹ لگایا گیا تھا لیکن بعد میں سٹنٹ ہٹانے اور گردے کی پتھری کے آپریشن کے لیے مجھے نجی کلینک جانا پڑا کیونکہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹر ہڑتال پر تھے۔ نجی کلینک میں مجھے ایک لاکھ روپے تک خرچہ برداشت کرنا پڑا۔‘

مردان کے ضیا اللہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث پریشان نظر آئے۔ وہ گردوں کے علاج کی غرض سے پشاور کے علاقے ڈبگری گارڈن میں موجود تھے، جہاں ڈاکٹروں کے متعدد نجی کلینک ہیں۔

خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں کی تنظیم گرینڈ ہیلتھ الائنس (جی ایچ  اے) کے مطابق حکومت کی ’مریض دشمن‘ پالیسیوں کی وجہ سے صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹر گذشتہ 43 دن سے ہڑتال پر ہیں۔

ایسے میں نجی کلینکس کی کیا صورت حال ہے، یہ جاننے کے لیے نمائندہ انڈپینڈنٹ اردو نے پشاور میں ڈاکٹروں کے نجی کلینکس کے لیے ڈبگری گارڈن کا رخ کیا۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ تقریباً تمام نجی کلینک کھلے ہیں اور مریضوں کا معائنہ معمول کے مطابق جاری ہے۔

ایک نجی کلینک کے باہر ضیا اللہ سے ملاقات ہوئی، جنہوں نے بتایا: ’پہلے تو میں پریشان تھا کہ سرکاری اور نجی دونوں کلینک اگر بند ہیں تو مریض کیا کریں گے لیکن بعد میں مجھے پتہ چلا کہ نجی کلینک تو کھلے ہیں۔ نجی کلینکس میں پیسے زیادہ ملتے ہیں تو انہیں بند نہیں کیا گیا لیکن سرکاری ہسپتال میں چونکہ غریب جاتا ہے تو انہوں نے وہاں ہڑتال کر رکھی ہے۔‘

ضیا اللہ نے بتایا سرکاری ہسپتال میں گردے کا آپریشن 15ہزار روپے میں ہوسکتا تھا لیکن نجی کلینک میں ڈاکٹروں نے ان سے 80 ہزار روپے فیس لی جب کہ کمرے اور دیگر دواؤں کا خرچہ الگ تھا۔

گرینڈ ہیلتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر عالمگیر یوسفزئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا پہلے تین ہفتے ڈاکٹروں نے بطورِ احتجاج نجی کلینکس بھی بند رکھے تھے لیکن مریضوں کی سہولت کے لیے اب نجی کلینک کھول دیے گئے ہیں اور وہاں ان کو علاج کی ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مریضوں کو دی جانے والی سہولیات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ہر ضلعے میں ڈاکٹروں کو کہا گیا ہے کہ وہ نجی سطح پر فری میڈیکل کیمپ لگائیں تاکہ مریضوں کو سہولت ملے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ نجی کلینک میں تو صاحبِ استطاعت مریض ہی جا سکتے ہیں، غریب کیا کریں گے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ’اگر کوئی ضرورت مند ہو تو اس کا علاج ہم سرکاری ہسپتال میں کرتے ہیں۔‘

تاہم ڈبگری گارڈن میں چند مریضوں نے بتایا وہ نہایت ہی غریب ہیں لیکن مجبوری کی وجہ سے انہیں نجی کلینک آنا پڑا۔

انڈپینڈنٹ اردو نے ڈبگری گارڈن میں واقعے تقریباً پانچ نجی کلینکس کا دورہ کیا، جہاں تین بجے سے لے کر رات ایک بجے تک ڈاکٹر موجود تھے اور مریضوں کو دیکھ رہے تھے۔ ان نجی کلینکس میں ڈاکٹروں کی فیس 800 روپے  سے لے کر 1500 تک ہے جب کہ آپریشن کی فیس ہر ایک ڈاکٹر کی الگ الگ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں جی ایچ  اے کے صدر عالمگیر نے بتایا ڈاکٹروں کی سرکاری پریکٹس کو نجی کلینکس کے ساتھ جوڑنا ایک قسم کی زیادتی ہے، کیوں کہ تین ہفتے تک انہوں نے مریضوں ہی کے لیے ہڑتال کی اور نجی کلینک بند رکھے، جس سے انہیں لاکھوں روپے کا نقصان ہوا لیکن یہ سب کچھ ڈاکٹر مریضوں کے لیے کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا حکومت کی پالیسیاں اور نیا ضلعی اور ریجنل ہیلتھ اتھارٹی ایکٹ عوام دشمن اور مریض دشمن ہے لیکن حکومت کو کوئی احساس نہیں، حکومت کے اعلیٰ عہدے دار ان سے مذاکرات کے لیے بیٹھتے ہیں لیکن ان کے مطالبات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

کیا سارے ہسپتال بند ہیں؟

جی ایچ  اے کے صدر سے جب پوچھا گیا کہ کیا ہسپتال کے سارے شعبوں میں ہڑتال ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا ایمرجنسی سروس کھلی ہے جب کہ او پی ڈی میں کسی مریض کا معائنہ نہیں کیا جاتا تاہم حکومت نے عوام کو دھوکہ دینے کے لیے چین سے ایم بی بی ایس کرنے والے کچھ ٹرینی ڈاکٹروں کو او پی ڈی میں بٹھا رکھا ہے۔

’حکومت ڈاکٹروں کے جائز مسائل حل کرنے کے لیے تیار ہے‘

اس ساری صورت حال پر پہلے حکومت کاسخت موقف سامنے آ رہا تھا، لیکن اب اس میں لچک نظر آنا شروع ہوگئی ہے۔ حکومت نے ڈاکٹروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ڈیوٹیوں پر واپس آئیں ورنہ ان کو نوکری سے برخاست کردیا جائے گا۔

اس حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ہم ڈاکٹروں کے حقیقی مسئلے حل کرنے کے لیے تیار ہیں اور کسی قسم کی زبردستی نہیں کرنا چاہتے کیونکہ یہ بھی ہمارے بچے ہیں اور ہم نہیں چاہتے انہیں پریشانی ہو، لیکن جو سیاست کر رہے ہیں ہم ان کا کچھ نہیں کر سکتے۔‘

جب ان سے نئے ہیلتھ ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا: ’اس ایکٹ کے حوالے سے ڈاکٹروں کے حقیقی تحفظات پر غور کریں گے اور وہ قوانین، جو مریضوں کی بہتری کے لیے ہیں اور جس سے سسٹم متاثر نہیں ہوتا، وہ برقرار رہیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی صحت