ہماری عید بھی کچھ عجیب گزری 

عید گاہ پہنچتے ہی دل میں خیال آیا کہ واپسی کی راہ لیتے ہیں۔ بیٹے نے عید گاہ کے نزدیک کہا کہ کیا کرونا وائرس ختم ہو گیا ہے جو اتنے لوگ عیدگاہ میں آئے ہیں؟

راولپنڈی میں عید کے نماز کے بعد شہری ملتے ہوئے (اے ایف پی)

رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ماہ رمضان لاک ڈاﺅن کی سختیوں اور عید میں پھر نرمیوں کے ساتھ ہی ہم سے رخصت ہو گیا، مگر اس دوران لوگوں کی عجیب بےحسی دیکھنے کو ملی کہ حکومت کی کسی ہدایت پر عمل نہیں کیا گیا۔ 

ہمارے گاﺅں میں گذشتہ دس سالوں میں امسال عید کا اجتماع سب سے بڑا رہا۔ عید گاہ میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ کیونکہ لاک ڈاﺅن کے باعث چھٹیاں تھیں اور ہر کوئی گاﺅں پہنچ گیا تھا اس لیے تعداد زیادہ رہی۔ عید گاہ پہنچتے ہی دل میں خیال آیا کہ واپسی کی راہ لیتے ہیں۔ بیٹے نے عید گاہ کے نزدیک کہا کہ کیا کرونا وائرس ختم ہو گیا ہے جو اتنے لوگ عیدگاہ میں آئے ہیں؟ اگر ایک بھی مریض کرونا کا یہاں آ گیا تو سب کی خیر نہیں ہے۔ میں خود پریشان تھا کہ یہ سب کیا ہے۔ حکومت کہاں ہے اور وہ عوامی اگہی کہاں ہے؟ کچھ دیر کے لیے میں بھی پریشانی میں غوطہ زن رہا۔ عید کی نماز پڑھ کر کسی سے بھی نہیں ملا اور قبرستان کی راہ لی۔ اور گھر آکر سکون کا سانس لیا۔ 

یہ مسئلہ اب درپیش تھا کہ اب عید کیسے گزاری جائے۔ رمضان کا مہینہ تو جوں توں کر نیند لے کر گزار لیا۔ ٹی وی لگانے پر گھر میں پہلے سے پابندی لگی تھی کہ جہاز کے حادثے پر دل غم سے نڈھال ہے اور سب نفسیاتی مریض بن گئے ہیں۔ ایک طرف کرونا تو دوسری جانب حادثے کے مناظر، تو ٹی وی تو بند ہی رہے گا۔ لیکن پھر عید کیسے گزاری جائے؟ 

اپنے ساقبہ بلاگ کو مدنظر رکھ کر سوچا کہ جن جن سے میری ناراضگی ہے اُن سے مل لیتے ہیں اور یہ عید خوشگوار بنا لیتے ہیں۔ مگر جہاں قدم اُٹھے تھے ان کی انا ہم سے بہت زیادہ تھی۔ ایسے نظرانداز کیا کہ ہمیں اپنی تذلیل محسوس ہوئی۔ 

دل پر جبر کر کے دوسری جانب اُٹھے تو وہاں کی دیوار انانیت بھی ڈھے نہ سکی اور یوں ہمارا یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔ حالانکہ ہم نے اپنی طرف سے ایک کوشش کی تھی۔ تیسری جگہ منہ مارنے کی کوشش کی تو یہ ایک دوست تھا جو لاک ڈاﺅن کے دو مہینے ناراض رہا تھا۔ فون کھڑکایا عید میارک کہنے سے پہلے ایک بڑی سی گالی سے خاطر تواضع ہوئی اور پھر عید مبارک کی آواز کانوں میں پڑی۔ اور ملنے کا وعدہ کرلیا کہ کچھ بھی ہو اس عید پر کوئی پروگرام کرتے ہیں۔ کرونا مار ڈالے، دوستی پر سب قربان۔ کچھ اپنوں میں عید مبارک باد کی رسم دنیا نبھائی۔ چائے، رس گلوں، چاول سے عزت آفزائی ہوئی۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 پھر حسب معمول جو کہ عید کے دن کا ہمارا خاصہ ہوتا ہے نیند کا ۔ اور جب بیدار ہوئے تو موبائیل کا سکرین عید پیغامات سے ٹمٹما رہا تھا۔ جن میں کچھ ایسے نمبر بھی تھے جو سیو نہیں تھے۔ یعنی وہ عہد رفتہ کے دوست اور احباب کے نمبر تھے۔ جو سال میں صرف دو ہی میسیج کرتے ہیں۔ ایک عیدالفظر پر تو دوسرا عید قربان یا پھر شعبان کی رات جب سب کہتے ہیں کہ ہمیں معاف کردیں اگر ہم سے کوئی غلطی ہوئی ہو۔

ان میں سے اکثر پیغامات کے نیچے نام نہیں تھا۔ کیونکہ اُن احباب کو زعم تھا کہ شاید نمبر ہمارے پاس سیو ہوگا۔ اس لیے نام لکھنے کی جسارت وہ نہ کرسکے۔ مگر جب ہم نے جواب میں آپ کون؟ بھیج دیا تو وہاں سے جوابی وار اچھا تو میرا نمبر تک ڈیلیٹ کیا ہے۔ پھر خفت، شرمندگی کی الگ داستان رقم ہوتی رہی۔ ایک استاد محترم کو جب یہ میسج بھیجا اور جواب میں جب میرے سکرین پر ان کا نام لکھا آیا اُس وقت جو حالت تھی وہ خدا کسی کی نہ کرے۔ فون پر جتنی دیر بات ہوئی ایک ندامت کا احساس رہا۔ ایک سٹوڈنٹ نے جب گلہ کیا تو بھی دل کو لگا۔ لہذا ایک التجا ہے کہ عید مبارک بھیجتے ہوئے لازمی اپنا نام لکھا کریں۔ کیونکہ میری طرح بہت سے لوگ کسی نہ کسی طرح نمبر ڈیلیٹ کر چکے ہوتے ہیں۔

مجھے آپ کون کے میسیج کے بعد درجنوں بار خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر درجنوں مردہ دوست جو وٹس اپ اور سوشل میڈیا پر مُردہ تھے وہ زندہ ہوگئے انہوں نے عید مبارک کہنے کا سالانہ اپنا فریضہ ادا کیا۔ اور جواب میں ہم نے بھی خیر مبارک لکھ کر اپنا دینی فرض پورا کرلیا۔ اور ساتھ میں یہ احساس بھی جاگ گیا کہ ابھی ہمارے دوست مرے نہیں، زندہ ہیں۔ اس کے ساتھ عید کا پہلا دن اختتام پذیر ہوگیا۔ رات مچھروں ںنے لو وولٹیج کی وجہ سے تگنی کا ناچ نچایا تو دوسرے دن سوشل ورک کرنے کی ٹھان لی اور ایک پوسٹ داغ کر نیند کی آغوش میں جا سوئے۔ 

صبح بیدار ہوئے تو میری طرح اور بھی مچھروں کے ستائے ہوئے بیٹھے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ کوئی لیڈر بنے اور لاک ڈاﺅن کے بعد گھر سے باہر چلا جائے۔ آوٹنگ کی آوٹنگ ہوجائے گی سوشل ورک کی سوشل ورک ہوجائے گی۔ کیونکہ گاﺅں میں بجلی، گیس، اور پانی کے لیے جو لوگ کوشش کرتے ہیں لوگ انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ سیاست دانوں کا بھی یہی سلوگن ہوتا ہے۔ یعنی یہ گاﺅں میں مشہور ہونے کا لوگوں سے واہ واہ بٹورنے کا واحد راستہ ہے جو دل تک جاتا ہے۔ اور لوگ عزت کرتے ہیں۔

گاﺅں میں عرصہ سے بجلی کا وولٹیج کافی کم ہے یعنی دس سے بیس وولٹ بجلی چھوڑی جاتی ہے۔ جو کہ ظلم عظیم سے بھی آگے کا کچھ ہے۔ اس کے لیے کچھ شکایات کڑکائے۔ سٹیزن پورٹل کو استعمال کرکے علاقے کے سرکردہ نوجوانوں کو اکٹھا کیا کہ اب جہاں سے بجلی کا مسئلہ ہے وہاں چلتے ہیں۔ اُن سے بات کرتے ہیں کہ آخر یہ مسئلہ کیوں ہے اور کیوں کر حل ہوگا۔ اور پھر کچھ نیوز پورٹل وزٹ کیے جہاں کرونا کے ساتھ کراچی جہاز کے متعلق خبروں نے استقبال کیا۔ تو ساتھ میں سوشل میڈیا پر مفتی منیب الرحمن اور فواد چوہدری کے تندو تیز جملے شامل تھے۔

انڈیپنڈنٹ اردو پر مشاعرے نے تھوڑا سما باندھا تو کچھ فلموں کے حوالے سے ایک ارٹیکل پڑھ لیا۔ مگر خوش قسمتی سے وہ سب فلمیں ہم دیکھ چکے تھے۔ ارطغرل کا بخار شکر ہے مجھ پر سوار نہیں ہوا ہے اس لیے کزنز اور بچے ارطغرل کے خمار میں رہے تو ہم نے عید سو کر گزار لی اور جب اٹھے تو عید کا تیسرا دن بھی اختتام پذیر ہونے کے قریب تھا اور یوں ہم نے اپنی زندگی کی ایک اور عید سے جان خلاصی کر دی تھی مگر یہ عید کرونا عید کہلائی جس میں ڈر اور خوف نمایاں تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ