سکول سے تختی گئی تو خطاطی کو بھی زوال آ گیا؟

خطاط ساحر عزیز کے مطابق صورت حال اب یہ ہے کہ جو سکولوں کے استاد ہیں ان کی لکھائی ایسی ہے جیسے آپ کسی چیونٹی کو سیاہی میں  ڈبو دیں  اور اسے کاغذ پر چھوڑ دیں۔

ساحر عزیز  ایک ماہر خطاط ہیں۔  یہ شوق انہیں اپنے گھر سے ملا۔ بائیس سال سے  وہ خطاطی کررہے ہیں۔  وہ سمجھتے ہیں کہ خطاطی کا فن  مرنے کے قریب ہے۔ اب نہ کوئی استاد ہے نہ کوئی شاگرد باقی رہا ہے۔

ساحر عزیز کہتے ہیں  کہ پہلے  خطاطی کا شوق سکول سے پھیلتا تھا لیکن جب سے سکولوں سے تختی کا خاتمہ کردیا گیا، تب سے نہ وہ استاد رہے جن کی خوشخطی کے چرچے ہوتے تھے نہ ہی طلبہ کو خوبصورت لکھائی کا شوق رہا ہے۔

ساحر عزیز کے مطابق صورتحال اب یہ ہے کہ جو سکولوں کے استاد ہیں ان کی لکھائی ایسی ہے جیسے آپ کسی چیونٹی کو سیاہی میں  ڈبو دیں  اور اسے کاغذ پر چھوڑ دیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ساحر عزیز کے مطابق اب کمپیوٹر اور پینا فلیکس کا دور ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کسی زمانے میں ہر جگہ آپ کو پینٹر نظر آتے تھے اب ان کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے۔

ساحر عزیز کہتے ہیں جن لوگوں کا ذریعہ معاش فن خطاطی  تھا اب وہ بے روزگار ہوگئے ہیں  اور دوسرے کام کرنے پر مجبور ہیں۔

ساحر سمجھتے ہیں کہ یہ فن پہلے بھی ناقدری کا شکار تھا اب تو اس کی حیثیت ایک مزدور کی جتنی بھی نہیں رہی۔

ساحر کے بقول ،فن خطاطی مرنے کے قریب ہے یا کہہ سکتے ہیں مرچکا ہے۔

ساحر بتاتے ہیں انہیں یہ شوق بچپن سے ہوا کیونکہ ان کے والد، بڑے بھائی اور چچا بھی خطاط تھے۔ ’آپ کہہ سکتے ہیں یہ ہمارا آبائی فن ہے۔‘

ساحر کے مطابق یہ ایک فطرتی عمل ہےکہ ہر کوئی خوبصورت چیز اور لکھائی دیکھنے کی خواہش رکھتا ہے۔ خطاطی بھی ایک خوبصورتی ہے۔ 

ساحر عزیز کے مطابق پاکستان  اوربلوچستان میں  خط نستعلیق رائج ہے۔

ساحر عزیز کہتے ہیں  جب سکولوں میں تختی رائج تھی تو بچوں کو بھی لکھنے اور خوش خطی کا شوق تھا۔ اب حالت یہ ہے کہ یہ فن مٹتا جارہا ہے۔ 

ساحر سمجھتے ہیں  سکولوں میں تختی سے یہ نقصان ہوا کہ آئندہ نسلوں کو صرف فن خطاطی کا نام معلوم ہوگا لیکن انہیں اس کے بارےمیں  معلوم نہیں ہوگا۔

ساحر کے بقول تختی کے خاتمے سے سکولوں کی حالت یہ ہے کہ جو اساتذہ ہیں ان کی لکھائی بھی انتہائی خراب ہے۔

ساحر عزیز کہتے ہیں کہ اس فن کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے خطاط کو اہمیت دینا ہوگی اور ایسے مواقع پیدا کرنے ہوں گے کہ طلبہ میں فن خطاطی کا شوق پیدا ہو اور یہ فن  مفقود ہونےسے  بچ جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان