دوحہ امن معاہدہ: افغانستان میں کیا چل رہا ہے؟

دوحہ میں طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدہ ہونے جارہا ہے لیکن کیا افغان آپس میں مل بیٹھنے کے لیے تیار ہیں؟

(فائل تصویر: اے ایف پی)

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے علاقے فروشگاہ میں سینکڑوں لوگ بلاخوف و خطر سودا سلف خریدنے میں مصروف ہیں اور کسی کو بم دھماکے یا خود کش حملے کا خوف نہیں۔

شہر کے کئی علاقوں میں جانے کا موقع ملا تو ہر جگہ بھیڑ دیکھی اورلوگ معمول کے مطابق کام میں مصروف نظر آئے۔ لوگ طالبان کی جانب سے سات دن کے لیے تشدد کی کمی پر خوش اور اب ان کی نظریں ہفتے کو قطر میں طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے پر ہیں۔ لیکن لوگ صدر اشرف غنی اور ان کے سیاسی مخالفین کے درمیان تناؤ پر بھی پریشان نظر آتے ہیں کیونکہ سیاسی اختلافات بین الافغانی مذاکرات کے لیے نیک شگون نہیں۔

سابق صدر حامد کرزئی نے اپنے دفتر میں جمعرات کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں کشیدگی ختم ہونے کی امید ہے تاہم انہوں نے ان خدشات سے کسی حد تک اتفاق کیا کہ اگر کشیدگی جاری رہی تو بین الافغانی مذاکرات میں مشکلات ہو سکتی ہیں۔

بین الافغانی مذاکرات کے لیے ابھی تاریخ طے نہیں ہوئی لیکن قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے جمعرات کو ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کے بعد افغانوں کے آپسی مذاکرات شروع ہونے ہیں۔

پہلے مفاہمت یہ تھی کہ امن معاہدے پر دستخط کے بعد دس دنوں میں یہ مذاکرات شروع ہوں گے، جس کے لیے جرمنی اور ناروے نے میزبانی کی پیشکش کی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ مذاکرات اس لیے طویل ہوسکتے ہیں کیونکہ اس میں افغانستان کے مستقبل کے نظام سے متعلق فیصلے ہونے ہیں جو مشکل مرحلہ ہوگا۔ طالبان اسلامی نظام کا ذکر کرتے ہیں اور کئی افغان رہنماؤں سے یہاں سنا ہے کہ افغانستان کا آئین اسلامی ہے اور اس آئین کے تحت افغانستان میں اسلام کے خلاف کوئی قانون نہیں بن سکتا۔ حامد کرزئی کا خیال ہے کہ بین الافغانی مذاکرات کو جلد نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کریں گے۔

22 فروری کو ایک ہفتے کے لیے تشدد میں کمی کے اعلان کے بعد پورے ملک میں کوئی بڑا حملہ نہیں ہوا لیکن حکومت نے چھوٹے واقعات رونما ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

بدھ کو کابل میں ایک موٹرسائیکل بم دھماکے میں ایک خاتون سمیت نو افراد زخمی ہوئے لیکن طالبان نے واقعے کے چند منٹ کے بعد فوری طور پر اس میں ملوث ہونے کی تردید کی۔ امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے عناصر سے متعلق خدشات موجود ہیں اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے بدھ کو ایک ملاقات میں بتایا کہ جنگ میں مفادات دیکھنے والے ملک کے اندر، کئی علاقائی اور بین الاقوامی ممالک امن عمل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

دوسری جانب صدر اشرف غنی کے سیاسی مخالفین کی سرگرمیاں جاری ہیں جو صدارتی انتخابات کے نتائج سے انکاری اور تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل حکومت بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سیاسی کشیدگی میں اضافہ اس وقت ہوا جب الیکشن کمیشن کی جانب سے گذشتہ ہفتے صدر اشرف غنی کے باضابطہ طور پر صدر منتخب ہونے کا اعلان کیا گیا اور ساتھ ہی دوسرے امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے اعلان کیا کہ انتخابات وہ جیتے ہیں اور وہ متوازی حکومت بنائیں گے اور صدر کا عہدہ بھی سنبھالیں گے۔

امریکی نمائندہ خصوصی زلمی خلیل زاد کو امن معاہدے پر دستخط کے لیے قطر میں ہونا چاہیے تھا لیکن انہوں نے کابل میں بیٹھ کرصدر غنی اور ان کے مخالفین کے مابین شٹل ڈپلومیسی جاری رکھی۔ خلیل زاد کی کوششوں سے بظاہر عارضی طور پرسیاسی کشیدگی کم تو ہوئی لیکن ختم نہیں ہوئی۔

دوسری طرف صدر غنی نے دوبارہ صدر کی حیثیت سے حلف لینے کی تقریب ملتوی کر دی جو جمعرات کو ہونا تھی اور اس کے ساتھ ڈاکٹر عبداللہ نے بھی اپنی حلف برداری ملتوی کر دی۔

لیکن دونوں کے ترجمانوں نے واضح کیا ہے کہ ان کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صدر اشرف غنی بھی صدر اور ڈاکٹر عبداللہ بھی صدر جنہوں نے پہلے سے متوازی حکومت کا اعلان کیا ہے اور کئی شمالی صوبوں میں اپنے گورنر مقرر کیے ہیں۔

صدر غنی کے مخالفین میں عبداللہ کے علاوہ حکمت یار، جنرل دوستم کی جنبش اور حزب وحدت کے دو دھڑے شامل ہیں۔ صدر کرزئی بھی مخالفین کے اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں اور انہوں نے بھی انتخابات کے نتائج کو مسترد کیا ہے۔

تاہم وہ دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ حکمت یار نے کہا کہ عبداللہ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کا فیصلہ ہے کہ غنی کو صدر تسلیم نہیں کیا جاتا اور تمام جماعتوں پر مشتمل قومی حکومت قائم کی جائے۔ صدر غنی کے ترجمان دوا خان مینا پال نے سیاسی جماعتوں پر مشتمل حکومت کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ افغانستان کے قوانین کے خلاف ہے۔

سیاسی کشیدگی کی وجہ سے ابھی تک واضح نہیں کہ بین الافغانی مذاکرات کے لیے حکومتی وفد کی تشکیل کس کی ذمہ داری ہے۔ کابل میں حاصل کی گئی معلومات کے مطابق صدر غنی نے طالبان سے مذاکرات کے لیے ایک آٹھ رکنی وفد بنانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن وفد کے اراکین کے نام کا اعلان ابھی باقی ہے۔

معلوم نہیں کہ طالبان کو صدر غنی کا وفد منظور ہو گا یا نہیں کیونکہ فہرست پر اختلافات کی وجہ سے گذشتہ سال نومبر میں چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے غیر رسمی بین الافغانی مذاکرات نہیں ہو سکے۔

اس اجلاس کے لیے صدر غنی نے جو فہرست بنائی تھی طالبان نے اس کو مسترد کیا تھا۔ کابل میں یہ تاثر ہے کہ صدر غنی اب ہر معاملے میں اپنا کنٹرول چاہتے ہیں لیکن شاید یہ پالیسی مسائل کے حل کی بجائے معاملات پیچیدہ کر سکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر