حراستی مراکز میں ایک ہزار کے قریب لوگ ہیں: اٹارنی جنرل

اٹارنی جنرل نے حراستی مراکز کیس میں بیان دیا کہ ’یہ حراستی مراکز کیوں قائم کیے گئے، میں عدالت کو ویڈیو میں یہ دکھانا چاہتا ہوں۔‘

سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس گلزار احمد نے اٹارنی جنرل انور منصور پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی (اے ایف پی)

فاٹا پاٹا ایکٹ اور حراستی مراکز کی قانونی حیثیت کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو حراستی ویڈیو دکھانے کی خواہش کا اظہار کیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہمیں ویڈیو کیوں دکھائیں گے تاکہ ہمارے ذہن جانب دار ہو جائیں؟‘

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رُکنی بینچ نے فاٹا پاٹا ایکٹ اور حراستی مراکز کی قانونی حیثیت کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران جب اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ وہ عدالت کو حراستی مرکز کی ویڈیو دکھانا چاہتے ہیں تو چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ ’فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے بھی آرمی پبلک سکول کے واقعے کی ویڈیو دکھائی گئی تھی۔‘

اٹارنی جنرل نے وضاحت کی کہ ’یہ حراستی مراکز کیوں قائم کیے گئے، میں عدالت کو ویڈیو میں یہ دکھانا چاہتا ہوں۔‘ چیف جسٹس نے برجستہ کہا کہ ’کیا آپ دکھانا چاہتے ہیں کہ زیرحراستِ لوگ بہت خطرناک ہیں؟‘

سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس گلزار احمد نے اٹارنی جنرل انور منصور پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ جسٹس گلزار احمد نے تو دھیمے سے چیف جسٹس کے کان میں کہہ دیا کہ ’اٹارنی جنرل کی دلائل دینے کی تیاری ہی نہیں ہے۔‘

اٹارنی جنرل نے عدالت کو دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے خلاف سرگرمیوں پر کسی کو بھی غیر معینہ مدت کے لیے حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال اُٹھایا کہ ’اس طرح تو کسی کو بھی ملک مخالف سرگرمیوں کا الزام لگا کر غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھا جائے گا، نئے قانون میں کسی کو حراست میں رکھنے پر نظرثانی کا نکتہ نکال دیا گیا ہے۔‘

چیف جسٹس نے کہا کہ ’اگر 2011 کا قانون موجود ہے تو بات صرف حراست کا جائزہ لینے کی رہ جاتی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ’حراستی مراکز میں کتنے لوگ زیر حراست ہیں؟‘ اٹارنی جنرل نے کچھ توقف کے بعد بتایا کہ ’حراستی مراکز میں ایک ہزار کے قریب لوگ ہیں۔ کئی افراد آباد کاری اور ذہنی بحالی کے بعد رہا ہو چکے ہیں جب کہ کئی افراد کو جرم ثابت نہ ہونے پر رہا بھی کیا گیا ہے۔‘

چیف جسٹس نے کہا کہ ’ایک طرف شہری کے وقار دوسری طرف ریاست کی بقا کا سوال ہے، 2011 کے قانون میں سقم حراست میں رکھنے کی نظر ثانی کا نہ ہونا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ملک دو دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہے۔ عدالت کے سامنے سوال صرف حراستی مراکز کی قانونی حیثیت کا ہے۔‘

عدالتی سوالات اور اٹارنی جنرل کے جوابات:

جسٹس گلزار احمد نے پوچھا کہ ’کیا 2008 سے آج تک حراستی مراکز کی قانونی حیثیت چیلنج ہوئی؟‘ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’حراستی مراکز کی قانونی حیثیت سے متعلق یہ پہلا کیس ہے، اس لیے حراستی مراکز سمیت دیگر نکات پر نیا قانون بنایا جا رہا ہے۔ تین سے چار ماہ میں نیا قانون بن کر نافذ العمل ہو جائے گا۔‘

اس دلیل پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’کیا آپ چاہتے ہیں عدالت چار ماہ آئین معطل کر دے؟‘ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’عدالت سے صرف نئے قانون کے نفاذ تک کی مہلت مانگ رہا ہوں۔ دہشت گردی کے وجہ سے صوبے کے عوام متاثر ہو رہے تھے۔ عوام کے تحفظ اور امن و امان کی بحالی کے لیے فوج طلب کی گئی۔‘

جسٹس مشیر عالم نے سوال کیا کہ ’امن و امان کی بحالی کے لیے 1960 کا قانون موجود ہے، اس کا استعمال کیوں نہیں کیا گیا؟‘ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ ’اس وقت کے پی میں بحالی امن کے لیے کون سا قانون نافذ ہے؟‘ 

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ’کے پی میں اس وقت 2011 کا ایکٹ نافذ ہے۔‘ 

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جواباً پوچھا کہ ’صدر نے قانون فاٹا میں رائج کیا تھا جو اب ختم ہو چکا۔ فاٹا ختم ہو چکا تو اس میں رائج قانون کیسے برقرار ہے؟‘ 

اٹارنی جنرل نے تفصیلاً بتایا کہ ’فاٹا میں رائج قانون اب صوبائی قوانین بن چکے ہیں جو نیا قانون ڈرافٹ کر رہا ہوں اس میں سب کچھ شامل کیا گیا ہے۔‘ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے طنزاً کہا کہ ’اٹارنی جنرل کا کام قانون بنانا کب سے ہوگیا؟ قانون بنانے کے لیے وزارت قانون موجود ہے۔‘

عدالت نے اٹارنی جنرل کو مزید دلائل منگل کو دینے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

 

مقدمہ ہے کیا؟

سپریم کورٹ نے اکتوبر 2019 میں پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشن آرڈینسن کو ختم کئے جانے کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی اپیل پر سماعت کے لیے 25 اکتوبر 2019 کو ایک بڑا بنچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ اس مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔ دیگر ججوں میں جسٹس گلزار احمد، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس مشیر عالم شامل ہیں۔ عدالت عظمی نے اس اپیل پر خود کسی فیصلے تک پہنچے تک پشاور کی عدالت کا فیصلہ معطل کر دیا تھا۔ پشاور ہائی کورٹ نے 17 اکتوبر کے اسے فیصلے میں ان حراستی مراکز کو تین روز صوبائی پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔

گورنر خیبرپختونخوا نے اگست میں ایکشن ان ایڈ سول آف سول پاورز آرڈیننس 2019 نافذ کیا تھا جس کے تحت مسلح فورسز کو کسی بھی فرد کو صوبے میں کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ بغیر وجہ بتائے اور ملزم کو عدالت میں پیش کیے بغیر گرفتاری کے اختیارات حاصل ہوگئے تھے۔ انہیں ان مراکز میں رکھنے کا بھی حق دیا گیا تھا۔

تاہم 20نومبر کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے تھے کہ فوج کے حوالے سے قانون سازی صوبوں کا نہیں وفاق کا اختیار ہے۔

آئین میں 25ویں ترمیم سے قبل قبائلی علاقہ جات آرٹیکل 247 کے تحت چلائے جاتے تھے، جس میں صدر مملکت کو فاٹا اور پاٹا میں قانون سازی کا اختیار حاصل تھا۔ 2011 میں صدر نے ایکشنز (ان ایڈ آف سول پاور) ریگولیشز کو نافذ کیا تھا جس کا اطلاق فاٹا اور پاٹا پر ہوتا تھا۔اس قانون کے تحت سابق قبائلی علاقوں اور سوات میں سکیورٹی فورسز کے تحت سات حراستی مراکز قائم کئے گئے تھے جن میں اٹارنی جنرل کی معلومات کے مطابق اب بھی ایک ہزار سے زائد افراد کو شدت پسندوں سے روابط کے شک میں رکھا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان