جاننا ہے کہ عمران خان کو میرے خلاف کس نے اکسایا: حامد خان

پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما حامد خان کا کہنا ہے کہ شوکاز نوٹس کے باجود بھی وہ پارٹی نہیں چھوڑیں گے اور پارٹی رکنیت کے لیے ہر ممکن دفاع کریں گے۔

تحریک انصاف کے بانی ممبران میں شمار ہونے والے حامد خان کو پارٹی بیانیے کو نقصان پہنچانے پر پی ٹی آئی کی جانب سے دو دسمبر کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ (تصویر: اے ایف پی)

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سینیئر وکیل حامد خان نے پارٹی کی جانب سے شوکاز نوٹس دیے جانے کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کسی حالت میں نہیں چھوڑیں گے، پارٹی ہی ان کے لیے سب کچھ ہے، لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ چیئرمین عمران خان کو ان کے خلاف کس نے اُکسایا۔

تحریک انصاف کے بانی ارکان میں شمار ہونے والے حامد خان کو پارٹی بیانیے کو نقصان پہنچانے پر پی ٹی آئی کی جانب سے دو دسمبر کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کا جواب انہوں نے آج جمع کروایا۔

نو صفحات پر مشتمل اپنے جواب میں حامد خان نے لکھا: ’میں واضح کرتا ہوں کہ پارٹی کسی حالت میں نہیں چھوڑوں گا۔ پارٹی میرے لیے سب کچھ ہے۔ میں نے پارٹی کو بہت وقت دیا۔ کوئی بھی مفاد پرست، زمین پر قبضہ کرنے والا، شوگر اور کرپٹ مافیا مجھے پارٹی سے نہیں نکال سکتا۔ اپنی رکنیت کے تحفظ کے لیے تمام آئینی و قانونی راستے اپناؤں گا۔‘

سپریم کورٹ میں انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں حامد خان نے شوکاز نوٹس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ تاثر مل رہا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق میڈیا پر میری رائے شو کاز نوٹس کی وجہ بنی۔‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’یہ تاثر غلط بھی ہوسکتا ہے، یہ جاننا ضروری ہے کہ پارٹی چیئرمین عمران خان صاحب کو میرے خلاف کارروائی پر کس نے اکسایا۔‘

حامد خان نے مزید بتایا کہ انہیں یکم دسمبر کو میڈیا کے ذریعے شوکاز نوٹس کا علم ہوا۔ ’چونکہ میڈیا کے ذریعے نوٹس بھیجا گیا، اس لیے میڈیا کے ذریعے ہی اس کا جواب دے رہا ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے واضح کیا کہ ’وہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے نوٹیفکیشن میں موجود قانونی سقم کا ذمہ دار تحریک انصاف کو نہیں سمجھتے، اگر پوری قانونی ٹیم آرمی چیف کی توسیع کا نوٹیفکیشن درست انداز میں جاری نہ کرسکی تو میں پارٹی کو کیسے مورد الزام ٹھہرا سکتا ہوں؟‘

حامد خان نے قانونی نکتہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اظہارِ وجوہ کا نوٹس دیے بغیر کسی کی رکنیت معطل نہیں کی جا سکتی۔ اُن کی رکنیت بغیر شوکاز نوٹس دیے معطل کرنے کی کوشش کی گئی، اس لیے وہ اپنی پارٹی رکنیت کے لیے ہر ممکن دفاع کریں گے۔

سینیئر قانون دان حامد خان تحریک انصاف کے سینیئر اور پرانے رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں لیکن ابتدا سے ہی ان کے بعض عہدیداروں سے اعلانیہ اختلافات رہے ہیں خاص طور پر پی ٹی آئی کے سابق جنرل سیکریٹری جہانگیر خان ترین اور سابق سینیئر وزیر عبدالعلیم خان سے متعلق کئی بار انہوں نے اپنے تحفظات کا برملا اظہارکیا۔

وہ ان شخصیات کی پالیسیوں سے متعلق کئی بار پارٹی سربراہ عمران خان کو بھی آگاہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے 2013 کے عام انتخابات میں لاہور سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر این اے 125، جو نئی حلقہ بندیوں کے بعد این اے 131 میں تبدیل ہوگیا، سے مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق کے مقابلے میں انتخاب لڑا لیکن انہیں شکست ہوئی تھی۔

سابق وزیر اعظم کے خلاف پی ٹی آئی نے پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے سامنے کیس رکھا تو کچھ پیشیوں کے بعد حامد خان نے اس کیس کی پیروی سے انکار کر دیا تھا، شاید یہی وجہ تھی کہ 2018 میں انہیں پارٹی نے ٹکٹ جاری نہ کیا اور این اے 131 سے عمران خان نے خود الیکشن میں حصہ لیا تو وہ معمولی فرق سے کامیاب ہوئے۔ سیٹ چھوڑنے کے بعد ضمنی الیکشن میں دوبارہ یہ نشست خواجہ سعد رفیق نے جیتی۔ اس کے علاوہ بھی حامد خان کئی بار پارٹی کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے نظر آئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست