کرونا کے بعد ڈیجیٹل ڈیٹنگ: جسمانی دوری اور آن لائن سرگرمیاں

حالیہ وقتوں تک اچانک غائب ہو جانا، دھوکہ دہی اور دوری اختیار کرنے کا عمل دراصل حقیقی محبت کی راہ میں بڑی رکاوٹ تھا، لیکن اب تو یہ راستہ مزید مشکلات کا شکار ہے اور آپ کو اس پر قدم رکھنے کے لیے گھر سے نکلنے کی اجازت تک نہیں ہے۔

وہ جوڑے جن کے درمیان طویل عرصے سے تعلقات قائم ہیں، وہ بھی کرونا کی وبا کے اثرات سے بالاتر نہیں ہیں۔ (فائل تصویر: اے ایف پی)

اگر آپ کا خیال تھا کہ اس سے پہلے ڈیٹنگ پیچیدہ ہوتی تھی تو اب تیار ہوجائیں۔ حالیہ وقتوں تک اچانک غائب ہو جانا، دھوکہ دہی اور دوری اختیار کرنے کا عمل دراصل حقیقی محبت کی راہ میں بڑی رکاوٹ تھا، لیکن اب تو یہ راستہ مزید مشکلات کا شکار ہے اور آپ کو اس پر قدم رکھنے کے لیے گھر سے نکلنے کی اجازت تک نہیں ہے۔

کرونا (کورونا) وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد دنیا بھر میں لوگ گھر کے اندر رہ کر وقت گزار رہے ہیں۔ اس صورت حال کا غیر شادی شدہ افراد کے لیے یہ مطلب ہے کہ رات گئے جب گھر کے دوسرے مکین سو رہے ہوں تو ویڈیو کالز اور خود لذتی کچھ وقت کے لیے بہت پرکشش ہو سکتی ہے۔ وہ دن گئے جب حقیقی زندگی میں پہلی ملاقات ہوا کرتی تھی۔ کسی سے پہلی بار ذاتی طور پر ملاقات، ان کا ہاتھ آپ کے کندھے پر آنے سے آپ کا پرجوش ہونا۔ کون جانتا ہے کہ ہم کسی دوسرے شخص کا ہاتھ پہلے اس پر سینیٹائزر لگانے کی خواہش سے لڑے بغیر کتنی دیر تک پکڑے رکھیں گے؟

لاک ڈاؤن کے بعد ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ہی ہم اس کے ڈیٹنگ پر اثرات دیکھ چکے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی صحافی نے ڈیٹنگ ایپ 'ہنج' پر حال ہی میں ملنے والے ایک دوست کے ساتھ قرنطینہ (آئیسولیشن) میں جانے کے بارے میں ٹوئٹر پر پیغام پوسٹ کیا، جو وائرل ہو گیا۔ بظاہر یہ ٹھیک ہو رہا ہے اور جوڑے نے ایسٹر کے افسانوی انڈے کے ساتھ حال ہی میں 'آئیسولیشن کا ایک ہفتہ' منایا۔

دوسری جگہ 'قرنطینہ میں محبت' کے نام سے جوڑے بنانے کا ایک آن لائن منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے لیے آن لائن سٹریمنگ سروس نیٹ فلکس کی مقبول سیریز 'لو اِز بلائنڈ' کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اس منصوبے پر کام کرنے والے، لوگوں کی آن لائن ملاقاتیں کروانے میں مصروف ہیں۔ اگرچہ یہ ایک دلچسپ کہانی ہے لیکن اس کے ان تبدیلیوں پر زیادہ سنجیدہ اثرات بھی ہیں خاص طور پر ایسی صورت حال میں کہ جب برطانیہ کو پہلے ہی یورپ کا تنہائی کا شکار دارالحکومت خیال کیا جاتا ہے۔

ہمارے پاس تنہائی کا اپنا وزیر بھی ہے۔ کرونا وائرس کی وبا نے جسمانی رابطے کو کم کر دیا ہے جو لوگوں کی ذہنی صحت کے راستے میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے، خاص طور پر اگر وہ اکیلے رہنے والے 77 لاکھ برطانوی شہریوں میں سے ایک ہوں۔

ڈیٹنگ ایپس کے مطابق ان کے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ’بمبل‘ نامی ایپ نے بتایا ہے کہ وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد ایپ کے ذریعے بھیجے گئے پیغامات میں اوسطاً 35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ایپ استعمال کرتے ہوئے وائس اور ویڈیو کالیں بھی بڑھی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب ٹِنڈر کے صارفین کی سرگرمیاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ ایپ پر ہونے والی گفتگو کے دورانیے میں گذشہ ماہ کے مقابلے میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے جو اس صورت حال کے پیش نظر حیران کن نہیں ہے کہ ہر کسی کے پاس زیادہ وقت ہے کہ وہ ایسی چکنی چپڑی باتوں پر غور کر سکے۔

’بمبل‘ نامی ایپ کے ترجمان نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’اب جب کہ ہم جسمانی دوری کے ابتدائی مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں تو ہم توقع کر رہے ہیں کہ صارفین میں ایسے مزید رجحانات پیدا ہوں گے جس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ایسے طریقوں کی تلاش میں ہیں جن کی مدد سے وہ اپنے آپ کو آن لائن ہونے والے ون آن ون رابطوں میں مصروف رکھ سکیں۔‘

بلاشہ آج کی ڈیجیٹل ڈیٹنگ کی دنیا میں محبت کے معاملے میں یہ کوئی زیادہ منفرد بات نہیں کہ وہ پردے کے پیچھے رہتے ہوئے آگے بڑھے۔ اس کے بارے میں یہ خیال نہیں کیا جا رہا کہ وہ ہمیشہ اسی طرح رہے گی۔

اس کے باوجود ماہر نفسیات ڈیریا کوس نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا ہے کہ کسی تعلق کے لیے بالکل ممکن ہے کہ وہ کسی ورچوئل ماحول میں پروان چڑھے۔ ’رابطے میں رہنے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال، ایک دوسرے کو باقاعدگی سے دیکھنے اور بات کرنے اور آن لائن مشترکہ سرگرمیوں میں حصہ لینے سے ایک جوڑے میں مضبوط جذباتی تعلق قائم ہو سکتا ہے۔‘

یقینی طور پر یہی معاملہ لندن میں مقیم 21 سالہ طالبہ کینڈس نامی طالبہ کا ہے جنہوں نے دی انڈپینڈنٹ کے ’ملینیئل لَو‘ کے نام سے پوڈکاسٹ پر وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کس طرح وہ اور ان کا دوست فیس ٹائم نامی ایپ استعمال کرتے ہوئے دو ماہ سے رابطے میں ہیں کیونکہ سرحد بند ہونے سے پہلے انہیں فرانس میں واقع اپنے آبائی قصبے میں واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا: ’اس سے معاملات میں کچھ تیزی آئی ہے اور ہم نے اپنی شامیں باتیں کرتے ہوئے گزاری ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم کم از کم دو یا تین ماہ تک ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکیں گے لیکن یہ واقعی بڑی اچھی بات ہے کہ ہم کسی جسمانی کشش کے راستے میں آئے بغیر ایک دوسرے کو زیادہ گہرائی میں جاننے پر توجہ دے رہے ہیں۔‘

جذباتی تعلق سے عاری جنسی عمل غائب ہو چکا ہے۔ اس طرح ڈیٹنگ کے منظرنامے پر کرونا وائرس نے وقت کو پلٹا دیا ہے۔ ایسے رابطے جیسے کینڈس نامی طالبہ کے ہیں، ڈیٹنگ کی متروک رسومات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ماہر نفسیات کوس وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں: ’ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ورچوئل تعلق کا دور زیادہ روایتی معاشقے والے دور کی یاد دلا رہا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں: ’ان حالات میں ایک جوڑے کو ایک دوسرے کو جاننے کے لیے زیادہ وقت ملے گا۔ روایتی طور پر سیدھے سادے جوڑوں میں مرد اپنی توجہ اور محبت سے عورت کو اپنی جانب راغب کرتا ہے کہ پائیدار تعلق قائم کرنے کے اپنے ارادوں کو مضبوط کر سکے۔ثاس لیے ورچوئل تعلقات کو، خاص طور پر ابتدائی مراحل میں، جدید دور کا معاشقہ سمجھا جا سکتا ہے۔‘

وہ جوڑے جن کے درمیان طویل عرصے سے تعلقات قائم ہیں، وہ بھی کرونا کی وبا کے اثرات سے بالاتر نہیں ہیں۔ لاک ڈاؤن کا شکریہ کہ پہلے سے اکٹھے رہنے والے معمول سے کہیں زیادہ وقت اکٹھے گزاریں گے۔ اشارہ مل رہا ہے کہ ٹیلی ویژن ریموٹ اور یہ کہ ٹوائلٹ رولز کی خریداری کے لیے کس کی باری ہے، ان معاملات پر ختم نہ ہونے والے جھگڑے ہوں گے۔ ایسے جوڑے جو فیصلہ کیے بغیر ہفتے یا مہینے تک الگ الگ رہنے کا خطرہ مول نہیں لیتے انہیں 'اپنے تعلق کی مضبوطی آزمانے' اور اکٹھے ہونے کا موقع ملے گا کیونکہ اس ہفتے کے شروع میں برطانوی حکومت ایسا کرنے کے لیے کہہ چکی ہے۔

ڈیٹنگ کی ماہر نفسیات میڈلین میسن روانٹری نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا ہےکہ غیرشادی شدہ جوڑوں کے لیے یہ جاننے کے لیے اس سے بہتر اور کوئی موقع نہیں کہ آیا ان کا تعلق قائم رہتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: 'مشکل وقت میں جوڑے قریب آتے ہیں۔ انہیں نیا اور مشترکہ مفہوم ملتا ہے۔'

رواٹری مزید کہتی ہیں: ’جب ہم ایک دوسرے پر اپنا جذبہ اور کمزوری ظاہر کرتے ہیں تو اس صورت میں کوئی جادوئی واقعہ رونما ہو سکتا ہے۔ جب ناگزیر مشکلات سامنے آئیں گی تو اکٹھے ہونا ہی وہ عمل ہو سکتا ہے جس سے پتہ چلے گا کہ حقیقت میں آپ اور آپ کے پارٹنر میں کتنی صلاحیت ہے۔‘

کچھ لوگوں کے لیے جیسا کہ 30 سالہ ڈی جے ہیریئٹ روز کے لیے اکٹھے ہونے کا غیر متوقع عمل حیرت انگیز لیکن اطمینان بخش ہے۔ روز نے حال ہی میں ایک خاتون کے ساتھ رہنا شروع کیا جن کے ساتھ وہ دو ماہ تک ڈیٹنگ پر جاتی رہی ہیں۔ روز نے ’ملینیئل لَو‘ کو بتایا: ’یہ واقعی بہت اچھی بات ہے۔ ہم واقعی ہر معاملے میں آزاد اور دیانت دار ہیں اور ایک دوسرے کے لیے زیادہ سے زیادہ گنجائش پیدا کر رہے ہیں۔ یہ سب بڑا سکون بخش ہے۔‘

جہاں تک 24 سالہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ مینیجر لورین کا تعلق ہے، حالات اتنے بھی اچھے نہیں ہیں۔ وہ دو ماہ سے اپنے پارٹنر کے ساتھ دیہی علاقے میں واقع گھر میں آ کر رہی ہیں جبکہ خاندان کے دوسرے افراد بھی ان کے ساتھ ہیں۔

وہ وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں: ’ہم مختصر وقت کے لیے گئے تھے لیکن خدا جانے کتنے عرصے کے لیے رہنا پڑے گا۔‘

جیسا کہ لورین کی کہانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرونا کے تجربے کے دوران کسی فرد کی محبت کو اچھے یا برے وقت کے تناظر میں بیان کیا جا سکتا ہے اور بعض جوڑوں کے لیے خاص طور پر برا ثابت ہوا ہے۔ جیسا کہ آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی چیرا جن کی اپنے بوائے فرینڈ سے حال ہی میں علیحدگی ہوئی ہے اور انہیں ان کے ساتھ رہنا پڑ رہا ہے۔

چیرا نے ’ملینیئل لو‘ پر اپنا دکھڑا سناتے ہوئے کہا: ’خدا جانے کب تک ہم ایک ہی بستر پر سوتے رہیں گے۔‘

بعض جوڑے ایک دوسرے سے ملنے کے لیے سزا تک کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔ ایک اطالوی جوڑے کو اس وقت پکڑ لیا گیا جب وہ کار میں جنسی عمل میں مصروف تھے حالانکہ ضروری وجوہات کے بغیر گھر سے نکلنے پر پابندی تھی۔ بظاہر ہوشیار جوڑے نے ایک پارک میں چھپنے کی کوشش کی تھی۔ انہیں اس کوشش پر سب سے زیادہ نمبر ملنے چاہییں۔

کوئی نہیں جانتا کہ موجود حالات کب تک برقرار رہیں گے اور ہم میں بہت سے لوگ جو اب سخت اور محدود حالات میں رہ رہے ہیں، کون جانتا ہے کہ ہمارے تعلقات پر کس قسم کے اثرات پڑیں گے جو طویل عرصے تک قائم رہیں گے۔

کیا یہ جدید دور کی ڈیٹنگ کے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے؟ کیا 'رفو چکر ہو جانے' اور 'دانہ ڈالنے' جیسی اصلاحات متروک ہو جائیں گی۔ کیا ان کی جگہ ’غائب ہو جانے‘ (ایک وقت پر گھنٹوں تک آن لائن رابطے سے گریز کرنا تاکہ آنکھوں کو سکون مل سکے) اور ’دوپہرکے کھانے کا وقفہ‘ (کسی کے ساتھ خالصتاً ورچوئل ڈیٹنگ پر جانا تاکہ آپ کھانے کے وقفے کے دوران اس سے بات  کر سکیں) جیسی اصطلاحات لے لیں گی؟

عجیب اور غیرمعمولی وقتوں میں محبت کے حوالے سے سب کچھ نازک ہے۔ شاید اس بہت بنیادی حقیقت کو چھوڑ کر کہ ہم سب کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ اس کی ضرورت ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین