جوڈیشل ایکٹوزم نے پاکستان کو کیا دیا؟

جوڈیشل ایکٹوزم کیا ہے؟ بالعموم اسے  آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت لیے گئے ازخود نوٹس سے تعبیر کیا جاتا ہے۔لیکن عملی طور پر معلوم کے کسی مقدمے میں غیر معمولی اہتمام کو بھی جوڈیشل ایکٹوزم کہا جا سکتا ہے۔

(پکسابے)

کیا جوڈیشل ایکٹوزم، کسی ناقص طرز حکومت کا متبادل ہو سکتا ہے، اس سے ہونے والے غیر معمولی نقصانات کے ازالے کی کیا کوئی صورت موجود ہے اور کیا ہم میں اب اتنی سکت باقی ہے کہ اس زخمِ دروں کو ساتھ لیے پھریں؟
ایک  نیم خواندہ سماج میں، جو قرون اولی کے قاضی القضاء کی کہانیاں سن سن کرپلکوں میں انصاف کا ایک خاص تصور لیے پھرتا ہے، جوڈیشل ایکٹوزم کی تحسین کیے جانا ایک قابل فہم عمل ہے۔حکومتوں سے مایوسی کے عالم میں عدالت جب از خود نوٹس لیتی ہے اور حکومت وقت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتی ہے تو بے بس معاشرے کو گویا ایک دیوار گریہ مل جاتی ہے۔ایک ڈھارس سی بندھ جاتی ہے کہ کوئی تو ہے جسے ان کی حالت زار کی فکر ہے۔ اس مشق کے سماجی، معاشی اور قانونی نتائج مگر لازم نہیں کہ خوشگوار ہی ہوں۔ بسا اوقات یہ انتہائی ناخوشگوار بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ بات گذشتہ سال مالدیپ کی پارلیمان کو سمجھ آ گئی تھی۔ہمیں بھی آ جانی چاہیے۔
جوڈیشل ایکٹوزم کیا ہے؟ بالعموم اسے  آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت لیے گئے ازخود نوٹس سے تعبیر کیا جاتا ہے۔لیکن عملی طور پر معلوم کے کسی مقدمے میں غیر معمولی اہتمام کو بھی جوڈیشل ایکٹوزم کہا جا سکتا ہے۔یہ ضابطے کی کسی پیچیدگی کا نہیں رویے کا نام ہے۔اس سے یقینا کچھ فوائد بھی حاصل ہوتے ہوں لیکن نقصانات کا پلڑا زیادہ بھاری ہے۔ اب اگر پارلیمان نے پاکستان بار کونسل کی تجویز کے مطابق آرٹیکل 184میں بامعنی ترمیم نہیں کرنی تو پھر سوال یہ ہے کہ ان نقصانات کے ازالے کی کیا ضرورت ہے۔
بعض فیصلوں کے بہت دور رس نتائج مرتب ہوئے۔ بھٹو کیس نے ہمارے سماج کی بنیادیں کھود کر رکھ دیں اور اس کی جڑوں میں وہ تلخی انڈیل دی جس کے آزار سے ہم اب تک نہیں نکل پائے۔ نظریہ ضرورت کے فیصلے کو بھی عشروں بیت گئے لیکن اس کا آسیب بستی سے جا ہی نہیں رہا۔ سپریم کورٹ کو خود یہ اختیار نہیں تھا کہ آئین میں ترمیم کرتی لیکن اس نے پر ویز مشرف کو تین سال کے لیے آئین میں ترمیم کا اختیار دے دیا۔ نواز شریف کے مقدمے میں غیر معمولی اہتمام بھی اپنی نوعیت کا دل چسپ واقعہ تھا۔مقدمہ احتساب عدالت سن رہی تھی لیکن سپریم کورٹ کے ایک معزز جج  بطور ’’مانیٹرنگ جج“ اسے دیکھ رہے تھے۔پرویز مشرف کو سزا سنائی گئی تو تین دن لاش لٹکانے کی بات بھی فیصلے میں لکھ دی گئی۔قانون، ضابطے اور رجحانات کے دائرہ کار میں یہ سب جوڈیشل ایکٹوزم کی مختلف صورتیں تھیں۔
ریکوڈک میں کیا ہوا، ہمارے سامنے ہے۔اب ہم 6 ارب ڈالر کا جرمانہ کروا کر بیٹھے ہیں۔یہ رقم آئی ایم ایف کے اس پیکج کے برابر ہے جس کے لیے ہم مہینوں آئی ایم کی منتیں کرتے رہے۔اس قانونی معرکے میں پاکستان کے وکیلوں کی فیسوں وغیرہ میں خرچ ہونے والے 10 کروڑ ڈالر بھی شامل کر لیجیے۔پھر بیٹھ کر سوچیے اس ایکٹوزم کی کیا قیمت ہے جو اس ملک نے ادا کی؟  کورونا کا معاملہ دیکھ لیجیے۔ عید کے موقع پر لوگوں نے شاپنگ کرنا تھی اور کپڑے خریدنا تھے، اس کا نتیجہ بھی لاشوں کی صورت ہمارے سامنے رکھا ہے۔سوال وہی ہے: جوڈیشل ایکٹوزم کسی بھی شکل میں ہو، اگر نقصان دہ ثابت ہو تو ازالے کی کیا کوئی صورت باقی ہے؟
جدید ریاست کے تصور میں ہر ادارے کا دائرہ کار واضح کر دیا گیا ہے۔جب اس میں تصرف ہوتا ہے تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم نے مشیر صحت کے منصب پر ڈاکٹر ظفر مرزا کو رکھنا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ وزیر اعظم نے کرنا ہے، عدالت نے نہیں۔ہاں ظفر مرزا کے خلاف کوئی مقدمہ ہو تو شواہد کی روشنی میں اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔
افتخار چودھری صاحب کے زمانے میں جوڈیشل ایکٹوزم اپنے عروج پر تھا۔ اس دور میں وہ اچھا بھی لگتا تھا۔جب چینل پر خبر چلتی تھی چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا تو تسلی ہوتی تھی کوئی تو ہے جو حکومتی نا اہلی پر گرفت کر رہا ہے۔ بعد میں یہ احساس پیدا ہونے لگا کہ یہ ایکٹوزم حکومتی نا اہلی اور غفلت کا متبادل کم بنتا ہے اور مسائل زیادہ پیدا کر دیتا ہے۔چنانچہ آصف سعید کھوسہ صاحب شعوری طور پر اس ایکٹوزم سے دور رہے۔انہوں نے ایک ہی سوموٹو لیا جس کا تعلق آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے تھا۔ اس مشق سے کیا کوئی خیر برآمد ہوا، اس کا فیصلہ آپ خود کر لیجیے۔سیاسی مبصرین کے نزدیک یہ سوموٹو بھی عمران خان کے ایک نامناسب طعنے کے جواب آں غزل کے سوا کچھ نہیں تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نظام اگر کام نہیں کر رہا اور طرز حکومت ناقص ہے تو جوڈیشل ایکٹوزم اس کا حل نہیں ہے۔سماجیات کے زاویے سے دیکھا جائے تو یہ اس ناقص طرز حکومت کے لیے ڈھال بن جاتا ہے۔سانحہ ساہیوال ہی کو لے لیجیے۔ جب اس  معاملے میں ناقص طرز حکومت عیاں ہو گئی تو لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ عدالت ہی از خود نوٹس لے لے۔ اس مطالبے کی نفسیات کیا تھی؟ لوگ خود کو تسلی دینا چاہتے تھے کہ حکومت نہ سہی عدالت ہی سہی کسی نے تو نوٹس لیا۔ جب عدالت نوٹس لیتی ہے تو حکومت سے بھی بوجھ ہٹ جاتا ہے۔عوام بھی مطمئن ہو جاتے ہیں کہ معاملہ اب عدالت میں ہے۔سوال یہ ہے کہ جو کام حکومت کے کرنے کا ہے وہ حکومت خود کیوں نہ کرے۔ فلاحی ریاست کے باب میں حکومت کو کسی ممکنہ دباؤ سے خیراتی ادارے آزاد کر دیتے ہیں اور ناقص طرز حکومت پر اٹھنے والا لاوہ سو موٹو سے ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ سماج کی نفسیاتی تشکیل میں یہ بھی کوئی مثبت چیز نہیں ہے۔
ہائی کورٹ کو آئین کے تحت از خود نوٹس کا اختیار نہیں ہے، یہ اختیار صرف سپریم کورٹ کو حاصل ہے۔ سپریم کورٹ کے اختیار کے حوالے سے بھی مزید قانون سازی کی ضرورت ہے تا کہ اس کا دائرہ کار اور طریق عمل واضح ہو سکے۔اس باب میں مختلف تجاویز دی جا چکی ہیں۔ ایک تجویز یہ ہے کہ کوئی ایک جج نہیں بلکہ تین ججوں پر مشتمل کمیٹی فیصلہ کرے کہ سوموٹو لینا چاہیے یا نہیں۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ الگ سے ایک بنچ ہو جو سوموٹو مقدمات کو دیکھے۔ریاست کے انتظامی معاملات دیکھنا بہر حال حکومتوں کا کام ہے۔کیا دنیا میں کوئی اور ملک بھی ایسا ہے جہاں کورونا پر عدالت نے  از خود نوٹس لیا ہو؟امریکہ میں کیا کچھ نہیں ہو رہا کیا امریکی عدالت نے اس پر سوموٹو لیا؟ دنیا بھر میں عدالتیں Restraint  کا مظاہرہ کرتی ہیں تو کیا یہ محض اتفاق ہے یا اس کا تعلق حکمت سے ہے؟برطانیہ میں ”چانسری کورٹس“ کا تجربہ ہمارے سامنے ہے۔کیا ہم اس سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان