آخری ٹی 20 میں بھی آسٹریلیا سے شکست

موجودہ سیریز کے پہلے میچ کے مکمل نہ ہونے نے نمبر ایک پوزیشن کو تو بچا لیا لیکن ٹیم کی زبوں حالی کو عیاں کردیا ہے۔

پاکستان کی ٹیم مینیجمنٹ کو اب سوچنا ہوگا کہ کھلاڑیوں کی سلیکشن غلط ہے یا ان کی اہلیت ہی اتنی ہے۔ (اے ایف پی)

پرتھ کے خوبصورت اوپٹس اسٹیڈیم میں جب ایرون فنچ نے ٹاس جیتا تو شاید پاکستان آدھا میچ وہیں ہار گیا۔ نفسیاتی طور پر جلد دباؤ میں آجانے والی پاکستان کرکٹ ٹیم کی شان یہ ہے کہ وہ میچ سے پہلے ہی میچ کے ممکنہ نتائج پر ٹاس کا اثر ڈھونڈنے لگتی ہے۔

پرتھ کے نئے گراؤنڈ کی پچ اگرچہ پرانے واکا گراؤنڈ کی طرح اتنی تیز تو نہیں لیکن سمندری ہواؤں کی نمی کی ہوا میں موجودگی فاسٹ بالروں کو اس نئی وکٹ پر مدد ضرور دیتی ہے۔

 پاکستان نے اس آخری فیصلہ کن لڑائی کے لیے جوان خون پر بھروسہ کرنا مناسب سمجھا۔ خوشدل شاہ اور موسیٰ کی شمولیت تو یقینی تھی لیکن وہاب ریاض بھی تبدیلی کی زد میں آکر حسنین کو جگہ دے گئے۔ امام الحق مستحق نہ ہوتے ہوئے بھی ٹیم میں جگہ بنا گئے۔

یوں پاکستان نے چار تبدیلیاں کرکے نقادوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی۔ آسٹریلیا نے بھی زمپا کی جگہ فاسٹ بالر اسٹینیک اور کمنز کی جگہ شون ایبٹ کو شامل کیا۔ پاکستان کی بیٹنگ حسب توقع آسٹریلین بالنگ کے خلاف پریشان نظر آئی اور جس طرح رضوان اور حارث سہیل آؤٹ ہوئے اس سے ان کی تکنیک پر بہت سارے سوالات کھڑے ہوگئے رضوان اس پوری سیریز میں ایک کلب کرکٹ بیٹسمین سے بھی کم درجے کے دکھائی دئیے۔

پاکستان کی بیٹنگ کا بوجھ اٹھانے والے بابر اعظم آج جلدی آؤٹ ہوگئے جس سے بیٹنگ لائن سخت دباؤ میں آگئی۔ افتخار نے آج بھی اچھے شاٹ کھیلے۔ ان کے 45 رنز میں 6 چوکے ان کی جارحانہ بیٹنگ کا نمونہ تھے لیکن باقی بیٹسمینوں نے صرف خانہ پری کا کام کیا۔

ڈیبیو کرنے والے خوشدل شاہ بھی خاص تاثر چھوڑنے میں ناکام رہے۔ پاکستان کی بیٹنگ 8 وکٹ کھو کر صرف 107 رنز کا ہی ٹارگٹ دے سکی۔ آسٹریلیا کی طرف سے رچرڈسن نے تین اور اسٹارک اور ایبٹ نے دو دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔

آسٹریلیا نے جواب میں پاکستانی فیلڈرز کو زیادہ دیر گراؤنڈ میں نہیں رکھا اور اور بارھویں اوور میں جب ڈیوڈ وارنر نے وننگ شاٹ کھیلا تو پاکستانی کھلاڑیوں کی میچ سے بیزاری صاف ظاہر تھی۔ وارنر اور فنچ کسی بالر کو خاطر میں نہ لائے اور عامر سے لیکر اپنا پہلا میچ کھیلنے والے موسیٰ تک کسی کو نہ بخشا۔ وارنر نے 48 اور فنچ نے 52 رنز بنائے۔

آسٹریلیا نے دس وکٹوں سے پاکستان کو شکست دے کر پہلی پوزیشن پر پہنچنے کے لیے راستہ مضبوط کرلیا۔

ٹیم میں آج جگہ بنانے والے شون ایبٹ کو ان کی بہترین بالنگ پر پلئیر آف میچ ایوارڈ دیا گیا جبکہ اسمتھ کو مین آف سیریز کا ایوارڈ ملا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آسٹریلیا کی نظریں آئندہ سال اکتوبر میں آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ پر مرکوز ہیں اور میچ کے بعد ایک انٹرویو میں وارنر نے کہا بھی کہ ہمارا اصل ہدف ورلڈ کپ ہے اور اس سیریز میں ہماری جیت دو ہفتے میں شروع ہونے والی ٹیسٹ سیریز پر اثرات مرتب کرے گی۔

پاکستان نے اس سیریز سے کیا سیکھا یہ تو مصباح الحق پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ یہ ایک مشکل دورہ ہے اور زیادہ توقعات نہ رکھی جائیں لیکن اس طرح پسپائی ایک ایسی ٹیم کے لیے ذلت کا باعث ہے جو ایک طویل عرصہ سے نمبر ایک پوزیشن پر ہے، موجودہ سیریز کے پہلے میچ کے مکمل نہ ہونے نے نمبر ایک پوزیشن کو تو بچا لیا لیکن ٹیم کی زبوں حالی کو عیاں کردیا ہے۔

بیٹنگ میں بابر اعظم پر دارومدار ہونے سے ٹیم کے بقیہ کھلاڑی جمود کاشکار ہیں۔ ہر ایک کی کوشش ہے کہ کچھ رنز ہوجائیں تا کہ سلیکشن کا جواز مل جائے۔ حالانکہ اس ہی ٹیم کے کپتان جب سرفراز تھے تو ٹیم بیٹنگ بلندی کا سفر کررہی تھی۔

بالنگ میں بھی پاکستان تنزلی کا شکار ہے۔ پرتھ کی تیز وکٹ پر کوئی بالر بھی صحیح جگہ بالنگ نہ کرسکا۔ گزشتہ دس سالوں سے کسی نہ کسی صورت میں ٹیم سے وابستہ وقار یونس کو اب سمجھ لینا چاہئیے کہ ان کی کوچنگ میں بالرز میں نکھار نہیں آرہا ہے اور ان کی کارکردگی اوسط درجے کے بالروں سے بھی کم ہے۔

ٹیم کے کپتان بابراعظم نے پوسٹ میچ انٹرویو میں اعتراف کیا کہ ہم نے اچھی کرکٹ نہیں کھیلی لیکن اس سیریز سے بہت سی باتیں سیکھنے کو ملی ہیں۔ انھوں نے بھی اگلے ورلڈکپ کو ہدف قرار دیتے ہوئے کارکردگی میں بہتری لانے کا اعادہ کیا۔

پاکستان کی ٹیم مینیجمنٹ کو اب سوچنا ہوگا کہ کھلاڑیوں کی سلیکشن غلط ہے یا ان کی اہلیت ہی اتنی ہے۔ ویسے بھی آئن چیپل کئی بار کہہ چکے ہیں کہ پاکستانی ٹیم جیسی ٹیموں کو آسٹریلیا مدعو نہیں کرنا چاہئیے، یہ صرف وقت اور پیسے کا ضیاع ہے۔ پاکستان کو اب ٹیسٹ سیریز میں اس تاثر کو زائل کرنا ہوگا کہ وہ دوسرے درجہ کی ٹیم ہیں لیکن سابق کوچ عاقب جاوید تو پیشنگوئی کرچکے ہیں کہ اس ٹیم میں ایک میچ بھی جیتنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

کیا واقعی عاقب صحیح کہہ رہے ہیں؟ اس کے لیے پاکستان کا آسٹریلیا میں گزشتہ ریکارڈ کافی ہے۔ لیکن کرکٹ ہمیشہ ہر دن کا الگ کھیل ہوتا ہے تو سست وکٹوں پر رنزوں کا انبار لگانے والے پاکستانی بیٹسمین شاید تیز وکٹوں پر کچھ کر جائیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ