تیز ترین خاتون اور ناقابل شکست پہلوان

پچھلے دس برس میں کرکٹ کے علاوہ دوسرے کھیلوں میں پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی کیسی رہی؟ خصوصی رپورٹ۔

(اے ایف پی، سوشل میڈیا)

(انڈپینڈنٹ اردو کی خصوصی سیریز ’دہائی کے دس‘ میں گذشتہ دس برس میں پاکستان کے حالات و واقعات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس سیریز کے دوسرے حصے پڑھنے کے لیے نیچے ’مزید پڑھیے‘ پر کلک کیجیے)

پاکستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں چاروں موسم آتے ہیں۔ اسی طرح اگر یہ کہا جائے کہ اس ملک میں صرف کرکٹ ہی ہے جس پر چاروں موسم آتے ہیں، مطلب کبھی بہت اچھی تو کبھی بہت بری۔

لیکن اگر کرکٹ کو ایک طرف رکھ کر دوسرے کھیلوں پر نظر ڈالی جائے تو شاید ان پر صرف خزاں کا موسم ہی چھایا دکھائی دیتا ہے۔

یہاں ہم نے ایسے ہی چند کھیلوں کا جائزہ لیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ گذشتہ دہائی کے دوران ان کھیلوں پر کب کب بہار کے رنگ دکھائی دیے۔

10: قومی کھیل کسی کو یاد بھی ہے؟

2010 سے شروع ہونے والی اس دہائی میں جو بچے بڑے اور جو بڑے جوان ہوئے انہیں اب شاید ہی معلوم ہو کہ پاکستان کا قومی کھیل کون سا ہے؟

اگر کہیں سکول میں قومی کھیل کے بارے میں پڑھ بھی لیا ہو تو انہیں شاید ہی کسی کھلاڑی کا نام یاد ہو، کیونکہ اب تو گوگل کرنے پر بھی کسی موجودہ کھلاڑی کے بارے میں کم ہی معلومات ملتی ہیں۔

چلیں ہم ہی آپ کو بتا دیتے ہیں کہ پاکستان کا قومی کھیل ہاکی ہے۔

کیا واقعی ہمارا قومی کھیل ہاکی ہی ہے؟

پاکستان نے 2010 میں ایشین گیمز اور 2016 میں ساؤتھ ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ جبکہ 2010 ہی میں بھارت میں ہونے والے ورلڈ کپ میں پاکستان 12 ٹیموں میں سب سے آخر میں رہا۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم 2014 کے عالمی کپ میں کوالیفائی ہی نہیں کرسکی تھی، جبکہ 2018 میں ہونے والے عالمی مقابلوں میں پاکستانی ہاکی ٹیم ایک بھی میچ نہ جیت سکی۔

9: سپر کبڈی لیگ

پاکستان میں کرکٹ کی طرح قومی کھیل ہاکی کی لیگ بھی کرانے کے اعلانات تو ہوتے رہے لیکن تاحال تو ایسا کچھ ہوا نہیں ہے لیکن پاکستان کبڈی لیگ کروانے میں ضرور کامیاب ہوا ہے۔

2018 میں ہونے والی پہلی سپر کبڈی لیگ میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے سو کھلاڑیوں نے شرکت کی۔

کل دس ٹیموں پر مشتمل اس لیگ میں ایران، بنگلہ دیش، سری لنکا اور ملائشیا کے کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔

اس کے علاوہ 2016 میں پاکستان نے روایتی حریف بھارت کو ایشیا کپ کے فائنل میں شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔

8 بیڈمنٹن کی چیمپیئن

ان دس سالوں میں پاکستان کھیلوں کے افق پر ایک اور نام ماحور شہزاد ابھر کر سامنے آیا۔

ماحور شہزاد بیڈمنٹن کی کھلاڑی ہیں جن کا نام بیڈمنٹن ورلڈ فیڈریشن جولائی 2019 میں آنے والی کھلاڑیوں کی تازہ رینکنگ میں ٹاپ 150 کھلاڑیوں میں شامل ہوا۔ ایسا تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے علاوہ ماحور شہزاد 2017 میں پاکستان انٹرنیشنل بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کے سنگلز میں سونے اور ڈبلز مقابلوں میں کانسی کا تمغہ جیت چکی ہیں۔ 

جنوبی کوریا میں ہونے والی ایشیئن گیمز 2014 میں ماحور پاکستان کی نمائندگی بھی کر چکی ہیں

وہ پاکستان انٹرنیشنل 2016 میں دوسری پوزیشن پر آئیں جبکہ 2017 میں ہونے والے ٹورنامنٹ کی فاتح رہیں۔

ماحور شہزاد نے بلغارین انٹرنیشنل چیمپیئن شپ 2019 میں کانسی کا تمغہ بھی جیتا جبکہ اسی سال 13ویں ایشین گیمز میں بھی وہ کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

7: کم عمری میں ’سنہری چوٹی‘

کوہ پیمائی کے حوالے سے یہ دہائی پاکستان کے لیے یادگار رہی ہے۔

پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ نے کوہِ ہمالیہ میں واقع دنیا کی چوتھی بلند ترین چوٹی لوسے سر کی، جو دنیا کی آٹھ ہزار میٹر سے بلند14چوٹیوں میں سے چھٹی چوٹی تھی جو انہوں نے سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

وہ 2016 میں 8126 میٹر بلند نانگا پربت بھی سر کر چکے ہیں۔

لیکن یہاں پاکستانی کوہ پیمائی میں قابل ذکر نام دس سالہ سلینا خواجہ کا ہے جنہوں نے ملک کے لیے ریکارڈ قائم کیا۔

سلینا خواجہ نے جولائی 2019 میں7027 میٹر بلند سپانٹک نامی چوٹی سر کی جسے ’گولڈن پیک‘ یا سنہری چوٹی کہا جاتا ہے۔ اس سنہری چوٹی کو سر کرنے کے بعد سلینا خواجہ سات ہزار میٹر بلند چوٹی سر کرنے والی دنیا کی سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئی ہیں۔

6: ایک تھرو سے سیدھا اولمپکس میں

پاکستان کے ایتھیلٹ اب تک ہاکی کے سوا تمام کھیلوں میں وائلڈ کارڈ کی بنیاد پر ہی اولمپکس میں شرکت کر پاتے تھے، لیکن ارشد ندیم اس ریکارڈ کو ختم کرتے ہوئے پہلے پاکستانی ایتھلیت بن گئے ہیں جنھوں نے اولمپکس کے لیے براہ راست کوالیفائی کیا ہے۔

ارشد ندیم نے یہ کارنامہ 13ویں جنوبی ایشیائی کھیلوں کے دوران سرانجام دیا، جہاں انھوں نے جیویلن تھرو کے مقابلوں میں 86.23 میٹر دور تھرو کر کے ایشین اور نیشنل گیمز میں نیا ریکارڈ بنایا۔

اس طرح انھوں نےسونے کا تمغہ تو جیتا ہی ساتھ میں وہ 2020 میں ہونے والے ٹوکیو اولمپکس کے لیے بھی براہ راست کوالیفائی کرنے والے پہلے پاکستانی بن گئے۔

5: دہائی کے سب سے زیادہ میڈل

ایسا صرف کرکٹ میں ہی نہیں بلکہ تمام کھیلوں کا پاکستان میں یہی حال کہ کبھی تو بالکل ہی مایوس کر دیتے ہیں اور کبھی یقین ہی نہیں آتا کہ پاکستان ایسا بھی کر سکتا ہے۔

اب حال ہی میں نیپال میں ہونے والی 13ویں جنوبی ایشیائی کھیلوں ہی کو دیکھ لیں جہاں پاکستان نے 132 میڈل جیت ڈالے۔

دیگر ممالک کے مقابلے میں یہ کوئی زیادہ بڑا کارنامہ نہیں ہے اور پاکستان ان کھیلوں میں چوتھے نمبر پر ہی آیا ہے، مگر اچھی بات یہ ہے کہ ان دس سالوں میں ہونے والے تین جنوبی ایشیائی کھیلوں میں سے اس مرتبہ پاکستان نے زیادہ میڈل جیتے ہیں۔

پاکستان نے ان جنوبی ایشیائی کھیلوں 2019 میں کل 132 میڈل جیتے جن میں 32 طلائی، 41 چاندی اور 59 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔

جبکہ 2010 میں پاکستان نے کل 80 میڈل جیتے جن میں صرف 19 سونے کے تمغے تھے۔ اس طرح 2016  میں ہونے والے جنوبی ایشیائی کھیلوں میں پاکستان نے 106 تمغے جیتے تھے جن میں 12 گولڈ میڈل شامل رہے۔

4: پھر سے چیمپیئن

 سنوکر پاکستان کے ان چار کھیلوں میں شامل ہے جن میں وہ عالمی چیمپیئن بنا ہے۔

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے محمد آصف ایک دہائی میں دو مرتبہ عالمی چیمپیئن بنے ہیں۔

 محمد آصف نے ورلڈ امیچر سنوکر چیمپیئن شپ کا اعزاز پہلی مرتبہ 2012 میں حاصل کیا تھا۔ اس وقت وہ پاکستان کی جانب سے سنوکر کے عالمی چیمپیئن بننے والے دوسرے کھلاڑی تھے۔

تاہم نومبر 2019 میں محمد آصف نے ایک بار پھر یہ اعزاز اپنے نام کر لیا۔

اس مرتبہ انہوں نے ترکی میں کھیلے جانے والے مقابلے میں فلپائین کے جیفرے روڈا کو پانچ کے مقابلے میں آٹھ فریمز سے شکست دے کر عالمی سنوکر امیچر چیمپیئن شپ میں کامیابی حاصل کی۔

3: فیلکن وسیم

2014 میں ہونے والی کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والا ایک نوجوان باکسنگ میں فلائی ویٹ کے فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے والا واحد پاکستانی بنا اور پھر وہ اس نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔

فیلکن کے نام سے پہچانے جانے والے بلوچستان کے محمد وسیم نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے سامنے کسی کو ٹکنے نہیں دیا۔

یہ کہنا کہ محمد وسیم نے اپنے سامنے کسی کو ٹکنے نہیں دیا کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ اب تک اپنے کریئر میں 11 مقابلوں میں سے انہیں صرف ایک ہی میں شکست ہوئی ہے باقی تمام دس میں انہوں نے کامیابی حاصل کی، جن میں آٹھ تو ناک آؤٹ شامل ہیں۔

محمد وسیم 2015 میں ساؤتھ کوریا بینٹم ویٹ ٹائٹل، 2016 میں ورلڈ باکسنگ کونسل کا سلور فلائی ویٹ ٹائٹل اور 2016 میں ہی اپنے ٹائٹل کا کامیابی دفاع بھی کر چکے ہیں۔

سنہ 2017 میں ورلڈ باکسنگ کونسل کی رینکنگز میں محمد وسیم کو فلائی ویٹ کیٹیگری میں عالمی نمبر ایک قرار دیا گیا تھا۔

صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے محمد وسیم پہلے پاکستانی باکسر ہیں جنھیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔

ابھی حال ہی میں23 نومبر 2019 کو  32 سالہ محمد وسیم نے دبئی میں ایک اور کامیابی اس وقت حاصل کی جب انہوں نے میکسیکو کے باکسر لوپیز کو شکست دی۔

2: جنوبی ایشیا کی تیز ترین خاتون

2010 کے آغاز میں پاکستان کے لیے اس وقت باعث فخر لمحہ آیا جب ایک نوجوان لڑکی نے اس خطے کی سب سے تیز ترین خاتون ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔

یقیناً زیادہ تر کو یا تو معلوم ہی نہیں ہوگا یا پھر بھول چکے ہوں گے۔

یکم مئی 1988 کو پیدا ہونے والی نسیم حمید نے 2010 میں ڈھاکہ میں ہونے والے جنوبی ایشیائی کھیلوں میں 100 میٹر کی دوڑ نہ صرف جیتی بلکہ جنوبی ایشیا کی تیز ترین ایتھلیٹ بھی قرار پائیں۔

نسیم حمید نے 100 میٹر کا فاصلہ 11.18 سیکنڈ میں طے کر کے پاکستان کے لیے طلائی کا تمغہ جیتا تھا۔

1: ’ناقابل شکست‘ پہلوان

ان دس سالوں میں شاید ریسلنگ ہی وہ کھیل تھا جس میں پاکستان نے صرف بہار ہی بہار دیکھی، جسے یقینی بنانے والے  پاکستان میں ریسلنگ کے سلطان انعام بٹ ہیں۔

ویسے تو انعام بٹ پاکستان میں سب سے کامیاب پہلوان ہیں جو ان دس سالوں کے دوران پاکستان کے لیے کئی طلائی تمغے جیت چکے ہیں، لیکن اگر ان سب میں سے یادگار مواقع کی بات کی جائے تو وہ بلاشبہ دولت مشترکہ کھیلوں میں جیتے جانے والے دو طلائی تمغے ہیں۔

انعام بٹ نے 2010 میں پہلا 2018 میں دوسری مرتبہ دولت مشترکہ کھیلوں میں گولڈ میڈل جیتا۔

ان کے میڈلز کی بات جائے تو جو سلسلہ انہوں نے 2010 میں شروع کیا تھا وہ دہائی کے آخر تک جاری رکھا اور 2019 کے جنوبی ایشیائی کھیلوں میں انہوں نے اپنے ٹائٹل کا کامیاب دفاع کرتے ہوئے آٹھ دسمبر 2019 کو گولڈ میڈل جیت لیا۔

انعام بٹ نے دولت مشترکہ کھیلوں کے علاوہ 2016 میں جنوبی ایشیائی کھیلوں اور بیچ ایشین گیمز، ورلڈ چیمپین 2017 اور 2018، ورلڈ بیچ گیمز 2019 میں گولڈ میڈل جیتے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل