'کرونا ٹیسٹ کے لیے نمونے پشاور پہنچانے پر 40 ہزار روپے کا خرچہ'

صوبائی محکمہ صحت کے ایک اہلکار کے مطابق پشاور کی خیبر میڈیکل یونیورسٹی روزانہ تقریباً 700 ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اصل مسئلہ دوردراز کے اضلاع سے نمونے لے کر اس لیب تک پہنچانا ہے۔

لواری ٹنل، چترال میں ایک چیک پوسٹ  پرکرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے جراثیم کش سپرے کیا جا رہا ہے (تصویر: اے ایف پی)

کرونا (کورونا) وائرس نے پوری دنیا کی طرح پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ نہ صرف مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ مختلف شعبوں پر معاشی اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ خصوصاً خیبر پختونخوا میں اضلاع کے اوپر معاشی بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوردراز کے اضلاع سے نمونے پشاور بھیجنے پر ہزاروں روپے کے اخراجات آتے ہیں۔

چترال میں محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ٹیسٹ تو حکومت کی جانب سے کیے جا رہے ہیں لیکن اضلاع کے مراکز صحت  کو فنڈنگ کے مسائل سامنے آرہے ہیں اور کرونا ٹیسٹ کے لیے نمونے پشاور پہنچانے کے ایک ٹرپ پر تقریباً 40 ہزار روپے کا خرچہ آتا ہے۔

مذکورہ اہلکار نے بتایا کہ صوبے کی بڑے سرکاری لیب جو خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے تحت کام کر رہی ہے، روزانہ تقریباً 700 ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اصل مسئلہ دور دراز اضلاع سے نمونے لے کر پشاور میں اس لیب تک پہنچانا ہے، جس کے لیے ایک مناسب مکینزم ہونا چاہیے کیونکہ ابھی جو طریقہ کار ہے، اس کے مطابق ایک ایمبولینس کے لیب  تک نمونے پہنچانے پر بہت خرچہ آتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ صرف چترال کا نہیں بلکہ دور دراز کے تمام اضلاع کا مسئلہ ہے۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر لوئر چترال نوید احمد نے بتایا کہ ابھی تک فنڈنگ کا مسئلہ سامنے نہیں آیا ہے کیونکہ صوبائی حکومت کی جانب سے چترال کو 50 لاکھ روپے ملے ہیں اور مستقبل میں اگر ضرورت پڑی تو صوبائی حکومت سے مزید فنڈ کا بھی کہہ سکتے ہیں۔

تاہم نوید احمد کے مطابق فنڈنگ سے زیادہ مسئلہ چترال میں قرنطینہ مرکز کا ہے کیونکہ چترال صوبے میں سب  سے زیادہ افراد کو قرنطینہ میں رکھنے والا ضلع  ہے اور ضلع سے آنے اور جانے والے افراد کو 14 دن تک قرنطینہ میں رکھا جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا: 'چترال میں اب تک 1500 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم ٹیسٹ کے نمونے جب بھیجتے ہیں تو نتائج آنے میں ایک سے دو دن لگ جاتے ہیں۔ اگر ٹیسٹ کی سہولت کسی قریبی علاقے میں قائم کردی جائے تو ہمیں یہ فائدہ ہوگا کہ ٹیسٹ رزلٹ جلد آئیں گے اور جو منفی رزلٹ والے افراد ہیں انہیں ہم ڈسچارج کردیں گے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کیا اضلاع یا صوبائی حکومت کو مستقبل میں فنڈنگ میں کمی کا مسئلہ سامنے آسکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں صوبائی وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 'ابھی تک اضلاع کو صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہم مستقبل میں بھی اضلاع کو فنڈنگ مسائل کا سامنا نہیں کرنے دیں گے۔'

تاہم انہوں نے بتایا کہ چونکہ کرونا کی وجہ سے پوری دنیا کی معشیت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں تو اس سے پاکستان کے سارے صوبے اور وفاق بھی متاثر ہوگا کیونکہ کہیں پر اگر حکومت ٹیکس چھوٹ دے گی تو حکومتی اخراجات اور  ریونیو پر فرق پڑے گا۔

تیمور سلیم جھگڑا نے بتایا: 'ساری حکومتیں مستقبل کے لیے پلان بنائیں گی کہ کہاں پیسے خرچ کیے جائیں اور کہاں نہیں، لیکن محکمہ صحت کو کسی قسم کی فنڈنگ کا مسئلہ درپیش ہونے نہیں دیں گے بلکہ ہم یہ سوچیں گے کہ کہاں سے پیسے نکال کر ہم ہیلتھ انفراسٹرکچر یا احساس پروگرام میں شامل کرسکیں۔'

آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ہم بجٹ کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور اگر خدا نخواستہ کرونا کی وبا سال تک رہتی ہے تو ہم  بجٹ میں اس کے لیے باقاعدہ فنڈ مختص کریں گے تاکہ ہمیں کسی قسم کے معاشی مسئلے کا سامنا نہ ہو۔

دور افتادہ اضلاع سے ٹیسٹ کے لیے نمونے پشاور بھجوانے پر آنے والی لاگت کے حوالے سے سوال کے جواب میں تیمور سلیم جھگڑا نے بتایا کہ ابھی سوات، حیات آباد  میڈیکل کمپلیکس اور ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں لیبارٹریز قائم کی گئی ہیں اور وہاں پر ٹیسٹ شروع ہو گئے ہیں، جس سے ضرور فائدہ ہوگا۔

انہوں نے مزید بتایا: 'ہم نے نجی ہسپتالوں کے ساتھ بھی بات کی ہے، وہاں پر نمونے لانا اور ٹیسٹ کرانا ان نجی ہسپتالوں کی ذمہ داری ہوگی تو اس سے بھی اضلاع کے اوپر بوجھ کم ہوجائے گا۔'

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان کے مطابق ان کی حکومت نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے 32 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا ہے جس میں آٹھ ارب روپے صوبائی محکمہ صحت کے لیے مختص ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت