کرونا وائرس کے سائے میں بہار کے دُکھ

بحیثیت قوم ہماری عادت ہی ایسی بن گئی ہے کہ کسی حال میں خوش نہیں رہنا۔ پہلے کام پر جانے کو جی نہیں چاہتا تھا اور اب روزگار کے ہجر میں روتے ہیں۔

ہماری خواہش ہوتی ہے کہ صبح کی سیر کو نکلیں تو گاؤں سے باہردُور آسمان سے گلے ملتے گُل پوش چوڑے کچے رستوں پر مسلسل چلتے ہی جائیں(پکسا بے)

سیماب اکبر آبادی نے کہا ہے:

ہنستا ہوں یوں کہ ہجر کی راتیں گزر گئیں
روتا ہوں یوں کہ لطفِ دعائے سحر گیا

ہم بھی سیماب کی طرح عجیب پارہ صفت لوگ ہیں، جو کسی حال میں خوش نہیں رہتے۔

بہار کا موسم آتا ہے تو ہرے بھرے درخت، رنگ برنگے پھول اور سرسبز گھاس زمین کو دلہن کی طرح سجا دیتے ہیں۔ کوئل اور فاختاؤں کے نغمے کانوں میں ایسے رس گھولتے ہیں جیسے انہیں رشید عطرے اور نثاربزمی نے دھنیں بنا کر دی ہیں۔

ایسے رومانوی ماحول میں خصوصاً ہم دیہات میں کھلی جگہوں پر رہنے والوں کے جذبات غالب جیسے ہوتے ہیں کہ ’بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے۔‘ غم روزگار ہو نہ غم دنیا۔ ہمارا تو جی چاہتا ہے کہ مردانہ مہمان خانے کے برآمدے میں چارپائی پر تکیے سے ٹیک لگائے یا آبادی سے دور کسی گھنے درخت کی مہرباں چھاؤں میں دنیا و مافیہا سے بے خبر موسم کا لطف اٹھاتے ماضی کی خوش گوار یادوں میں گم رہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہماری خواہش ہوتی ہے کہ صبح کی سیر کو نکلیں تو گاؤں سے باہردُور آسمان سے گلے ملتے گُل پوش چوڑے کچے رستوں پر مسلسل چلتے ہی جائیں، جہاں قدرت اس موسم میں اپنا حسن بے دردی سے نچھاورکرتی ہے۔ ان رستوں کی پراسرار خاموشی میں پرندوں کی چہچہاہٹ یا اپنے قدموں کی آواز کے علاوہ کچھ سنائی نہیں دیتا۔

تاہم صبح گھر سے نکل کر مغرب کے بعد کچہری سے واپسی پر گھر اور بچوں کے معاملات اور رات گئے تک پڑھنے لکھنے جیسی مصروفیات نے کبھی جی بھر کے بہار کا لطف اٹھانے ہی نہیں دیا۔

البتہ 2020 کی کرونا زدہ ایسی عجیب بہار آئی ہے کہ ہر چیز اجنبی سی لگنے لگی ہے۔ لاک ڈاؤن کی مہربانی سے اس بہار میں ہمیں فرصت ہی فرصت ہے۔ گھنٹوں کچے رستوں اور سبز پوش پگڈنڈیوں پر آوارہ گردی کرتے بھی تھک گئے ہیں اور درختوں کی چھاؤں میں بیٹھے بیٹھے تصورِ جاناں بھی زہر لگنے لگا ہے۔

ہم حیران ہیں کہ ہمیں تو کھلی جگہیں میسر ہیں مگر اہل شہر، خصوصاً گنجان آبادیوں والے گھروں میں کیسے قید رہتے ہیں۔ ہمارے دیہات کے آبادی والے علاقوں میں ٹریفک اور دکانیں وغیرہ بند ہونے سے ماحول ویسے ہی خاموش اورقدرے صاف سا بن گیا ہے، جس کے ہم عادی نہیں تھے۔

ہمارا گھرموٹر وے کے بلکسر انٹر چینج (ضلع چکوال) سے نکل کر دو تین کلومیٹر آگے میانوالی روڈ پرواقع ہے۔ ہمارے ڈیرے کے سامنے جاری 24 گھنٹے ٹریفک کا بپھرا سیلاب اور رات گئے تک مارکیٹوں میں طرح طرح کی مشینوں کا شور سکون سے بات بھی نہیں سننے دیتا تھا۔ اب خاموشی اور ویرانی نے پریشان سا کررکھا ہے۔

رات دو تین بجے بھی جب کوچوں اور ٹرالروں کے پریشر ہارن سن کرنیند خراب نہیں ہوتی تو خود ہی آنکھ کھل جاتی ہے اور طبیعت میں بے چینی سی پیدا ہو جاتی ہے۔

مارگلہ روڈ اسلام آباد پر بسنے والے برادرم چوہدری محمد خان تو بڑے دُکھ سے فرماتے ہیں کہ ماحولیاتی آلودگی اور شور شرابے سے پاک فضا میں کمرے میں آکسیجن کی مقدار کی اتنی زیادتی ہو گئی ہے کہ حُقے کا کش بھی بد مزہ لگتا ہے۔ لگ بھگ ایک ماہ کے لاک ڈاؤن میں صرف میڈیکل سٹور، کریانہ، سبزی اور فروٹ کی دکانیں ہی کھل رہی ہیں، باقی سب کچھ بند ہے۔

اس سے گھروں میں روزمرہ استعمال کی اشیا کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور سرکاری دفاتر میں لوگوں کے ضروری کام بھی رکے ہوئے ہیں۔ بند مارکیٹوں میں ویرانی چھائی ہے اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے ساتھ ساتھ مزدور طبقے کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آ گئی ہے۔

حجاموں کی دکانیں بند ہونے سے اچھے خاصے انسان بھی بغیرحجامت عجیب سے حلیے بنائے پھر رہے ہیں۔ جنازوں میں صرف رشتہ دار ہی شرکت کرتے ہیں۔ اگر کسی مجبوری کی بنا پر کوئی شادی ضروری ہو تو پانچ سات لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اور نکاح پڑھا لیا جاتا ہے، ورنہ نمود و نمائش کے اس دور میں مہندی سے لے کربارات اور ولیمے تک لڑکے اور لڑکی والے اپنا اقتصادی کباڑا کر کے ہی دم لیتے تھے۔

اگرچہ اب حجاموں، درزیوں، زرعی آلات بنانے کے یونٹوں، تعمیراتی سامان، پلمبروں اور الیکٹریشنوں کو لاک ڈائون سے استثنیٰ مل گیا ہے، مگر مجموعی طور پر بے روزگاری اوربازاروں میں بے رونقی کی وہی صورت حال ہے۔

عجیب لطیفہ یہ ہے کہ پلمبروں اور درزیوں کو کام کرنے کی اجازت مل گئی ہے مگر ان کے کام کا سامان حاصل کرنے کے لیے سنیٹری اور کپڑے کی دکانیں بدستورلاک ڈاؤن کی زد میں ہیں۔ احساس پروگرام کے تحت چند لوگوں کو امداد دی گئی ہے مگر اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر اس امداد اور راشن دینے کے فوٹو میڈیا کو جاری کیے جاتے ہیں۔

ہمارا ذاتی دکھ یہ بھی ہے کہ پچھلے برس تک کسی چھٹی کے دن بہار کی مصروفیات سے ایک آدھ دن چُرا کر ہم پندرہ، بیس کزن اور بچے اپنے دیسی مرغے یا بکرے پکڑے لمبے اورچوڑے سبز پوش کچے رستوں سے گزرتے اور دشوار گزار کھائیاں، ندیاں اور پہاڑیاں عبور کرتے دوردراز جنگل میں کسی ویران دربار پر پکنک منانے پہنچ جاتے تھے۔

موجودہ بہارمیں اتنے لوگوں کے اکٹھے ہونے پر پابندی ہے اور اوپر سے پولیس نے درباروں کو تالے بھی لگا دیے ہیں، جس سے خصوصاً ہمارے بچوں میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ انہیں کالجوں اور یونیورسٹیوں سے مکمل چھٹیاں ہیں۔

یہ پکنک اصل میں ہماری مَنتیں، مرادیں ہوتی ہیں۔ آپ اہل شہر تو بڑے حقیقت پسند واقع ہوئے ہیں۔ البتہ ہم پینڈو آج بھی خانقاہوں اور درگاہوں پرمَنتوں، مرادوں اور چڑھاووں کے علاوہ تعویز گنڈوں کے سہارے اپنے مسائل حل کرنے والی مخلوق ہیں۔ جیسے آج کل ہم نے کرونا وائرس کے خاتمے کے لیے ایک دشوار گزار پہاڑی دربار پر دو بکروں کی منت مان رکھی ہے۔ جونہی یہ وبا ختم ہوئی ہم دربارپر بکرے ذبح کرنے میں ذرا دیر نہیں کریں گے۔

اس نیک کام کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وطن عزیزمیں چڑھاووں وغیرہ ہی سے یہ وبا ختم ہو تو ہو ورنہ ہسپتالوں میں ناکافی سہولیات اور ڈاکٹروں کے لیے مخصوص حفاظتی لباس، خصوصی ماسک، ٹیسٹنگ کٹس اور وینٹی لیٹر وغیرہ کی قلت کے سبب حکومت نے بھی سب کچھ خدا پرچھوڑ رکھا ہے۔

اِدھرہم عوام بھی کاروباری مقامات، چوپالوں اورمساجد میں ایک دوسرے سے فاصلہ رکھ کر کوڈو۔ 19 کے تدارک کے لیے تیار نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وزیراعظم نے جہانگیر ترین اور فردوس عاشق اعوان کی قربانی بھی اسی جذبے کے تحت دی ہو۔ اگر ایسا ہے تو خدا ان کی قربانی قبول ومنظور فرمائے۔

کل ہی وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کرونا کیسزاندازے سے کم ہیں، سو پابندیاں نرم ہو سکتی ہیں۔ گویا اگر قربانیوں سے وبا میں کمی ہو سکتی ہے تو وزیراعظم کوچند مزید قربایناں دینی چاہییں۔

اگرچہ ہم باقی دنیا کے برعکس احتیاتی تدابیر اختیار کرنے کو تیار نہیں مگر قربانیاں دینے میں ہمارا ثانی نہیں۔ ہم تو کوئی ’وبا‘ ٹالنے کے لیے پوری اسمبلی کی قربانی بھی دے ڈالتے ہیں۔ آج ہم بے روزگاری، گھر بیٹھنے اور بھوک سے تنگ ہیں۔

مگر کیا کریں، بحیثیت قوم ہماری عادت ہی ایسی بن گئی ہے کسی حال میں خوش نہیں رہنا۔ پہلے کام پر جانے کو جی نہیں چاہتا تھا اوراب روزگار کے ہجر میں روتے ہیں۔ بچوں کی کالجوں اوریونیورسٹیوں سے چھٹیاں کرنے کی خواہش ہوتی تھی اور اب وہ اپنے سمسٹروں کے نقصانات کے اندازے لگاتے رہتے ہیں۔

ہمیں بہار کا بھر پور لطف اٹھانے کی تمنا تھی تو وقت نہیں ملتا تھا اور اب فرصت ہی فرصت ہے تو سیماب اکبر آبادی والی کیفیت طاری ہے کہ

ہنستا ہوں یوں کہ ہجر کی راتیں گزر گئیں
روتا ہوں یوں کہ لطفِ دعائے سحر گیا

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ