لاہور میں شدید سموگ کے باعث سکول بند

سکول بند رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ انہوں نے شہری انتظامیہ کو اختیار دیا ہے کہ فصلوں کی باقیات کو جلانے اور سموگ کا باعث بننے والی دیگر سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں۔

نومبر 2017 کی اس فائل تصویر میں شدید سموگ کے دوران بچے سکول جا رہے ہیں (اے ایف پی)

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں شدید فضائی آلودگی کے باعث صوبائی حکومت نے جمعرات کو شہر کے تمام سکول بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بدھ کی رات ایک ٹویٹ میں کہا کہ سموگ کی شدت میں اضافے کہ وجہ سے لاہور میں تمام سکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہر کی انتظامیہ صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور انہوں نے اس کو اختیار دیا ہے کہ فصلوں کی باقیات کو جلانے اور سموگ کا باعث بننے والی دیگر سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں۔

 

 

 وزیراعلیٰ نے لاہور اور گرد و نواح میں سموگ میں اچانک اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

 انہوں نے کہا کہ سموگ پر قابو پانے کے لیے مڈٹرم حکومتی اقدامات کے تحت 15 نومبر سے ان بھٹیوں کو بند کر دیا جائے گا جو زِگ زیگ ٹیکنالوجی پر شفٹ نہیں ہوتیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ٹائر جلانے والی فیکٹریاں سیل کر رہی ہے اور کھیتوں میں فصلیں جلانے والوں اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں پر بھی جرمانے عائد کر رہی ہے۔ 

لاہور میں رواں ہفتے سموگ میں اچانک اضافے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بدھ کو ماحول پر نظر رکھنے والے کئی اداروں نے لاہور میں نصب ایئر کوالٹی سینسروں کا ڈیٹا ٹوئٹر پر جاری کیا جس کے مطابق لاہور کی ہوا میں خطرناک حد تک آلودگی ہے۔ 

لاہور میں امریکی قونصل خانے نے شہریوں کو احتیاط برتنے کا کہا۔

سوشل میڈیا پر لاہور سموگ کا ٹرینڈ بھی چل رہا جس میں شہری اپنی مشکلات کا اظہار کر رہے ہیں۔ 

صافت مریم نے کہا کہ ایک سانس لیتے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ ہوا کتنی آلودہ ہے۔

فوزیہ درانی نے کہا کہ حکومت کو فوراً اس سے نمٹنے کے لیے اقدامات لینے کی ضرورت ہے۔ 

محمد شعیب ایوب نے کہا کہ ان کو سانس لینے میں بھی تکلیف محسوس ہو رہی ہے۔ 

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان