ڈی آئی خان: ’ملزمان نے گھر میں گھس کر گینگ ریپ کیا‘

واقعے کی ایف آئی آر کے مطابق ڈی آئی خان کی تحصیل پہاڑ پور کی رہائشی 18 سالہ خاتون کے ساتھ تین ملزمان نے فرداً فرداً ریپ کیا اور واقعے سے متعلق کسی کو بتانے پر قتل کرنے کی دھمکیاں دیں۔ پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

متاثرہ خاتون کے بھائی کے مطابق  ان کی بہنکے ساتھ ریپ کے بعد ہمیں دھمکیاں دی گئی تھیں کہ یہ بات اگر باہر گئی تو ہم تمہیں جان سے مار دیں گے  (تصویر: ملک رمضان اسراء)

خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان کی تحصیل پہاڑپور میں ایک 18 سالہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں یکم مارچ کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا، جب وہ رات کو اپنی والدہ کے ہمراہ کمرے میں سوئی ہوئی تھیں جبکہ ملزمان نے انہیں قتل کی دھمکیاں بھی دیں۔

ایس ایچ او پہاڑ پور انیس الحسن نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’تین مارچ کو متاثرہ خاتون نے اپنے بھائی اور والدہ کے ہمراہ تھانہ پہاڑ پور میں رپورٹ درج کرائی جس میں الزام عائد کیا گیا کہ تین ملزمان نے یکم مارچ کو رات تقریباً 12 بجے کے قریب گھر میں گھس کر انہیں باری باری ریپ کا نشانہ بنایا، جس پر پولیس نے فوراً ایف آئی آر درج کرکے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا جبکہ مزید کارروائی بھی کی جارہی ہے۔‘

واقعے کی ایف آئی آر کے مطابق تحصیل پہاڑ پور کے علاقے فخرآباد کی رہائشی خاتون کے ساتھ تین ملزمان نے فرداً فرداً ریپ کیا اور واقعے سے متعلق کسی کو بتانے پر قتل کرنے کی دھمکیاں دیں۔ 

جب انڈپینڈنٹ اردو نے تفتیشی افسر جمال دین سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ معاملہ عدالت میں ہے اور پولیس اس سلسلے میں کارروائی کررہی ہے۔

جب تفتیشی افسر سے یہ سوال کیا گیا کہ متاثرہ خاتون کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان کے ساتھ گھر میں گھس کر ریپ کیا گیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں تو پولیس نے مزید دفعات کے بجائے صرف ایک ہی دفعہ کیوں لگائی تو انہوں نے اس کا کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا۔

گرفتار ملزم کے بھائی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہمارے خلاف خوامخواہ جھوٹا کیس بنایا جارہا ہے۔ اصل کہانی یہ ہے کہ خاتون میرے بھائی سے شادی کرنا چاہتی تھیں، لیکن میرے بھائی کی کہیں اور منگنی طے ہو چکی ہے۔ خاتون نے میرے بھائی کی ہونے والی بیوی سے بھی کہا تھا کہ آپ ان کے ساتھ شادی مت کریں کیوں میں ان سے شادی کرنا چاہتی ہوں، جب کہ میرا بھائی ان سے شادی نہیں کرنا چاہتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر میرے بھائی پر یہ کیس سچ ثابت ہوگیا تو ہم اس سے دستبردار ہوکر مدعی کے ساتھ کھڑے ہوجائیں گے۔‘

دوسری جانب متاثرہ خاتون کے  بھائی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اب تک ہم اس لیے چپ رہے کہ کیونکہ ہم بہت غریب لوگ ہیں۔ میں گدھا گاڑی چلا کر اپنے خاندان کا پیٹ پالتا ہوں، لیکن اب کچھ مقامی افراد کے تعاون سے یہ بات منظر عام پر لارہے ہیں کیونکہ ہمیں انصاف ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ میں خود ٹی بی کا مریض ہوں، ہمارے والد نے بھی غربت کی وجہ سے خودکشی کرلی تھی۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’میری بہن ذہنی معذور ہیں، ان کے ساتھ ریپ کے بعد ہمیں دھمکیاں دی گئی تھیں کہ یہ بات اگر باہر گئی تو ہم تمہیں جان سے مار دیں گے اور یہی وجہ تھی کہ ہم نے اس خوف سے واقعے کے تین روز بعد پولیس میں پرچہ درج کروایا۔ ہمارے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوا ہے، میڈیکل ٹیسٹ بھی نارمل ظاہر کیے گئے ہیں جبکہ ملزمان طاقتور ہیں اور پولیس بھی ہمارے ساتھ مکمل تعاون نہیں کر پارہی، جس کا ثبوت یہ ہے کہ ملزمان نے ہمارے گھر میں گھس کر ریپ کیا، ہمیں دھمکیاں دیں لیکن پولیس نے ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی صرف ایک دفعہ 376 لگائی ہے۔ ہماری حکام بالا سے درخواست ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے، اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔‘

قانونی ماہرین کے مطابق اس کیس میں پولیس نے صرف دفعہ 376 کے تحت مقدمہ درج  کیا جبکہ جرم کی نوعیت کے تحت دفعات 452، 511، 506 اور 34 کا لگایا جانا بھی ضروری تھا۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق ڈی پی او نے متاثرہ خاتون کے اہل خانہ کو بلا کر تفتشی افسر کو حکم دیا کہ ایف آئی آر میں باقی دفعات بھی شامل کی جائیں جبکہ ڈی این اے کے ساتھ خاتون کا طبی معائنہ بھی کروانے کا حکم دیا گیا ہے۔

سماجی کارکن رجب علی فیصل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہمارے معاشرے میں اور خاص کر پسماندہ علاقوں میں ایسے بہت سارے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے کیونکہ کبھی پولیس کی ملی بھگت سے واقعات کی صحیح تفتیش نہیں کی جاتی تو کبھی مثاثرہ لوگ معاشرے میں بدنامی کے خوف سے ریپ کے کیس ظاہر بھی نہیں کرتے جبکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ علاقائی وڈیرے ایک جرگے میں ہی معاملہ نمٹا دیتے ہیں۔ دوسرا بہت ساری خواتین تعلیم یافتہ نہیں ہوتیں اور وہ ان معاملات میں بول بھی نہیں سکتیں کیوں کہ ایسا کرنا ہماری معاشرتی اقدار کے منافی سمجھا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان