دنیا کا تیز ترین انٹرنیٹ موجودہ براڈ بینڈ سے دس لاکھ گنا تیز

ایسی رفتار جس سے صارفین ایک سیکنڈ میں ایک ہزار ایچ ڈی یعنی ہائی ڈیفی نیشن فلمیں ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے۔ 

حالیہ مہینوں میں کرونا وائرس کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے انٹرنیٹ کے نظام پر بہت زیادہ دباؤ دیکھنے میں آیا ہے (اے ایف پی)

آسٹریلیا میں ری سرچرز نے دنیا میں انٹرنیٹ کی تیز ترین رفتار 44.2 ٹیرا بائٹس فی سکینڈ حاصل کر لی۔ اس رفتار کے ساتھ صارفین ایک سیکنڈ میں ایک ہزار ایچ ڈی یعنی ہائی ڈیفی نیشن فلمیں ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے۔ 

موناش، سون برن اور آر ایم ائی ٹی یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والی مشرکہ ٹیم نے ایک ’مائیکروکومب‘ آپٹیکل چپ میں موجود سینکڑوں انفرا ریڈ لیزرز کے ذریعے ملیبورن میں موجود رابطہ نیٹ ورک کی مدد سے ڈیٹا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا۔ 

دنیا میں زیر استعمال کمرشل انٹرنیٹ کی سب سے زیادہ رفتار اس وقت سنگاپور میں ہے جہاں پر اوسط ڈاؤن لوڈ سپیڈ 197.3 میگا بائٹس فی سیکنڈ ہے۔

آسٹریلیا میں اوسط ڈاؤن لوڈ سپیڈ 43.4 ایم بی فی سیکنڈ ہے جو کہ تازہ ترین ٹیسٹ میں حاصل کردہ سپیڈ سے دس لاکھ گنا کم ہے۔

موناش یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر بل کورکورن نے دی انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت دنیا بھر میں اس ٹیکنالوجی کے کمرشل استعمال کی دوڑ جاری ہے۔ اس میں مائیکرو کومب کا استعمال موجودہ ٹیکنالوجی کے لیے فائدہ مند ہے۔ میرا خیال ہے ہم ان ڈیوائسز کو ری سرچ لیبارٹریز میں دو سے تین سال میں دستیاب دیکھیں گے اور ان کا ابتدائی کمرشل استعمال پانچ سال میں دیکھا جا سکتا ہے۔‘

حالیہ مہینوں میں کرونا وائرس کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے انٹرنیٹ کے نظام پر بہت زیادہ دباؤ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مارچ میں یورپ میں سٹریمنگ فراہم کرنے والی کمپنیز کو اپنے معیار میں کمی لانے کا کہا گیا تھا جس کی وجہ انٹرنیٹ پر بڑھتی ہوئی ٹریفک تھی۔ نیٹ فلیکس اور یوٹیوب ان کمپنیز میں شامل تھے جنہوں نے بڑھتے دباؤ کے پیش نظر صارفین کے لیے اپنے مواد کی پکچر کوالٹی کو کم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

ری سرچرز کے مطابق مائیکرو کومب ڈیوائس کا استعمال اس مشکل میں بڑی حد تک کمی لائے گا۔

ڈاکٹر کورکورن کا کہنا ہے کہ ’برطانیہ میں دن کے اوقات میں انٹرنیٹ ڈیٹا کی طلب دگنی ہو گئی ہے اور انٹرنیٹ کنکشنز کو مستحکم بنانے کے لیے خصوصی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہ اضافی استعمال ہمیں اگلے کچھ سالوں میں نیٹ ورکس کے ساتھ پیش آنے والے مسائل کی جھلک دکھاتا ہے۔ خاص طور پر جب ہم فائیو جی جیسے آن لائن ڈیٹا، خود کار کاروں اور ’انٹرنیٹ آف تھنگز‘ جیسے وسیع استعمال کی جانب جا رہے ہیں۔‘

’تو ہمیں اس نئی ٹیکنالوجی سے لیس اپنی انگلیوں کے سائز جتنی نئی ڈیوائس چاہیے ہو گی جو آسانی سے ہمارے ڈیٹا ساتھ رکھنے کی صلاحیت کو بڑھا سکے لیکن اس کے لیے کم جگہ اور کم توانائی درکار ہو اور جس کی قیمت بھی کم ہو لیکن وہ ڈیٹا کی مقدار میں اضافہ کر سکے۔ ہمارے تجربے میں دیکھا گیا ہے کہ تیار کردہ ڈیوائس پہلے سے موجود آپٹیکل فائبر کے نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔‘
 یہ تحقیق جمعے کو سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہوئی ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی