مزاحمتی تحریک یا پارلیمانی سیاست؟ پی ٹی ایم کے لیے مشکل فیصلہ

پشتون تحفظ موومنٹ کے ایک گروہ کو پارلیمنٹ کا راستہ طاقت ور اور موثر آواز پہنچانے کا ذریعہ نظر آرہا ہے جبکہ دوسرے گروہ کے لیے عوام کی طاقت پارلیمنٹ سے زیادہ طاقت ور ہے، لیکن کس گروہ کی بات مانی جائے گی؟

پی ٹی ایم کے حامیوں کی کوشش ہے کہ تحریک کے سرکردہ رہنماؤں کو ایک ہی راستے پر روانہ کرسکیں  (اے ایف پی)

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی قیادت دو راستوں پر نکل پڑی ہے۔ ایک گروہ کو پارلیمنٹ کا راستہ طاقت ور اور موثر آواز پہنچانے کا ذریعہ نظر آ رہا ہے اور دوسرے گروہ کو عوام کی طاقت پارلیمنٹ سے زیادہ طاقت ور معلوم ہوتی ہے۔

پی ٹی ایم کے حامیوں کی کوشش ہے کہ تحریک کے سرکردہ رہنماؤں کو ایک ہی راستے پر روانہ کرسکیں مگر ابھی تک دونوں دھڑوں کے رہنماؤں کو ان کی اپنے پسند کے راستے پر کامیابی نظر آرہی ہے۔     

گذشتہ چند مہینوں سے پشتون تحفظ مومنٹ کے اندر یہ بات زیر بحث ہے کہ آخر تحریک کس طرف جا رہی ہے؟ نہ کوئی منشور ہے اور نہ کوئی آئین، جس کا سہارا لے کر پی ٹی ایم کے کارکن اور حامی اس پر چل سکیں اور انہیں معلوم ہوسکے کہ کیا آنے والے دنوں میں یہ ایک پارلیمانی سیاست کا رخ کرے گی یا پھر ایک مزاحمتی تحریک کی صورت میں آگے بڑھے گی۔

پشتون تحفظ مومنٹ کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ تحریک کے سربراہ منظور پشتین اور علی وزیر کا موقف ہے کہ پارلیمانی سیاست میں کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی اس سے ان کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور ان کے ساتھیوں کا موقف ہے کہ پارلیمنٹ سب سے زیادہ موثر اور طاقت ور فورم ہے جس کے ذریعے ان کے ساتھ ہونے والی ذیاتیوں پر اپنی آواز بہتر اور موثر طریقے سے دنیا تک پہنچائی جاسکتی ہے۔

رکن قومی اسمبلی علی وزیر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پارلیمنٹ میں ان کی آواز غیر موثر ہے اور پارلیمنٹ کی نسبت عوام میں ان کی آواز بہتر طریقے سے سنی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ 'پشتون تحفظ مومنٹ کے تمام ساتھیوں کے مشورے کے بعد آگے چل کر ایک لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں۔ اگر کسی کا خیال ہے کہ اسمبلی کے فلور پر ان کی آواز سنی جا سکتی ہے تو یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔'

تنظیم کے اندر بہت سے رہنماؤں کا خیال ہے کہ پی ٹی ایم کی بقا پارلیمانی سیاست میں ہے اور آنے والے وقت میں پارلیمانی سیاست ہی ایک بہتر آپشن ہے۔

محسن داوڑ کے قریبی ساتھی اور پی ٹی ایم کے سرگرم کارکن اسد خان داوڑ نے بتایا کہ 'ان کے مسائل ترقیاتی کاموں کے نہیں بلکہ ان کے مسائل موت اور زندگی کے ہیں، جس کے حل کے لیے بہتر راستہ ان کو پارلینمٹ کا فورم نظر آرہا ہے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور تمام ساتھی مل بیٹھ کر ایک فیصلہ کریں گے، البتہ وہ پارلیمانی سیاست کے حق میں ہیں۔

پشتون تحفظ مومنٹ کے کئی رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر وہ پارلیمانی سیاست میں شامل ہوگئے تو تحریک کی حیثیت ختم ہوجائے گی۔ ان کے خیال میں اسے ایک مزاحمتی تحریک کی شکل میں رہنے دیا جائے۔

پی ٹی ایم کے ایک سرکردہ رہنما امین وزیر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 'تحریک کو سب سے زیادہ نقصان پارلیمانی سیاست نے پہنچایا، اگر وہ مزید پارلیمانی سیاست کا حصہ بنے تو تحریک کا خدا حافظ۔'

ان کا کہنا تھا: 'محسن داوڑ کا شروع سے یہ ٹارگٹ تھا کہ وہ پارلیمنٹ کیسے پہنچیں، تو انہوں نے پشتون تحفظ مومنٹ کا راستہ اختیار کیا اور اس راستے سے وہ پارلیمنٹ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں ایک واضح فیصلے کی ضرورت ہے، جس کے بعد کوئی بھی اس فورم سے سیاست میں حصہ نہیں لے گا۔

امین وزیر کے مطابق تحریک میں ایک بڑی تعداد میں ایسے جوانوں کی شامل ہوگئی ہے، جو صرف تحریک کے نام سے پارلیمنٹ تک پہنچنے کی کوشش کرہے ہیں اور ایسے لوگوں کا راستہ روکنا ہوگا۔

پارلیمانی اور غیر پارلیمانی سیاست پر تحریک کے اندر اختلافات پر پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے واضح کیا کہ جوں ہی حالات بہتر ہوں گے، وہ فوراً  تمام ساتھیوں کی میٹنگ بلائیں گے تاکہ تنظیم کے منشور اور آئین کو مکمل کرسکیں، جس پر کافی حد تک کام بھی ہوچکا ہے۔

'میں ذاتی طور پر پارلیمانی سیاست کے حق میں نہیں اور نہ ہی اپنی تحریک کو سیاسی رنگ دینا چاہوں گا۔'

پشتون تحفظ مومنٹ کے کارکنوں میں ایک بڑی تعداد امریکہ، یورپ اور دوسرے خلیجی ممالک میں رہنے والوں کی ہے جو یہاں کے رہنے والوں کی نسبت زیادہ سرگرم نظر آرہے ہیں اور وہاں سے تحریک کی نہ صرف حمایت کرتے ہیں بلکہ اس کے فیصلوں میں بھی مداخلت کرتے ہیں۔

بیرون ملک رہنے والے اکثر جوانوں کا خیال ہے کہ پشتون تحفظ مومنٹ کو مزاحمتی تحریک رہنا چاہیے، یہ پارلیمانی سیاست کا حصہ نہ بنے تو بہتر رہے گا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست