'دس کروڑ یہ گدھے، جن کا نام ہے عوام'

عوام کو ثاقب نثار کا اندھیری راتوں میں سنسان  راہوں پر چھاپے مارنا اتنا اچھا لگے کہ ڈیم فنڈز میں  نوٹ وار دیں، اور جو اوج ثریا سے اٹھا کر زمین پہ دے مارنا ہو تو ثاقب نثار کے بیٹے کی شاہانہ شادی  پر  لوگوں  کا ماتم  ہی ملاحظہ ہو۔

(اے ایف پی)

’عوام کی کوئی شکل  ہے نہ نام۔عوامی نمائندے بہت   مگر عوام  کی کوئی ایک نمائندہ آواز نہیں۔عوام کسی ایک نکتے پرایک  سا  نہیں سوچتے اور   ان کے لیے سوچے اس نکتے پہ کوئی  آتا  نہیں۔ یہ سمت اور بے سمت ہر طرح کے افراد  ہیں جو ٍبے ترتیب غول  بنائے یہاں وہاں بکھرے ہیں۔  جائیے صاحب عوام بھی  کہاں کی عوام ، یہ تو  بے  ہنگم شور ہیں ،   ہجوم  ہیں ۔  یہ  کوئی قوم ہوتے تو بات تھی۔‘

چچا گیرو   ان دنوں پاکستانی عوام سے سخت نالاں  ہیں ۔یوں بھی جب سے الطاف حسین تقرر کرکے اور نواز شریف بیمار پڑ  کے پیا دیس سدھارے تب سے  چچا گیرو کا بی پی مستقل ہائی رہنے لگا ہے۔  کورونا کے ڈراوے  سن کر اب اختلاج قلب  کے دورے تازہ واردات ہے۔

چچا گیرو نے بات تو ویسے ٹھیک ہی  کہی ،  یہ ’ عوام ‘  بھلا  ہے کیا بلا؟

یہ تو ہے کہ عوام کے ساتھ لفظ ’بے چارے‘ بہت  جچتا  ہے۔ جہاں عوام کی بات آئے تو  ذہن بلا تردد ’  بھولی بھالی‘  اک تصویر بنادیتا ہے۔        یہ نہیں کہ عوام کو بے چارہ کوئی آج سے کہا گیا۔یہ عوام  تو صدیوں زمانوں سے صبر و رضا کا پیکر  مشہور ہیں۔

بکری کے بچے کی سی معصوم عوام  کو   مختلف زمانوں اور مختلف زبانوں نے کیا کیا نہ نام دیئے  ، وقت کیسی  کیسی کروٹیں بدلتا رہا مگر انسانوں  کے اس ہجوم کی اجتماعی خصلت وہی رہی  یعنی سیدھی باولی۔

  اللہ کے ان سادہ ، پراسرار بندوں کو  شاہی زبان  میں رعایا کہا جاتا تھا۔ رعایا کا سر جھکا ہوتا  تھا، رعایا  کو شاہ کی مرضی کے مطابق کب کتنا بولنا ہے اس کا حساب رکھنا پڑتا تھا،  رعایا کو   اپنی مرضی چلانے کے لیے بادشاہ کی مرضی  پر چلنا ہوتا  تھا۔  بادشاہت تو خیر اس خطے سے ختم ہوئی مگر  کچھ   سادہ لوح  یہ خوش فہمی لے  بیٹھے کہ  وہ رعایا سے جمہور کے درجے پر ترقی کرگئے ہیں۔  بیچارے !

بھانت بھانت کے  لوگوں ، ہر رنگ  کےچہروں اور ہر نسل کے   بیٹے بیٹیوں کو پارلیمانی  لغت میں  جمہور   کا پیارا سا نام دیا گیا۔  خالی  آنکھوں سے مقتدر حلقوں  اور سنگ مر مر کے محلات  تکنے والوں کو   جمہوریت نامی سسٹم دے کر بہلایا پھسلایا گیا۔

انہیں  ہر دور میں الو بنانے کا طریقہ  اشرافیہ کے پاس رہتا ہے ۔ چونکہ جمہور  کی فطرت میں سادگی و بیچارگی ہے  اس لیے ایسی معصوم بھیڑ کو  کبھی  بادشاہ   کی چھڑی سے ہا نکا جاتا ہے،  کبھی   سیاستدان  ’    ہر ہر ہر ‘   کی صدا لگا کر  راہ دکھاتے ہیں اور کبھی آمر کا ڈنڈا گھوم جاتا ہے۔ علامہ اقبال نے تو بال جبریل  ،  ابلیس کی عرضداشت میں  یہ کہہ کر بات ہی ختم کردی کہ  ’جمہور کے ابلیس ہیں اربابِ سیاست‘۔

بادشاہوں کی واہ واہ   میں تو بڑے بڑے شعراء نے دیوان  رقم کردیے ، شہنشاہ وقت کی توصیف میں لکھے  قصیدے ان کی ہمت،دانشمندی و بہادری کی داستان سناتے ہیں۔  جمہور اس معاملے میں  خاصے کمبخت  ثابت ہوئے   ،انہیں   سرکاری حکم  ناموں میں   مخاطب کرلیا جاتا ہے،  یہی بہت ہے۔

جمہور    کی مظلومیت کے مرثیے تو ہر کس و ناکس پڑھ لیتا ہے  مگر یہ کم کم ہی بتایا جاتا ہے کہ جب جمہور بدلہ لینے پر آجائیں تو ان شاہوں،آمروں، حکمرانوں کو  بڑی سہولت سے    مٹی کا ذائقہ چکھا دیتے ہیں۔

اب ذرا عوام کی معصومیت ملاحظہ ہو۔  بلوچستان کے علاقے بلیدہ سے کچھ دور گشکور کی  ندی  ہے جہاں مقامی لوگ  مشرف نامی مچھلی کا شکار کرتے ہیں ۔  مشرف کے جسم پرسرخ پٹی کا نشان ہوتا ہے،  ایک فٹ  لمبی  مشرف کو تل کر بھی کھایا جاتا ہے،   کوئلوں پہ بھون کر بھی۔ یہ مچھلی یہاں کی مقامی نہیں بلکہ کیچ کے علاقے میں بنے  اس  میرانی ڈیم سے  آتی ہے جس کا افتتاح سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے کیا۔   اب آپ چاہے برا منائیں  یا  لڈو پیڑے کھائیں، بلیدہ کے عوام    مشرف کا شکار کرتے رہیں گے۔

ایسے ہی عوام کے بھولپن  سے  بھرپور بدلے  کی بازگشت  آج بھی سنائی دیتی ہے ۔انیس سو  پینسٹھ  کے   بدنام زمانہ انتخابات میں  ایوب خان کی سازشوں کے ہاتھوں محترمہ فاطمہ جناح  کی شکست  نے کراچی کے عوام کو مشتعل کیا تھا۔ انہیں مزید سیخ پا کرنے  گوہر ایوب لاو لشکر سمیت لالوکھیت جا پہنچے۔ جیسا کہ ہم  مان ہی چکے ہیں عوام بھولے بھالے ہوتے ہیں سو وہی ہوا، لالوکھیتیوں نے پتھراو کیا جواب میں گولیاں کھائیں۔ خیر  لالوکھیت   کے عوام  نے تو اس واقعے کے ٹھیک نو سال بعد  ذوالفقار علی بھٹو پر بھی جوتے  پھینکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جمہور   شہید رانی کو  روئے  یا بھٹو کو آج بھی زندہ قرار دے یہ ان کی پسند۔ جمہور چاہے تو جیتے جی آصف علی زرداری کو ایسے بھول جائے جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں، یہ بھی ان ہی کی پسند۔جمہور کے سر میں  سودا سمائے تو  نواز شریف کے بلانے پر ساری رات جی ٹی روڈ کھڑے رہیں ، اور جو بدلہ لینے کی ٹھانے تو  ٹھینگا دکھانے میں بھی بخل سے کام نہ لیں۔

عوام کو ثاقب نثار کا اندھیری راتوں میں سنسان  راہوں پر چھاپے مارنا اتنا اچھا لگے کہ ڈیم فنڈز میں  نوٹ وار دیں، اور جو اوج ثریا سے اٹھا کر زمین پہ دے مارنا ہو تو ثاقب نثار کے بیٹے کی شاہانہ شادی  پر  لوگوں  کا ماتم  ہی ملاحظہ ہو۔

حکمران، سیاستدان اور ارباب قوت  عوام کو  جتنا چاہے بیوقوف سمجھیں  پر یاد رہے یہ جو پبلک ہے یہ سب جانتی ہے۔ عوام  بدلے کی طاقت رکھتے ہیں، اور اس کا اظہار اس وقت کرتے ہیں جب خواص کو  اس کی توقع بھی نہیں ہوتی۔سادے لوگ ٹینکوں کے آگے  لیٹ سکتے   ہیں  اور حاکم وقت کے تخت کو تلپٹ بھی کرسکتے ہیں۔ ویسے تو اللہ ان کے غضب سے بچائے  مگر سچ ہے  عوام سیدھے سادے بھولے بھالے ہوتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر