کرونا : ’علاج سے بڑا مسئلہ ایک شخص سے دوسرے میں پھیلنا ہے‘

جامعہ کراچی کا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرالوجی پاکستان میں وائرس پر تحقیق کرنے والا واحد ادارہ ہے مگر حکومت نے ابھی تک اس سے مدد حاصل کرنے کے لیے رابطہ نہیں کیا۔

پاکستان میں وائرس پر تحقیق کے لیے اس وقت ایک ہی ادارہ موجود ہے۔ یہ ادارہ جامعہ کراچی کے ایک خوبصورت گوشے میں واقع، سرخ اینٹوں سے بنا، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرالوجی ہے جو کرونا وائرس کی تشخیص کے سلسلے میں اپنے طور پر کوشش کر رہا ہے۔ 

تاہم حیرت انگیز طور پر اب تک وفاقی یا سندھ حکومت نے اس ادارے سے رابطہ کر کے کرونا وائرس کے معاملے پر معاونت طلب نہیں کی۔

ادارے کے انچارج ڈاکٹر محمد راشد نے بتایا کہ یہ ادارہ ابھی نیا ہے اس لیے ممکن ہے کہ لوگوں کو اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہ ہوں۔

یہ ادارہ ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکیولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ (جس کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری ہیں) کا ذیلی ادارہ ہے، جو جامعہ کراچی کے ماتحت ہوتے ہوئے بھی اپنے معاملات میں کافی حد تک خود مختار ہے۔

گذشتہ سال ستمبر میں وفاقی وزیرِ تعلیم اور فنی تربیت شفقت محمود نے اس کا افتتاح کیا تھا۔ ادارے کے سرپرستِ اعلیٰ پروفیسر عطا الرحمٰن ہیں، جو وزیرِ اعظم کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترویج کے لیے بنائی گئی خصوصی ٹاسک فورس کے سربراہ بھی ہیں۔

اس کے باوجود وفاقی حکومت نے اس ادارے کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی زحمت نہیں کی۔ ڈاکٹر محمد راشد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ کچھ ہسپتالوں جیسے انڈس ہسپتال کے ساتھ کام ضرور کر رہے ہیں، تاہم اگر کوئی ان سے مدد مانگے تو اپنی محدود صلاحیت کے ساتھ مدد کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے اپنے ادارے کے بارے میں بتایا کہ وہ تشخیصی عمل میں آسانی پیدا کرنے کے لیے تین مختلف قسم کی کِٹس پر کام کر رہا ہے تاکہ جو نمونے حاصل کیے جائیں انہیں تجربہ گاہ تک با آسانی پہنچایا جاسکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر محمد راشد کے مطابق کرونا وائرس کے مشتبہ مریض سے نمونے حاصل کرنا پیچیدہ کام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی نظامِ تنفّس یعنی سانس لینے کے نظام میں کچھ خاص طرح کی رطوبتیں ہوتی ہیں جنہیں ناک کے اندرونی حصے یا حلق کے اندر سے لیا جاتا ہے اور انہیں نکالنے کا طریقہ کافی پیچیدہ ہے اور بہت کم افراد اس پر مہارت رکھتے ہیں۔

'نمونے حاصل کرنے کے بعد انہیں ایک خاص قسم کے محلول میں رکھنا ہوتا ہے تاکہ یہ لیبارٹری تک پہنچ سکیں۔'

ڈاکٹر راشد نے بتایا کہ چونکہ پاکستان میں یہ وبا پھیلنے کا خدشہ ہے لہٰذا مزید تشخیصی کٹس کی ضرورت پڑے گی۔

تاہم اب تک صرف تشخیص کی بات کی جارہی ہے اور اس وبا سے بچاؤ یا علاج پر کچھ کیوں نہیں کیا جا رہا؟ اس بارے میں ڈاکٹر راشد کا کہنا تھا کہ علاج اور بچاؤ دو مختلف چیزیں ہیں۔

'علاج کا مطلب اینٹی وائرل دوا بنانا ہے جس پر دنیا میں بالکل کام نہیں ہو رہا کیونکہ یہ سانس کے ساتھ پھیلنے والا وائرس ہے، جو بہت خطرناک ہوتے ہیں۔

'جہاں تک بچاؤ کی بات ہے تو اس کی ویکسین پر دنیا میں کافی زیادہ کام ہو رہا ہے اور کچھ ادویات کے اب تجربات بھی شروع کیے جا چکے ہیں۔'

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف وائرالوجی اس سلسلے میں کیا کر رہا ہے؟ اس بارے میں ڈاکٹر راشد کا کہنا تھا کہ ویکسین بنانے کے لیے زندہ وائرس کا ہونا ضروری ہے، جیسے مچھر مار دوا بنانے کے لیے مچھر درکار ہوں گے تاکہ ان پر دوا کا تجربہ کیا جاسکے۔

اسی طرح کرونا وائرس کو مارنے کی دوا بنانے کے لیے پہلے لیبارٹری میں کرونا وائرس تیار کرنا ہوگا جو ایک خطرناک عمل ہے اور اس کے لیے انتہائی تربیت یافتہ عملہ درکار ہوتا ہے جو فی الوقت پاکستان میں موجود نہیں۔

کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ویکسین بنانے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی ایک نہایت ہی طویل اور پیچیدہ عمل ہے اور اس سلسلے میں بھی پاکستان میں مطلوبہ سہولت والی لیب اور عملہ موجود نہیں۔

تو صرف تشخیص پر ہی اتنا زور کیوں دیا جارہا ہے؟ اس بارے میں ڈاکٹر راشد نے کہا کہ کووڈ 19 کے مریض کا علاج اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے جتنا اس بیماری کا ایک مریض سے دوسرے میں پھیلنا۔

انہوں نے کہا کہ بروقت تشخیص کے بعد فوراً متاثرہ شخص کو علیحدہ کر دیا جائے تو اس وائرس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر راشد نے مشورہ دیا کہ لوگ احتیاط کریں بالخصوص وہ جو اس سے متاثر ہیں انہیں زیادہ احتیاط کرنا ہوگی کیونکہ اگر ایک صحت مند شخص اس وائرس کا مقابلہ کر لے گا مگر اس سے کسی کمزور مدافعت والے شخص کو یہ وائرس لگا تو وہ شاید کرونا وائرس سے لڑ نہ سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق