برطانیہ میں انتخابات: کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟

سٹے باز اور انتخابات پر گہری نگاہ رکھنے والوں کے مطابق اس بات کے کافی امکانات ہیں کہ وزیر اعظم بورس جانسن فتح حاصل کرتے ہوئے کنزرویٹو جماعت کی وہ اکثریت واپس حاصل کر سکتے ہیں جو ان کی جماعت 2017 میں کھو چکی ہے۔

برطانوی پارلیمنٹ کا ایک منظر۔ (فائل تصویر: اے ایف پی)

برطانیہ میں آج انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جو کئی حوالے سے اہم ہیں۔

 خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فی الحال رائے شماری پولز کے مطابق وزیر اعظم بورس جانسن ایک سخت مقابلے میں معمولی برتری حاصل کیے ہوئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے بریگزٹ کے منصوبے پر عمل کر سکتے ہیں۔

وزیر اعظم بورس جانسن فتح حاصل کرتے ہوئے کنزرویٹو جماعت کی وہ اکثریت واپس حاصل کر سکتے ہیں جو ان کی جماعت 2017 میں کھو چکی ہے۔ سٹے باز اور انتخابات پر گہری نگاہ رکھنے والوں کے مطابق اس بات کے کافی امکانات ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کچھ دن پہلے تک واضح اور آسان جیت دکھائی دینے والی فتح نئی اور بڑے سروے کی رپورٹوں کے بعد مفروضہ ہی دکھائی دے رہی ہے۔

یو گوو پول کے نومبر میں ہونے والے سروے کے مطابق کنزرویٹو اکثریت 68 نشستوں سے کم ہو کر 28 ہو سکتی ہے۔ ہنگ پارلیمنٹ (معلق ایوان) کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

650 نشستوں کے ایوان میں حکومت سازی کے لیے 326 پر کامیابی ضروری ہے۔ پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ ٹوری پارٹی 339 نشستوں پر کامیابی حاصل کر لے گی۔

لیکن آئرش ری پبلکن پارٹی کی جانب سے اپنے ارکان کو برطانوی پارلیمنٹ میں نہ بھیجنے اور سپیکرز کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹ نہ ڈالنے کی وجہ سے یہ اکثریت چند ہی نشستوں کی ہو سکتی ہے۔

2017 کے انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی نے 317 نشستیں حاصل کی تھیں اور پھر شمالی آئرلینڈ کی ڈیموکریٹک یوننسٹ پارٹی کے دس ارکان سے معاہدے کے بعد حکومت سازی میں کامیابی حاصل کی تھی۔

کسی بھی قسم کی اکثریت بورس جانسن کو اپنے بریگزٹ پلان پر عملدرآمد کی اجازت دے دے گی جس کے بعد برطانیہ 31 جنوری تک یورپی یونین سے علیحدہ ہو جائے گا۔

دوسری جانب بائیں بازو کے نظریات کے حامی لیبر رہنما جیرمی کوربن تمام اعدادوشمار کے برخلاف اپ سیٹ کرتے ہوئے اکثریت حاصل کر سکتے ہیں۔ وہ اہم کاروباری شعبوں کو دوبارہ سے قومیا سکتے ہیں جن میں ریلوے اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔ وہ عوام پر پیسہ خرچ کرنے کی بھی ایک بڑی کوشش کریں گے۔

اگر جیرمی کوربن جیتتے ہیں تو برطانیہ یورپی یونین کا حصہ رہنے یا نہ رہنے کے بارے میں ایک بار پھر ووٹنگ کرے گا جس کو ’سافٹر‘ بریگزٹ کہا جا رہا ہے یا یورپی یونین کے ساتھ رہنے کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

لیبر جماعت کی فتح عالمی منظر نامے پر بھی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی نوجوانوں کی حمایت یافتہ تحریک کے لیے ایک بڑی جیت ثابت ہو سکتی ہے۔

اگر کوئی جماعت واضح برتری حاصل نہیں کر پاتی تو برطانیہ میں 2010 اور 2017 کی طرح ہی ہنگ پارلیمنٹ یعنی معلق پارلیمان سامنے آسکتی ہے جس میں کسی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہو گی۔

سیاسی جماعتوں کی صورت حال

یہاں اس برطانوی انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کی صورت حال، خدشات اور امکانات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

کنزرویٹو پارٹی

بورس جانسن کی کنزرویٹو جماعت ابھی بھی اکثریت حاصل کرنے کے لیے پر امید ہے لیکن شاید انہیں حزب اختلاف کی جماعتوں سے معاہدہ کرنا پڑے یا سابقہ اتحادیوں کی مدد کی ضرورت پڑھ سکتی ہے۔ اپنی جماعت سے باہر بورس جانسن کی کم ہی لوگوں سے بنتی ہے لیکن اتحادی جماعت ڈی یو پی ان کی بریگزٹ ڈیل سے خوش نہیں۔ شاید اسی وجہ سے بورس جانسن ان کی حمایت نہ حاصل کر پائیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو بورس جانسن ایک اقلیتی حکومت بنانے کی کوشش کریں گے لیکن اس کے لیے انہیں پارلیمنٹ کے اجلاس میں اہم ووٹ میں فتح حاصل کرنی ہوگی۔ اگر وہ ناکام ہوتے ہیں تو انہیں شاید استعفی دینا پڑے۔

لیبر پارٹی

بورس جانسن کی ناکامی کی صورت میں جیرمی کوربن سکاٹش نیشنل پارٹی کی مدد سے حکومت بنانے کی کوشش کریں گے بشرطیکہ وہ دوسرے سکاٹش ریفرنڈم کی ہامی بھرتے ہیں۔

لبرل ڈیموکریٹس بھی لیبر پارٹی کے دوسرے بریگزٹ ووٹ کے وعدے پر ان کی حمایت کر سکتے ہیں۔ ابھی تک یہ جماعت بہت واضح انداز میں جیرمی کوربن کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ اگر جیرمی کوربن بھی حکومت نہیں بنا سکے تو پھر اس صورت حال کا حل ایک اور انتخابات ہوں گے۔

بورس جانسن کے واضح اکثریت نہ حاصل کرنے کی صورت میں چھوٹی جماعتیں اہمیت حاصل کر جائیں گی۔

لبرل ڈیموکریٹس

39 سالہ رہنما جو سونسن کی سربراہی میں لبرل ڈیموکریٹس پر امید ہیں کہ وہ بچ جانے والے باقی ووٹ حاصل کر کے بریگزٹ کو منسوخ کر سکتے ہیں۔ خود کو یورپی یونین کی حامی جماعت کے طور دکھا کر لبرل ڈیموکریٹ پارٹی بریگزٹ کی حامی کنزرویٹو اور اس حوالے سے تذبذب کی شکار لیبر پارٹی سے بہتر کے طور پر سامنے لا رہی ہے۔

لبرل ڈیموکریٹ جماعت نے مئی میں ہونے والے دوسرے یورپی انتخابات میں 22 فی صد ووٹ حاصل کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔

ڈیموکریٹک یوننسٹ پارٹی

2017 میں بھی کنزرویٹو پارٹی اکثریت حاصل نہ کر سکنے کے باعث شمالی آئرلینڈ ڈیموکریٹک یوننسٹ پارٹی (ڈی یو پی) سے اتحاد کرنے پر مجبور ہوئی تھی لیکن بریگزٹ پر سخت گیر قدامت پسند جماعت کے غیر لچکدار موقف نے بورس جانسن کے بریگزٹ معاہدہ نہ کر پانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس سے قبل یہی جماعت ٹریزامے کی وزارت اعظمیٰ میں بھی برسلز کے ساتھ کسی مذاکرات کی مخالف رہی جس نے ٹریزامے کے زوال میں کردار ادا کیا۔ ڈی یو پی کو خدشہ ہے کہ بورس جانسن کا بریگزٹ معاہدہ شمالی آئرلینڈ اور برطانیہ کے درمیان سرحدیں کھڑی کر سکتا ہے جس کے بعد متحدہ آئرلینڈ کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

ڈی یو پے کے 49 سالہ رہنما ارلین فوسٹر ہیں جن کے والد، جو کہ ایک پولیس اہلکار تھے کو آئرش ری پبلک آرمی سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد نے گولی مار کے زخمی کر دیا تھا۔

سکاٹش نیشنل پارٹی
سکاٹش نیشنل پارٹی سکاٹ لینڈ کو برطانیہ سے علیحدہ کرنا چاہتی ہے۔ 2016 میں ہونے والے بریگزٹ انتخابات میں دس میں سے چھ سکاٹ باشندوں نے یورپی یونین میں رہنے کی حمایت کی تھی۔ اس جماعت کے سربراہ 49 سالہ نکولا سٹرجن ہیں جو ’سٹاپ بریگزٹ‘ کی مہم چلاتے رہے ہیں۔

سکاٹش نیشنل پارٹی کا ترقی پسند منشور ان کی لیبر جماعت کے ساتھ اتحاد کی وجہ بن سکتا ہے لیکن یہ جماعت 2020 میں دوسرا انڈپینڈنس ریفرنڈم چاہتی ہے۔ 2014 میں ہونے والے پہلے ریفرنڈم میں سکاٹش نیشنل پارٹی کو شکست ہوئی تھی۔

بریگزٹ پارٹی

55 سالہ نائجل فراج کی جماعت یورپ سے دوری چاہتی ہے۔ نائجل فراج کی 20 سالہ سیاست یورپی اداروں کی مخالفت پر مبنی ہے۔ اپنی تشکیل کے ہفتوں بعد ان کی جماعت نے مئی میں ہونے والے یورپی انتخابات میں فتح حاصل کی تھی، جس کے بعد ٹریزامے کو جانا پڑا اور ٹوری پارٹی میں اختلاف کھل کے سامنے آگئے۔

اپنے دوست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دخل اندازی کے باوجود نائجل فراج بریگزٹ کے حامی بورس جانسن کا مقابلہ کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا