پنجاب کی افسر شاہی میں اکھاڑ پچھاڑ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

پنجاب کی افسر شاہی میں نئی تقرریوں اور تبدیلیوں کا تذکرہ اس وقت صوبے سمیت ملک بھر میں چرچہ پکڑ رہا ہے۔ موجودہ حکومت کے ڈیڑھ برس کے اقتدار میں کئی بار ایسی تبدیلیاں کی گئیں، جن میں چند روز قبل پانچویں انسپیکٹر جنرل کو پولیس کی کمان تھمائی گئی ہے۔

وزیر اعظم نے واضح طور پر یہ کہا کہ وزیر اعلی پنجاب اپنے عہدے کی مدت پوری کریں گے اور انہیں ہٹانے کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا (اے ایف پی)

پنجاب کی افسر شاہی میں نئی تقرریوں اور تبدیلیوں کا تذکرہ اس وقت صوبے سمیت ملک بھر میں چرچہ پکڑ رہا ہے۔ موجودہ حکومت کے ڈیڑھ برس کے اقتدار میں کئی بار ایسی تبدیلیاں کی گئیں اور خاص طور پر اگر پنجاب کے محکمہ پولیس کی بات کریں تو چند روز قبل پانچویں انسپیکٹر جنرل کو پولیس کی کمان تھمائی گئی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان ان تقرریوں اور تبدیلیوں کے حوالے سے کہتے ہیں کہ صوبہ میں اچھے افسران کا چناؤ کر کے انہیں چارج دیا گیا اور سب سے زیادہ عزت رکھنے والے آئی جی کو لگایا گیا ہے۔

جبکہ 30 نومبر کو لاہور کے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں صوبائی کابینہ اور ممبر صوبائی اسمبلی سے ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے واضح طور پر یہ کہا کہ وزیر اعلی پنجاب اپنے عہدے کی مدت پوری کریں گے اور انہیں ہٹانے کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا، ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعلی پنجاب کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ پنجاب میں جو اچھے کام کر رہے ہیں ان کی تشہیر ضرور کریں تاکہ لوگوں کو پتا چلے کہ وہ کتنے کام کر چکے ہیں اور کر رہے ہیں۔

پنجاب میں لگ بھگ 129 کے قریب سول اور پولیس افسر تبدیل کیے گئے ان میں کچھ ایسے افسران بھی شامل تھے جن کی تعیناتی سابق وزیر اعلی میاں شہباز شریف نے کی تھی۔ اس ساری تبدیلی کے حوالے سے مختلف حلقوں سے مختلف آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ جیسے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تبدیلی اس لیے کی گئی کیونکہ وزیر اعلی عثمان بزدار صوبے میں اپنی کارکردگی دکھانے میں فیل ہو گئے ہیں اسی لیے اب ان کے زیر نگرانی کام کرنے والی بیوروکریسی اور پولیس ڈیپارٹمنٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں، جبکہ کچھ کہتے ہیں کہ وزیر اعلی پنجاب نام کے وزیر اعلی ہیں، صوبہ میں کیا ہو گا کیا نہیں اس کے فیصلے کا اختیار وزیراعظم عمران خان نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے۔

کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں اس لیے کی گئیں تاکہ اپنے اقارب کو خوش کیا جاسکے۔

کیا یہ تبدیلیاں اور تقرریاں یہیں رک جائیں گی؟

 حکومتی ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پنجاب میں چیف سیکریٹری سے لے کر نچلے لیول تک تبدیلیوں کا فیصلہ وزیر اعظم نے 17 نومبر کو کیا تھا۔ اس میں انہوں ے چیف منسٹر اور بیورو کریسی کے کچھ افسران کو بلایا اور ان کی سرزنش کی تھی کہ صوبہ میں کارکردگی صفر ہے اور یہ کہ انہیں ابھی بھی محکماجات میں سیاسی مداخلت نظر آرہی ہے جو برداشت نہیں کی جائے گی۔

اسی سیاسی مداخلت  کو زائل کرنے کے لیے  وزیر اعظم عمران خان نے  وزیر اعلی عثمان بزدار کے ماموں اعجاز جعفر جو ایڈیشنل چیف سیکریٹری تھے ان کا بھی تبادلہ کر دیا اس کے علاوہ  وزیر اعلیٰ نے اپنے علاقے میں اپنی پسند سے جو ڈپٹی کمشنر، ڈی پی او اور کمشنرز وغیرہ لگا رکھے تھے ان سب کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اس ملاقات میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ عثمان بزدارکا رول ایک سپروائزر اور سیاسی معاملات میں ہو گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انتظامی امور نئے چیف سیکریٹری میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان سمبھالیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو پہلے بھی اعظم سلیمان کو چیف سیکریٹری پنجاب لگانے کا مشورہ دیا جاتا رہا تھا مگر انہیں وزیر اعظم نے اپنی معاونت کے لیے رکھا ہوا تھا۔ مگر اب انہیں صوبہ پنجاب کے انتظامی امور کی بہتری کے لیے پنجاب کا چیف سیکریٹری مقرر کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ دراصل صوبہ کی گورننس بہتر کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور یہ تبدیلیاں یہیں ختم نہیں ہوں گی بلکہ نچلے لیول تک جائیں گی، آئندہ آنے والے دنوں میں تحصیل دار اور ایس ایچ اوز بھی تبدیل ہوں گے، یعنی اوپر سے نیچے تک پنجاب کی انتظامیہ کو تبدیل کیا جائے گا اور ان کو سپروائز میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کریں گے۔

حزب اختلاف پنجاب میں اس بڑے پیمانے پر افسروں کی تبدیلیوں کو کیسے دیکھ رہی ہے؟

 حزب اختلاف کی بات کریں تو وزیر اعلی پنجاب اور صوبائی حکومت کو لے کر پاکستان مسلم لیگ ن اپنے تنقید کے ہتھیار تیز کیے بیٹھی رہتی ہے۔ پنجاب کی انفارمیشن سیکریٹری عظمی بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلی انتہائی جعلی ہے۔ ملک بھی وہی ہے، وسائل بھی وہی ہیں اور لوگ بھی وہی ہیں لیکن چونکہ لیڈر شپ وہ نہیں ہے تو یوں لگتا ہے جیسے ملک کہیں رک گیا ہے اور کچھ بھی نہیں ہو پا رہا۔

’یہ کاسمیٹک تبدیلیاں کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے نہ گورننس بہتر ہوگی، یہ بہتر ہوتی ہے لیڈر شپ کے ساتھ۔ کام کرنے والا کوئی ہو تو نیچے ٹیم کام کرتی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ٹیم کام کرتی رہے اور ان کے اوپر ایک احمق بیٹھا ہو۔ جس کو یہ نہیں معلوم کہ لفظ ’سمری‘ پڑھتے کیسے ہیں اور اسے لکھتے کیسے ہیں۔‘

عظمی بخاری نے کہا کہ ’عمران خان اور عثمان بزدار، بزدار نمبر ایک اور بزدار نمبر دو نہلے پر دہلا ہیں،  بدقسمتی سے نئے پاکستان میں تبدیلیاں اور تقرریاں اور لیڈر شپ  تعویزوں سے آئے گی اور گڑہے میں کسی کی شکل دیکھ کر وزیر اعلی پنجاب لگایا جائے گا تو پنجاب کے مسائل حل نہیں ہوسکیں گے۔‘

موجودہ حکومت کے لیے پہلے ہی بہت مشکل تھا کیونکہ انہیں صوبہ میں شہباز شریف کی جگہ لینی تھی اور جو بنچ مارکس شہباز شریف نے صوبہ میں سیٹ کیے تھے ویسا کام کرنا ان کے لیے تھوڑا مشکل ہے۔ عظمی بخاری کے خیال میں عمران خان اور عثمان بزدار میں صلاحیت ہی نہیں ہے کہ وہ ڈیلیور کر سکیں۔

’ان دونوں کو یونین کونسل چلانے تک کا تجربہ تو ہے نہیں اور جب ان کو یہ بتایا گیا کہ آپ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہو، ایک چلا گیا تو دوسرا بھی چلا جائے گا، اس  طرح کی تواہمات پر حکومت چلانی ہو تو پھر ایسی ہی کارکردگی ہوتی ہے۔ یہ جتنی مرضی ٹیمیں بدل لیں جب تک وزیر اعظم عمران خان جو ملک میں فساد اور برائی کی جڑ ہیں وہ نہیں جائیں گے تب تک نہ گورننس بہتر ہو سکتی ہے نہ ملک ترقی کر سکتا ہے۔‘

حکومتی ارکان ان تبدیلیوں کا دفاع کیسے کر رہے ہیں؟

وفاقی پارلیمانی سیکریٹری ریلوے، فرخ حبیب نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت میں آتے ہی ہمارے پاس جو چیلنج تھا وہ معیشیت کا تھا جسے ہم نے مستحکم کر لیا اور ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے۔ اب وزیر اعظم عمران خان کی خاص توجہ گورننس کی طرف ہے، اس حوالے سے بیوروکریسی کے اندر بڑے لیول پر ری شفلنگ وقت کی ضرورت تھی، میرٹ کی بنیاد پر لوگوں کا چناؤ کر کے تعینات کیا گیا ہے۔

’نئے آئی جی اور نئے چیف سیکریٹری کو لایا گیا ہے تاکہ ایک نئے جذبہ کے تحت کام ہو سکے اور ان کو وزیر اعظم نے خاص ٹاسک دیے ہیں اب پولیس کو چاہے وہ سیاسی مداخلت کے خاتمے سے ہو یا پولیس کی نچلی سطح پر عوام کو کارکردگی دکھانے کے حوالے سے ہوں ایک واضح مینڈیٹ دیا گیا ہے اسی طرح آئی جی پنجاب کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی تمام تر ٹیم اپنی مرضی سے رکھیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح چیف سیکریٹری کو اختیارات دیے گئے ہیں کہ وہ اچھی ساکھ والے لوگوں کو سامنے لائیں۔  کام کرنے والے لوگوں کو تعینات کیا گیا ہے ڈی سی کے طور پر، سیکریٹری کے طور پر اور وزیر اعظم کی خاص ہداہات ہیں ان افسروں کو کہ دفتروں سے باہر نکلیں اور عوامی مسائل کو حل کریں۔

حزب اختلاف کی تنقید کے حوالے سے فرخ حبیب بولے کہ حزب اختلاف کی تنقید بےجا ہے، ’یہ اقتدار کے بھوکے لوگ ہیں، ان کی بیڈ گورننس کی وجہ سے ہی تو عوام نے انہیں مسترد کیا اور ہمیں موقع ملا۔‘

فرخ حبیب کہتے ہیں کہ ’جو سابق وزیر اعلی شہباز شریف کا معیار تھا اللہ کرے کہ ہم اس معیار کو نہ ہی میچ کر سکیں کیونکہ وہ ایک ون مین شو تھا جمہوریت نہیں تھی، موجودہ پنجاب حکومت نے بے شمار کام کیے ہیں۔ ان کاموں کو اب ہم بہترین انداز سے سامنے لائیں گے، پٹوار سسٹم ختم کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کے لیے بڑی تعداد میں فنڈز مختص کیے جارہے ہیں، صحت کا شعبہ ہو، تعلیم یا کوئی اور شعبہ اب ٹرانسفر پوسٹنگز میرٹ کی بنیاد پر کردی گئی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ کو لوگوں نے مسترد کیا ہے اور انہیں آگے بھی ناکامی کا سامنہ ہی کرنا پڑے گا۔‘

اتنے بڑے لیول پر تبدیلیوں اور تقرریوں کی پہلے کوئی مثال ملتی ہے؟

سابق نگران وزیراعلی اور سینیئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اتنے بڑے پیمانے پر افسر شاہی میں اکھاڑ پچھاڑ کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ موجودہ تبادلے صرف اس لیے کیے گئے ہیں کہ صوبہ میں گوورننس کو بہتر بنایا جاسکے لیکن ’میرے خیال میں ایسا ممکن نہیں کیونکہ افسر شاہی سے کام لینے کے لیے اچھا سیاسی ٹیم لیڈر ہونا ضروری ہے، جو کہ پنجاب میں موجود نہیں۔‘

نجمم سیٹھی کہتے ہیں کہ ’چونکہ سیاسی صورتحال بھی غیریقینی کا شکار ہے جس میں افسر شاہی بہتر ڈیلیور نہیں کر سکتی عمران خان کو پنجاب میں تبادلوں کے ساتھ ساتھ موثر سیاسی قیادت بھی فراہم کرنی چاہیے جس کے لیے وہ تیار نہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست