ہر الزام عورت کے سر کیوں؟

عورت کے سر الزام دھرنے کی بجائے اس سے متعلق معاشرتی رویے کو بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر خود سے ہونے والی ناانصافیوں کا بدلہ لینے کی کوشش میں، اگر عورت بھی ظالم اور بےحس ہو گئی تو پھر اس انسانی معاشرے میں کچھ بھی انسانی نہ رہے گا۔

(اے ایف پی)

عورت مرد سے کہیں زیادہ جذباتی اور جلد باز ہے۔ وہ حقیقت سے زیادہ خوابوں میں جینا پسند کرتی ہے۔ خواہشات کو پالنا اور بڑھاوا دینا اس کی شخصیت کے بنیادی خصائص ہیں۔ مرعوبیت کا وصف اس میں اس قدر بہتات سے ہے کہ اسے شیشے میں اتارنا اور ورغلانا قدرے آسان ہے۔

عورت مرد سے کہیں زیادہ مادیت پرست ہے۔ زندگی کے نت نئے رنگ، دلکش پیراہن، حسن کی جلوہ گریوں کے لبادے اور دل لبھانے کے انداز اپنانا اس کی کمزوری ہے۔ وہ اپنی فطرت میں کس قدر بھی پیچیدہ اور متنوع شخصیت کی حامل کیوں نہ ہو، اس کی پرکھنے کی حس خاصی کمزور اور ناقص ہے۔ اسی لیے اس کے اعتبار کی دھجیاں اڑا کر پھر سے اس کا اعتبار حاصل کرنا بہت آسان ہے۔ عورت کی کج فہمی کے قصے بھی زبان زد عام ہیں۔

یہ اور ایسی کئی باتیں عورت سے منسوب ہیں۔ لیکن ان سب کے علاوہ وہ کچھ جدا خصائص کی حامل بھی ہے۔ اپنی روحانی ترکیب میں مرد سے قدرے زیادہ فلسفی، تخلیقی اور عملی ہیں۔ یہ اور بات کہ اس کی فلسفی و تخلیقی روح کو حالات اپنے قدموں تلے روند دیتا ہے۔ خواہشات کو پالنا اور سنبھالنا تو وہ جانتی ہی ہے لیکن انہیں قربان کرنے کا ظرف بھی اس میں بہت اعلیٰ درجے کا ہے۔ اس کی دلچسپیاں اور خواہشیں متنوع ضرور ہیں لیکن اپنی نوعیت میں ایسی خطرناک نہیں کہ دنیا کو تہس نہس کرنے کا سبب بن جائیں۔

چاہے جانے کی خواہش اس کی فطرت میں کچھ اس قدر گندھی ہوئی ہے کہ وہ ہمیشہ رومانیت کے جذبوں کی تلاش میں رہتی ہے۔ اپنی اس جائز خواہش کو محبت کا خوبصورت پیراہن اوڑھانا چاہتی ہے۔ لیکن اسے محبت کرنے پر بھی معتوب ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ وہ مرد کی طرح سیاست، مذہب، قومیت، فرقے، قبیلے، روایت یا انا کے نام پر خون کی ندیاں بہانا نہیں جانتی۔ وہ محبت، آزاد خیالی یا حق گوئی کو تہمت بنا کر انسان اور انسانیت کی دھجیاں اڑانے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ وہ جائیداد کی لالچ میں قتل و غارت گری پر بھی یقین نہیں رکھتی۔ یہی اس کی مجموعی فطرت ہے۔ اس سے منسوب، رونما ہونے والے چند ایک غیر فطری واقعات کا الزام، مجموعی طور پر اس کی سرشت کو نہیں دیا جاسکتا۔

 مرد کی نظر اگر آسمان کی بلندیوں پر رہتی ہے تو عورت کی دھرتی کے جڑوں میں۔ مٹی بھی تو تخلیق کرتی ہے۔ ایک بیج کو سینچ کر اسے بھرا پورا پیڑ بناتی ہے۔ گویا عورت اور دھرتی دونوں کا کام حیات کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔ زندگی اس وقت معدوم ہونے لگے گی جب یہ دونوں بانجھ ہوجائیں گے۔

کہتے ہیں کہ فطرتاً عورت اپنی اعصابی طاقت میں مرد سے کئی گنا نحیف و ناتواں ہے لیکن اس کے انہی ناتواں اعصاب پر دنیا نے کئی قرنوں سے بےحساب تہمتوں اور بہتانوں کا بوجھ لاد رکھا ہے۔ وہ صدیوں سے، چپ چاپ اس بوجھ کو سہتی چلی آ رہی ہے۔ وہ جنم جنم سے مرد کی کئی کوتاہ بینیوں اور سیاہ کاریوں کی اپنی عزت کی کٹی پھٹی چادر سے پردہ پوشی کرتی چلی آئی ہے۔ وہ اپنے احساس کی کوکھ میں مرد کے سارے خوابوں اور تمناؤں کے بھاری بھرکم بیضے اٹھائے پھرتی ہے لیکن کبھی لڑکھڑاتی نہیں۔

اس کی جمالیاتی حس اور تخیلاتی و تخلیقی مزاج نے ہی مرد کو ایک تہذیب یافتہ زندگی و سماج عطا کیا ورنہ مرد تو بس ایک وحشت و بربریت پر مبنی معاشرہ ہی تخلیق کرنے کے قابل تھا۔ مرد تو اپنی طاقت و بہادری کے زعم میں دنیا کو جنگی فساد کے المیے میں مبتلا کرتا رہا۔ دنیا کو ہائیڈروجن بم اور ایٹم بم کے نسخے فراہم کر کے ہیروشیما اور ناگاساکی جیسی قیامتیں برپا کرتا رہا۔ لیکن عورت اس کی ڈھائی قیامتوں سے بکھرے لاشے سمیٹتی رہی اور ان لاشوں پر دکھ بھرے بین ڈالتی رہی۔
عورت کو کبھی بھی اپنی قربانیوں اور محنتوں کا بدلہ نہیں چاہیے تھا۔ وہ تو شاید مرد کی کسی طور برابری کی بھی خواہش مند نہیں رہی۔ ہاں وہ ازل سے اپنے وجود پر لگائی گئی تہمتوں کے داغ دھونا چاہتی تھی۔ وہ تو اپنے ہونے کا احساس دلانا چاہتی تھی۔ وہ اپنے لیے انسان ہونے کا حق مانگتی تھی۔ لیکن مرد اسے ایک انسان تسلیم کرنے سے بھی ہچکچاتا رہا۔اس کے ہر احساس کو شکوک و شبہات کی بھٹی میں جھونکتا رہا۔ وہ اس کی ترقی کے ہر امکان کو نیست و نابود کرتا رہا۔

اس کا دل ایسی کسی بھی عورت کا تصور کرتے ہوئے دہل جاتا تھا جو اس سے بلند مقام کی حامل ہو سکتی تھی۔ اسی لیے مذہبی پیشوا اسے ناپاک قرار دے کر دھتکارتے رہے۔ چینی ثقافت میں اسے روح سے خالی اک جسم سمجھا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ قدیم تہذیبوں میں عورت کے قتل کی کوئی سزا بھی نہ تجویز کی جاتی تھی۔ مرد اپنے زور اور جبر سے اس کی تمام تر توانائی کو تلخ بناتا رہا۔ اسے تعلیم سے بھی محروم رکھا جاتا کیونکہ ڈر تھا کہ اگر اسے تعلیم دی گئی تو یہ باغی ہو جائے گی، اپنا حق مانگنے لگے گی، وہ مرد کی طاقت سے ٹکرا جائے گی، اپنے وجود کا احترام اور مقام مانگے گی۔ اسی لیے اس کی نفسیاتی و جذباتی صحت کو تباہ و برباد کرنے کے لیے اسے ڈر اور خوف میں مبتلا کیا جاتا رہا۔ اس پر دھرم کی آڑ میں قدغنیں لگائی گئیں۔ اسے جہنم کے ڈر اور خوف میں مبتلا کر کے مرد کی داسی بنے رہنے پر مجبور کیا جاتا رہا۔

آخر کب تک اس کے احساسات، خیالات اور جذبات کو دبایا جا سکتا تھا۔ کب تک اسے ناقص العقل قرار دے کر دھتکارا جا سکتا تھا؟ اسے کبھی نہ کبھی تو بغاوت کرنا ہی تھی۔ ایک باغی مناسب حالات اور مناسب وقت کا انتظار نہیں کرتا بلکہ وہ ٹکرا جاتا ہے معاشرے سے، اس کے فرسودہ نظام سے اور اس نظام کے غاصبوں اور لٹیروں سے۔ لیکن عورت نے ایسی کسی بغاوت کا حصہ بننے سے گریز کیا۔ اس نے انتظار کیا، اچھے وقت کا۔ اس سمے کا جب اسے اس کے وجود اور شعور سمیت تسلیم کیا جائے گا۔ لیکن اب وہ اپنی محبت، جذبوں کی صداقت، خلوص اور قربانی کی بےقدری کا بدلہ لینے لگی ہے۔ وہ انتقام لینا چاہتی ہے اس تذلیل اور حقارت کا جو اس کے وجود کو دی جاتی رہی۔وہ قدرے مشتعل اور بے خوف ہو رہی ہے۔وہ بے سکوں بھی ہے اور بے پرواہ بھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ بےوفا ہونے لگی ہے۔ یہ خصائص گو کہ اس کی فطرت سے میل نہیں کھاتے لیکن لگتا یوں ہے کہ وہ اپنی جنگ لڑتے لڑتے اب تھک چکی ہے اور اب ہتھیار ڈال رہی ہے۔ ہتھیار ڈالنا جو اس ذلت سے بھی بڑی ذلت ہے، جو وہ صدیوں سے سہتی آئی ہے۔ جب اپنے وجود کو ثابت کرنے کی سب تاویلیں سب دلیلیں بےکار جانے لگیں تو انسان دھاڑ کر یا چنگھاڑ کر خود کو ثابت کرنے لگتا ہے۔ کچھ یہی عورت کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔

 آج اس کی بےوفائیوں اور بےراہ رویوں کی ہلکی سی جھلک دکھلاتے، اس کے نئے ابھرتے کردار کو مرد سہار نہیں پایا، وہ اس کے بدلتے رویے کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے، اسے لعنت ملامت کر رہا ہے۔ جب کہ یہی مرد اسے رنڈی، بازاری عورت اور طوائف کا نام دیتے ہوئے بھی پہلے کبھی ہچکچایا نہ تھا۔

مرد نے کبھی بھی اس وقت اس کی دلجوئی نہ کی تھی جب اسے جنگوں کے بعد لوٹ کھسوٹ کا مال بنایا جاتا رہا۔ اس کے لیے آواز اٹھانے والا اس وقت بھی کوئی نہیں ہوتا، جب دنیا میں اوسطاً ہر روز 137 عورتیں اپنے شریک حیات یا دیگر خاندان والوں کے ہاتھوں قتل ہو جاتی ہیں۔ دنیا میں پڑھے لکھے ترقی یافتہ معاشرے بھی اس وقت اس کے لیے کھڑے نہیں ہوتے، جب محض برطانیہ میں ہی دس سالوں کے اندر 925 خواتین کے چہرے پر تیزاب پھینکا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں ہر سال تقریباً چار ہزار اور پاکستان میں سالانہ چار سے سات سو تک عورتوں کو تیزاب گردی کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ ان خواتین کا بھی نام لیوا کوئی نہیں جنہیں غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔

جب پاکستان میں ہی تین سال کے عرصے میں 2000 بےگناہ لڑکیوں کو خودساختہ غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، لیکن مجرم کیفر کردار تک نہیں پہنچتے۔ دنیا میں ہر سال تقریباً اڑھائی لاکھ لڑکیوں کی عزتیں پامال کی جاتی ہیں۔ ہر سال 12ملین لڑکیاں ،کم عمری میں شادی کے بندھن میں بھیڑ بکریوں کی طرح باندھ دی جاتی ہیں۔ لیکن یہ انسانی سماج بدستور خاموش رہتا ہے۔ عورت کو مسلنے، کچلنے یا سنگسار کرنے پر کوئی سوگ نہیں مناتا۔ کوئی آنسو نہیں بہاتا۔ ہاں مرد کا معاشرہ بلبلا اٹھتا ہے اس وقت جب عورت ردعمل ظاہر کرتی ہے، اپنی فرسٹریشن کا اظہار کرتی ہے۔

عورت کی تھوڑی سی بے وفائی پر واویلہ کرنے یا اس کے بےحس ہو جانے کا ڈھنڈورا پیٹنے سے پہلے ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس کی نفسیات بدلنے میں کہیں ہمارے ہی پدرسری معاشرے کی اس سوچ کا ہاتھ تو نہیں؟ جہاں ایک شوہر ساری زندگی بیوی کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر بھی اس کی سرعام سرزنش کر نے اور اسے کمتر ثابت کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے اور بڑھاپے کے آخری وقت میں اس سے برتے گئے سلوک کی معافی مانگ کر بری الزمہ ہو جاتا ہے۔

عورت کے سر الزام دھرنے کی بجائے اس سے متعلق معاشرتی رویے کو بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر خود سے ہونے والی ناانصافیوں کا بدلہ لینے کی کوشش میں، اگر عورت بھی ظالم اور بےحس ہو گئی تو پھر اس انسانی معاشرے میں کچھ بھی انسانی نہ رہے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ