نہیں چاہتے قیدیوں میں جرائم پیشہ افراد رہا ہو جائیں: طالبان

طالبان کی جانب سے پانچ رکنی تکنیکی وفد کابل بھیجے جانے کے بارے میں ترجمان طالبان سہیل شاہین کا یہ کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے طالبان کی آڑ میں کوئی جرائم پیشہ قیدی بھی رہا ہو جائے۔

حالیہ رہائی کے بعد طالبان قیدی۔ (اے ایف پی)

افغان طالبان کے قطر دفتر نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے ایک پانچ رکنی تکنیکی ٹیم کو کابل بھیج دیا گیا ہے تاکہ وہاں پر افغان امن معاہدے کے تحت رہا ہونے طالبان کی پہچان اور تصدیق کی جا سکے۔

افغان طالبان کے قطر دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ طالبان کی یہ ٹیم اس لیے بھیجی ہے کیونکہ افغان حکومت کے پاس جتنے بھی ہمارے قیدی ہیں ان کا ایک رجسٹر (ریکارڈ) ہمارے پاس بھی موجود ہے۔

انھوں نے بتایا 'یہ پانچ رکنی تکنیکی وفد وہاں جاکر طالبان قیدیوں کی پہچان اور تصدیق کرے گا کیونکہ ہم نہیں چاہتے کوئی جرائم پیشہ افراد قیدیوں کے تبادلے کی آڑ میں رہا ہو جائیں یا کسی کرپٹ طریقے سے اپنا نام قیدیوں کی رہائی والی لسٹ میں شامل کروا لیں۔'

قیدیوں کی رہائی اور افغان امن معاہدہ

رواں سال فروری میں افغان طالبان اور امریکہ کے مابین افغان امن معاہدے پر دستخط کیا گیا تھا۔ اس معاہدے میں دیگر معاملات کے علاوہ قیدیوں کے تبادلے کی بھی بات کی گئی تھی۔

اس معاہدے کے تحت افغانستان کی حکومت طالبان کے 5000 جبکہ طالبان افغان سیکورٹی فورسز کے 1000 قیدی  30 مارچ تک رہا کرنے والے تھے تاہم کچھ وجوہات کی بنا پر 30 مارچ تک یہ ممکن نہ ہو سکا۔

معاہدے کے تحت یہ طے ہوگیا تھا کہ قیدیوں کے تبادلے کے بعد 30 مارچ سے بین الافغان مذاکرات شروع ہونے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قیدیوں کی رہائی کے معاملے میں افغان طالبان اور حکومت کے مابین سات اپریل کو معاملہ اس وقت خراب ہو گیا جب اس وقت طالبان کا ایک تکنیکی وفد کابل میں قیدیوں کی پہنچان اور تصدیق کے لیے موجود تھا لیکن طالبان نے اس وفد کو واپس بلا لیا تھا۔

اس وقت افغان طالبان کے قطر دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ افغان حکومت قیدیوں کے تبادلے اور رہائی کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے جب کہ افغان حکومت کا موقف تھا کہ طالبان اپنے 15 کمانڈرز رہا کرنا چاہتے ہیں جو مختلف جرائم میں ملوث ہیں۔

تاہم طالبان کا موقف تھا کہ یہ کمانڈرز نہیں بلکہ سیاسی قیدی تھے اور ہم ان کی رہائی اس لیے چاہتے تھے تاکہ وہ قیدیوں کی پہچان میں ہمارے بھیجے گئے تکنیکی وفد کی مدد کر سکیں۔

طالبان کی جانب سے اس وقت اپنا وفد واپس بلانے کے ایک دن بعد افغان حکومت نے طالبان کے 100 قیدی رہا کر دیے تھے جبکہ کچھ دن بعد 100 مزید قیدیوں کو رہا کیا تھا۔

افغان طالبان کے مطابق افغان حکومت اب تک ان کے 2000 قیدی رہا کر چکی ہے جب کہ 3000 ابھی رہا ہونا باقی ہیں۔ طالبان کا موقف ہے کہ ان قیدیوں کی رہائی افغان امن معاہدے کو آگے لے جانے میں کی کارگر ثابت ہوگی اور اس سے اعتماد کی فضا قائم ہوگی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا