جب کیفی اعظمی نے شوکت کیفی کو خون سے خط لکھا

شبانہ اعظمی کی والدہ شوکت کیفی دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ان کی یاد میں ایک تحریر

کیفی اعظمی  اور شوکت کیفی  کی ایک یادگار تصویر۔  (راجیو بی مینون ٹوئٹر اکاؤنٹ)

ایک اور روشن روشن چراغ بجھ گیا۔ شوکت کیفی اعظمی جنہیں ’آپا‘ بھی کہا جاتا تھا، 91 برس کی عمر میں اُس جہاں کی اور چل پڑیں جہاں سے کسی کی واپسی ممکن نہیں ہوتی۔

شوکت کیفی کا ابتدائی تعارف تو یہ رہا کہ وہ برصغیر کے شہرہ آفاق شاعر کیفی اعظمی کی شریک سفر تھیں، لیکن ان کی چھپی ہوئی صلاحیتیں، کیفی صاحب کی سنگت اور حوصلہ افزائی کے باعث نکھرتی چلی گئیں۔ تھیٹر اور فلم میں بھی اپنی صلاحیتوں کا استعمال کیا، جب کہ بیٹی شبانہ اعظمی کی پیشہ ورانہ اور نجی زندگی کے فیصلوں میں کبھی بھی رخنہ نہیں ڈالا۔

روشن خیال، پُروقار اور جاذب نظر شوکت کیفی نے ریاست حیدر آباد دکن میں ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جو نہ صرف شعر و ادب کا قدر دان تھا بلکہ انتہائی امیر اور مہذب تصور کیا جاتا تھا۔ شوکت کیفی کا کہنا تھا کہ وہ بناؤ سنگھار اور لباس پر دل کھول کر خرچ کرتی تھیں اور جس محفل میں جاتیں وہاں اپنی جاذب نظر اور پرکشش شخصیت کی بنا پر مرکز نگاہ ہوتیں۔

کیفی صاحب سے پہلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے وہ ایک واقعہ سناتیں۔ کہتیں کہ کیفی صاحب کا نام بہت سنا تھا کہ ایک نوجوان شاعر ہے جو بہت اچھے اشعار کہتا ہے۔ بہنوئی اختر حسن ادبی محفلوں کا انعقاد کراتے۔ ایک بار اورنگ آباد میں مشاعرے میں شرکت کی جس میں جانثار اختر، مجروح سلطان پوری اور علی سردار جعفری جیسے شعرا کرام آئے۔ مشاعرے کے اختتام پر شوکت نے سب سے پہلے آٹو گراف علی سردار جعفری سے لیا اور یہ سب دور کھڑے کیفی صاحب ٹکٹی باندھ کر دیکھ رہے تھے۔

دل رکھنے کے لیے کیفی صاحب کی طرف شوکت نے آٹو گراف بک بڑھائی تو انہوں نے انتہائی ہلکا شعر لکھا۔ اس پر شوکت نے شکستہ دل کے ساتھ دریافت کیا کہ ’آپ نے اس قدر غیر معیاری شعر کیوں لکھا؟‘

جواب ملا: ’اگر پہلے مجھ سے آٹو گراف لیا ہوتا تو شعر بھی اچھا لکھتا!‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بس یہی وہ لمحہ تھا، جب شوکت کے دل میں کیفی صاحب کی محبت کے پھول کھلے۔ ان کے مطابق کیفی صاحب، خوبرو اور مردانہ وجاہت کا پیکر تھے۔ جو مشاعرے میں اشعار پڑھتے تو ان کا اندازِ بیان دلوں میں گھر کر لیتا، وہ اپنے ہر شعر کو اس طرح پیش کرتے کہ ہر کسی کی سمجھ میں اس کا مفہوم آ جائے۔ شوکت کیفی کے مطابق جب گھر والوں کو ان کی اس محبت کا علم ہوا تو ہنگامہ برپا ہو گیا۔

والد کا کہنا تھا کہ ’تم ایک شاہانہ زندگی گزارنے کی عادی ہو جبکہ کیفی تو صرف ایک شاعر ہیں جو صرف 45 روپے کماتے ہیں، جس میں تمہارا گزارا ناممکن ہے۔‘ یہ وہ مرحلہ تھا جب شوکت کیفی نے گھر والوں سے بغاوت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں کیفی بہت پسند ہیں اور گھر والوں کو دو ٹوک لفظوں میں کہہ دیا کہ چاہے مجھے ان کے ساتھ محنت مزدوری کرنے پڑے، سر پر مٹی کی ٹوکریاں اٹھانی پڑیں لیکن شادی کروں گی تو صرف کیفی صاحب سے ہی۔

کیفی اعظمی اور شوکت کی یہ محبت پروان چڑھی جس کا اختتام دونوں کی شادی پر ہوا، اُس وقت شوکت کی عمر صرف 20 سال بتائی جاتی ہے۔ شوکت کیفی کا کہنا تھا کہ گھر والوں کے خدشات درست ثابت ہوئے۔ لیکن کیفی صاحب ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دن و رات ایک کرتے گئے۔ صبح پانچ بجے اٹھ کر گھر سے نکلتے اور پھر درخت کے نیچے بیٹھ کر مزاحیہ نظم لکھتے جو اخبار میں شائع ہوتی اور جس کا ماہانہ معاوضہ کوئی ڈیڑھ سو روپے بنتا تھا۔ جس میں سے کچھ رقم وہ شوکت کو کھانے پینے اور دوسری اشیا کے لیے دیتے۔

شوکت کو ان کی یہ محنت خاصی متاثر کر گئی اور وہ ان کا سہارا بننے کی کوشش میں لگ گئیں۔ کیفی صاحب چونکہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور ترقی پسند تنظیم کے سرگرم رکن تھے اور 1949 میں حکومت مخالف تحریک چلانے کی بنا پر وہ روپوش بھی ہوئے جس کا سب سے زیادہ نقصان شوکت کو سہنا پڑا۔

شوکت کیفی کا پہلا کم سن بیٹا شدید بیمار ہوا تو ان کے پاس علاج کرانے کے لیے بھی رقم نہیں تھی جبھی وہ طویل علالت کے باعث چل بسا جس کا اثر اور غم شوکت کیفی کے ذہن پر ایسا ہوا کہ انہوں نے کیفی صاحب کو اس بات پر اکسایا کہ وہ فلموں کے لیے باقاعدگی سے نغمہ نگاری کریں۔

یہ تحریک کارگر ثابت ہوئی۔ جس کا معقول معاوضہ اس جوڑے کے لیے کافی تھا اور پھر یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ ادھر کیفی صاحب کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے شوکت نے بھی پہلی بار کورس میں گانا ریکارڈ کرایا جس کے انہیں 30 روپے ملے۔ پھر دھیرے دھیرے وہ تھیٹر گروپ سے وابستہ ہوئیں۔ دونوں مل جل کر گھر کی گاڑی کھینچنے میں مصروف ہوئے۔

کیفی صاحب کے اصرار پر ہی شوکت کیفی نے ’حقیقت،‘ ’ہیر رانجھا،‘ ’امراؤ جان،‘ ’گرم ہوا‘ اور ’بازار‘ میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ شوکت اور کیفی اعظمی کی محبت کا یہ سفر دوسروں کے لیے مثال بنا۔ کیفی صاحب سے محبت اور ان کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’کیفی اور میں‘ میں انہوں نے ماضی کے کئی بند دریچے کھولے۔ بیٹی شبانہ اور داماد جاوید اختر کے ساتھ اسی کتاب کے کچھ حصوں کے لیے تھیٹر میں بھی کام کیا۔

شوکت کیفی اعظمی کہتی تھیں کہ گھر والوں کے انکار کے بعد جب ان کی بغاوت عروج پر تھی تو کیفی صاحب کا ایک خط ملا جو انہوں نے اپنے خون سے لکھا تھا۔ اسے دیکھ کر وہ سہم گئیں۔ والد کو یہ خط پیش کیا گیا تو قہقہہ لگا کر خوب ہنسے اور مسکراتے ہوئے بولے کہ ’دیکھو بیٹا یہ شاعر لوگ بہت چالاک ہوتے ہیں۔ ظاہر یہ کرتے ہیں کہ جیسے بہت تکلیف میں ہیں۔ اپنا ہاتھ کاٹ کر خط لکھ رہے ہیں جبکہ حقیقت میں درخت کے نیچے لیٹ کر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں کھاتے ہوئے بکرے کے خون میں قلم ڈبو کر خط لکھتے ہیں۔‘

بہرحال شوکت کو یقین تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں جبھی انہوں نے لاکھ مخالفت کے باوجود دکھ و سکھ کے ساتھی کے انتخاب کے لیے کیفی صاحب پر ہی اصرار کیا۔ جس کے آگے شوکت کیفی کے گھر والوں کو بھی بالآخر ہتھیار ڈالنے ہی پڑے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم