کابل میں اغوا ہونے والے پاکستانی ڈاکٹر پر کیا گزری؟

ڈاکٹر وقار احمد کو افغان خفیہ ایجنسی نے گذشتہ سال اکتوبر میں پاکستانی ایجنٹ ہونے کا الزام لگا کر پکڑ لیا تھا۔

ڈاکٹر وقار احمدکے مطابق دوران حراست ان پر بے پناہ تشدد کیا گیا(تصویر بشکریہ وقار احمد)

 گذشتہ برس 23 اکتوبر کا دن ڈاکٹر وقار احمد کے لیے بہت بھاری تھا۔ انہیں علم نہیں تھا کہ وہ کابل میں میڈیکل کے امتحان کا آخری پرچہ دینے کے بعد واپس پشاور نہیں جا سکیں گے بلکہ افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے ہتھے چڑھ جائیں گے، جس کے اہلکار انہیں پکڑنے کے لیے کابل پوسٹ ٹاور کے پاس گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ 

وقار ہوٹل سے کسی کام کے غرض سے پوسٹ ٹاور تک گئے اور پھر پانچ ماہ تک گھر والے اُن کی آواز تک نہ سُن سکے۔
چارسدہ سے تعلق رکھنے والے پشاور کے رہائشی ڈاکٹر وقار 20 مارچ کو کابل سے اسلام آباد پہنچے تو ایئرپورٹ پر اہل خانہ بے تابی سے اُن کا انتظار کر رہے تھے۔ واپس پہنچنے کے بعد ڈاکٹر وقار نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی بات چیت کی اور افغان خفیہ ایجنسی کی تحویل میں گزرے مشکل وقت کی روداد سناتے ہوئے کہا کہ وہ ذہنی مریض بنتے جا رہے تھے۔
’دل چاہ رہا تھا کہ میں مر جاؤں یا کوئی مجھے مار دے لیکن یہ اذیت ختم ہو جائے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’23 اکتوبر کو جب وہ ہوٹل سے نکلے تو چار لوگوں نے گھیر لیا اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر گاڑی میں ساتھ لے گئے۔ اُس کے بعد انہیں نہیں معلوم کہ گاڑی کہاں جا رہی ہے۔ کچھ دیر بعد گاڑی رکی تو میں نے انہیں پشتو میں کہتے سنا کہ اس پاکستانی کو اُس قید خانے میں ڈالو جہاں سب سے زیادہ تشدد ہوتا ہے۔‘
اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کو دُہراتے ہوئے وقار نے کہا: 'انہوں نے تعارف کرایا کہ وہ جگہ افغان خفیہ ایجنسی کا عقوبت خانہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے پاس پانچ ہزار ڈالرز ہیں اس لیے تمہیں پکڑا ہے کیونکہ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ تم آئی ایس آئی کے ایجنٹ ہو اور چونکہ پشتون ہو اور پشتو جانتے ہو اس لیے تمہیں پاکستان نے افغانستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے بھیجا ہے۔ انہوں نے مجھ پر الزام لگایا کہ یہ پیسے میں نے ضرور طالبان کو دینے ہوں گے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وقار نے کہا اُس کے بعد انہوں نے بدترین تشدد کیا، راتوں کو سونے نہیں دیتے تھے اور اگر وہ سو جاتے تو انہیں فوراً جگا کر تفتیشی کمرے میں لے جا کر تشدد کرتے اور مارتے۔ 

’وہ مجھے کھانے میں کچے آٹے کی روٹی اور پتلا سالن دیتے۔ تشدد سے چار مرتبہ بیمار بھی ہوا تو انہوں نے پینا ڈول کی گولیاں دیں۔‘
وقار نے بتایا کہ وہ ایک مہینہ افغان خفیہ ایجنسی کی تحویل میں رہے اور جب مقدمہ عدالت میں شروع ہوا تو انہیں افغان پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا، جہاں وہ باقی چار مہینے قید رہے۔ 
'افغان حکومت نے مجھ پر جاسوسی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کا مقدمہ درج کیا لیکن میرے پاس موجود پانچ ہزار ڈالرز کے، ان کے پاس اورکوئی ثبوت نہیں تھا۔'
انہوں نے رقم کے حوالے سے بتایا کہ وہ پانچ ہزار ڈالرز ان کے ذاتی نہیں تھے بلکہ ایک افغان دوست نے ان کے پاس رکھوائے تھے لیکن 'اب سوچتا ہوں کہیں وہ پیسے مجھے پھنسانے کے لیے تو نہیں رکھوائے گئے؟'
وقار نے بتایا کہ تین مارچ ان کی زندگی کا خوش قسمت دن تھا جب افغانستان کی سپریم کورٹ نے حکومت کے ناکافی ثبوتوں پر انہیں بے گناہ قرار دے دیا اور یوں 17 مارچ کو انہیں رہا کر دیا گیا۔
’کابل میں موجود پاکستانی سفارت خانے نے دو دن مجھے اپنے پاس رکھا اور میرے لیے کابل سے اسلام آباد فلائٹ بُک کروائی۔ اپنے گھر والوں سے دوبارہ ملنا ایک خواب جیسا تھا،  مجھے لگا جیسے مجھے دوبارہ زندگی ملی ہے۔‘
وقار کے بھائی سلمان احمد نے ٹیلی فون پر بتایا کہ وقار کی واپسی کی خوشی ایسے ہی ہے جیسے قبرستان سے کوئی مردہ شخص زندہ ہو کر واپس آ جائے۔ 'ہم نے وقار کی واپسی کے لیے بہت کوششیں کیں۔ پانچ ماہ میں تقریباً 75 لاکھ روپے خرچ کیے۔ کچھ وکیلوں کی فیسوں پر، کچھ جیل میں وقار کے لیے خرچہ پانی اور باقی کی رقم کابل میں افغان حکومت کے تفتیشی افسر نے بطور رشوت لی۔'
انہوں نے مزید بتایا کہ وقار کی واپسی کے لیے حکومتِ پاکستان نے مدد کی اور کابل میں موجود پاکستانی سفارت خانے نے معاونت کے لیے ایک وکیل بھی مہیا کیا۔ 
'ہم نے دو نجی وکیل کیے تھے اور ایک وکیل حکومتِ پاکستان کا تھا، جن کی مدد سے پہلے ہائی کورٹ اور پھر افغانستان سپریم کورٹ تک وقار کی گمشدگی کا معاملہ پہنچا اور کیس جیتا۔'
یاد رہے 26 اکتوبر کو افغانستان میں وقار نامی ایک پاکستانی ڈاکٹر کے مبینہ طور پر افغان خفیہ ایجنسی کے ہاتھوں اغوا کی رپورٹس سامنے آئی تھیں، جس کے بعد کابل میں موجود پاکستانی سفارت خانے نے یہ معاملہ افغان دفتر خارجہ حکام کے ساتھ اُٹھایا تھا۔ دوسری جانب مغوی کے بھائی سلمان احمد نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے مدد کی درخواست کی۔
سلمان احمد کے مطابق’وقار نے پژواک یونیورسٹی کابل سے منسلک پشاور میں قائم امام غزالی میڈیکل کالج میں داخلہ لیا تھا، لیکن میڈیکل کے چوتھے سال کالج بند ہونے پر آخری سال کے پرچے دینے کابل گئے، جہاں ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔'

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی