جب بت گرائے جائیں گے

حقیقت میں دنیا کے غریب، مظلوم اور محکوم عوام میں جو احساس محرومی ہے اس کی چبھن اب قرار سے بیٹھنے نہیں دیتی ہے۔

کرونا (کورونا) وائرس کی پرواہ کئے بغیر لاکھوں افراد امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس کی سڑکوں پر امڈ آئے جس کی شدت دیکھ کر وائٹ ہاؤس کے آس پاس پہلی بار فوج تعینات کرنی پڑی (اے ایف پی)

میں یقین  کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ اگر یورپی ممالک اور امریکہ میں اردو زبان بولنے کا رواج ہوتا تو دو ہفتوں سے جاری ہر اس جلسے، جلوس اور احتجاجی مظاہرے میں فیض احمد فیض کی نظم ’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘ سننے کو ضرور ملتی جو امریکہ میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد بیشتر بڑے شہروں میں منعقد ہو رہے ہیں۔

ان مظاہروں میں اکثر ان لوگوں کے یادگاری مجسمے گرائے جانے لگے ہیں جو ماضی میں انسانوں کی تجارت کیا کرتے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ انسانوں کی خریدوفروخت کرنے والے تاجر نما سیاست دانوں کے بتوں کو تراشوانے کے لیے بڑی رقوم خرچ کی جاتی تھیں۔

نعیمہ احمد مہجور کا یہ کالم آپ یہاں سن بھی سکتے ہیں:

 

ان شخصیات کے یادگاری مجسمے امریکہ، برطانیہ اور دیگر کئی ملکوں میں عام اور اہم مقامات پر آج بھی نصب ہیں۔ ایسا ہی ایک مجسمہ برطانیہ کے مشہور شہر برسٹل میں نصب تھا جس کو حالیہ مظاہرے کے دوران گرایا گیا۔ یہ مجسمہ 17ویں صدی میں غلاموں کی تجارت کرنے والے ایڈوارڈ کولسٹن کا تھا جو اس شہر میں مقیم شہریوں کے بیچ کافی عرصے سے ایک متنازع شکل اختیار کرچکا تھا۔ جب اس مجسمے کو رسیاں باندھ کر گرایا گیا تو مظاہرین نے بہ آواز بلند کہا: ’میں سانس نہیں لے پا رہا ہوں۔‘ ایسا مینی سوٹا کے واقعے کے درد کو محسوس کرنے کے طور پر کیا گیا۔ بعد میں اس کو سمندر برد کیا گیا جہاں کی بندرگاہ ایک زمانے میں سیاہ فاموں کی خرید و فروخت کے لیے مشہور رہی تھی۔ خبر ہے کہ اس مجسمے کو  سمندر سے نکال کر ایک میوزیم میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

لندن کی پارلیمنٹ بلڈنگ کے سامنے نصب سابق وزیر اعظم وینسٹن چرچل کے مجسمے کو بھی احتجاج کے دوران نقصان پہنچایا گیا جس پر کئی سیاسی جماعتوں نے برہمی کا اظہار کیا۔

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے ان پرتشدد مظاہروں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے معاشرے میں نسل پرستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ احتجاج یا جلوس نکالنا جمہوریت کا حصہ ہے لیکن مظاہرے کے دوران تشدد کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

مارتھا گرہم لندن کے بڑے مظاہرے میں شریک تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ نسلی تعصب کا خود شکار رہیں ہیں وہ چاہے سکول میں تعلیم حاصل کرنے کا خواب تھا یا روزگار کی تلاش تھی۔ ’میرے چہرے کا رنگ ہمیشہ میری ناکامی کا بڑا سبب رہا۔ جارج فلائیڈ  کی ہلاکت نے سیاہ فاموں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیرمساوی سلوک کو بےنقاب کیا۔ جس بےدردی سے اس کی جان لی گئی اس منظر کو دیکھ کر نہ صرف ہمارے زخم تازہ ہوگئے ہیں بلکہ اس نے باضمیر عوام کے شعور کو جھنجھوڑ ڈالا ہے۔‘

پچیس مئی کو منی سوٹا میں رہنے والے جارج فلائیڈ کی ہلاکت اس وقت ہوئی جب سفید فام پولیس نے ان کی گردن کو اپنے گھٹنوں کے نیچے تقریباً نو منٹ تک دبوچے رکھا اور وہ پولیس والے کے سامنے منت سماجت کرتا رہا کہ ’میں سانس نہیں لے پا رہا ہوں۔‘ لیکن اس کا پولیس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔

’میں سانس نہیں لے پا رہا ہوں‘ بعد میں بڑے احتجاجی جلوسوں کا نعرہ بنا اور مظاہرین نے اس دردناک منظر کو عملی طور پر دہرایا۔

غزہ کی پٹی میں دو فلسطینی خواتین بھی جارج فلائیڈ کے حق میں سڑکوں پر نکلیں (اے ایف پی)

گوکہ سیاہ فام تارکین وطن کی داستان انتہائی دردناک ہے لیکن لمبی جدوجہد اور بصیرت سے یہ لوگ اپنی شناخت اور تہذیب بچانے میں کسی حد تک کامیاب رہے ہیں بلکہ اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کے لیے انہوں نے علم و ادب کا سہارا بھی لیا۔ تاہم ان کا ماننا ہے کہ ان کی مشکلات کا ازالہ مکمل طور پر نہیں ہوا اور مارٹن لوتھر کنگ کا دیکھا ہوا خواب ’میرا ایک خواب ہے‘ اب تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا ہے۔

مشہور ہپ ہاپ سنگر اکالا نے 2018 میں اپنی کتاب ’Natives Race and class in the Ruins of Empire‘ میں نسلی تعصب سے متاثر اپنی کہانی کا احاطہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حصول تعلیم، پولیس سے وابستگی، شناخت بچانے کی آرزو اور پھر زندہ رہنے کا خواب میری جدوجہد کا ایک لمبا سفر ہے جو ابھی ختم نہیں ہوا ہے حالانکہ برطانیہ میں غلاموں کی نیلامی کا 270 برس تک جاری رہنے  کے بعد 1833 میں ایک قانون کے ذریعے ختم کیا گیا ہے۔

وہ لکھتی ہیں: ’برطانیہ کی دو روایات رہی ہیں۔ ایک جس کی جڑیں آزادی، مساوی حقوق اور جمہوریت میں پیوستہ ہیں اور دوسری یہ کہ یہ بنیادی اصول وضوابط محض لفظوں تک محدود  رکھے گئے ہیں اور اپنی طاقت کی برتری قائم رکھنے اور حکومتیں ضرورت کے مطابق استعمال کرنے کی اپنی پالیسی کو اپناتی رہیں ہیں۔ آپ عراق پر جنگ بھی کرتے ہیں اور آپ لاکھوں عوام کے جنگ نہ کرنے کی آواز کو نظرانداز بھی کرتے ہیں۔ ایسی ہی پالیسی نسل پرستی سے متعلق قائم ہے۔‘

اکالا کی نیٹیو کتاب کے پس منظر میں میڈیا میں نسل پرستی کے الزامات پر بڑی بحث کا آغاز بھی ہوا تھا جس کے ردعمل میں کئی سروے رپورٹیں اور سفارشات بھی کی گئیں تھیں مگر امریکہ اور برطانیہ میں سیاہ فام اکثریت کا خیال ہے کہ نسل پرستی جب تک اداروں کے اندر سے ختم نہیں کی جاتی تب تک کسی تبدیلی کی امید نہیں رکھی جاسکتی ہے۔

برطانیہ میں اس وقت ملک کی تین فیصد آبادی سیاہ فاموں کی ہے جو تارکین وطن میں پہلے نمبر پر آتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ میں اس وقت کل آبادی کا 13 فیصد سیاہ فام ہیں جن کو زیادہ تر شجر کاری کے شعبے کے لیے امریکی تاجر افریقی ممالک سے خرید کر لایا کرتے تھے۔ ان میں بیشتر رہائش، تعلیم اور روزگار کے مسائل سے دوچار ہیں۔ نسل پرستی کے خاتمے کے لیے کئی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں البتہ صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد تارکین وطن میں ایک ڈر سا بیٹھا ہے جس کا اظہار حالیہ مظاہروں میں بر ملا کیا گیا ہے۔

جنسی زیادتی سے متعلق تحریک ’می ٹو‘ کے بعد نسل پرستی کے خلاف یہ بڑی مہم تصور کی جاتی ہے جس نے دنیا کے بڑے شہروں میں کرونا وائرس کے خوف کے باوجود ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے۔ حالانکہ اس سے قبل شہریت کے متنازع ترامیمی قانون کے خلاف بھارت کے مختلف شہر جن میں شاہین باغ سرفہرست ہے حکومت مخالف مظاہروں کے بڑے مراکز بنے ہوئے تھے۔

عوام کے بیشتر حلقوں نے آواز اٹھائی جس میں فیض کی نظم ’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘ ایسے گونجی کہ حکومت کو ایک تحقیقاتی کمیٹی یہ طے کرنے کے لیے بٹھانی پڑی کہ کہیں یہ نظم بھارت مخالف تو نہیں ہے۔

حقیقت میں دنیا کے غریب، مظلوم اور محکوم عوام میں جو احساس محرومی ہے اس کی چھبن اب قرار سے بیٹھنے نہیں دیتی ہے۔ یہ بیداری اس چبھن کا نتیجہ ہے کہ وہ متحد اور منظم ہو کر اپنے حقوق کی لڑائی لڑنے کے لیے سڑکوں پر آنے لگے ہیں وہ چاہے جابر حکمران کے خلاف آواز ہو، نسل پرست نظام کے خلاف جدوجہد ہو یا معاشرے کے طاقتور طبقے کے خلاف مہم ہو۔

ظاہر ہے کہ یہ لڑائی اتنی سہل اور آسان نہیں ہے لیکن تاریخ شاہد ہے کہ عوام کی طاقت کے سامنے ہر حکمران کو جھکنا پڑا ہے، ہر جابر کی تذلیل ہوئی ہے اور ہر مہم کا مثبت نتیجہ برآمد ہوا ہے۔ شاید وہ وقت بھی ضرور آئے گا جب دنیا کے کروڑوں بےسہارا، مظلوم اور نہتے عوام بلند آواز میں کہہ سکیں گے کہ اب راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
لازم ہے کہ ہم دیکھیں گے۔۔۔۔ ہم دیکھیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ