سندھ کے قدیم بادشاہوں کے آثار کس حال میں ہیں؟

راجہ داہر اور دوسرے حکمرانوں کے آثار تقریباً مکمل تباہی کا شکار ہو چکے ہیں۔

برہمن آباد کا سٹوپا جو کسی بھی وقت گر سکتا ہے (اختر حفیظ)

کسی بھی تاریخی مقام کو دیکھنے کے بعد ذہن میں پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ اس کے زوال کے اسباب کیا رہے ہوں گے، بادشاہوں اور ملکاؤں کے حرم، محل کی فصیلیں، اس کی راہ داریاں اور خواب گاہیں اُجڑتے وقت کیسا ماحول رہا ہو گا؟

 سندھ میں آج ہمیں جتنے اُجڑے ہوئے کوٹ قلعے نظر آتے ہیں، ان کی تباہ حالی کے پچھے کئی قصے کہانیاں ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایسی شاہی عمارتوں کے نشانات بھی مٹنے لگتے ہیں۔ مگر تاریخ کو کبھی نہیں مٹایا جاسکتا۔ اس بار میرے سفر کا پہلا پڑاؤ ایک ایسا اجڑا ہوا شہر تھا جو کسی زمانے میں سندھ کا تجارتی حب رہا ہے۔

برہمن آباد کے نام سے مشہور یہ شہر شہدادپور کے مشرق میں آٹھ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ’دلو رائے جا دڑا‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں یہ شہر 12 مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ سکڑ کر صرف ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر تک رہ گیا ہے۔

اس کی تباہی کے حوالے سے ایک لوک روایت پائی جاتی ہے کہ اس پر حکمرانی کرنے والا راجہ دلو رائے ایک ظالم بادشاہ تھا اور اس کے مظالم کی وجہ سے یہ شہر تباہ ہو گیا۔

برہمن آباد کے چاروں اطراف اب اینٹیں ہی بکھری ہوئی ہیں، خستہ حال دیواریں ، اپنے ہی وزن سے چور چور ہو رہی ہیں۔ جہاں تک نظر جاتی ہے وہاں تک سرخ اینٹوں کے ذرات اور ٹکڑے ہی نظر آتے ہیں۔ مگر شہر کا بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اپنے عروج کے دور میں یہ شہر بہت خوبصورت رہا ہو گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہی ٹوٹی پھوٹی دیواروں کے بیچ ایک بہت بڑا سا سٹوپا اب بھی دیکھا جاسکتا ہے، جواس شہر کی ایک ایسی نشانی ہے، جس کی وجہ سے یہ شہر دور سے ہی دکھائی دیتا ہے۔ 1854 میں بیلاسس اور رچرڈسن نے یہاں کے آثار قدیم کی کھدائی کی تھی، جبکہ اس حوالے سے ایک تحقیقی رپورٹ ممبئی کے رائل ایشیاٹک سوسائٹی جریدے ’السٹریٹیڈ لنڈن‘ میں 1857 میں شائع ہوئی۔

یہاں سے پائی جانے والی اشیا برٹش میوزیم اور ممبئی کے عجائب گھروں میں رکھی گئی ہیں۔ اس اسٹوپا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں گوتم بدھ کے استھیاں (مردے کی راکھ والے برتن) رکھی گئی تھیں۔

گوکہ یہ تباہ حال شہر آج برہمن آباد کے نام سے مشہور ہے مگر کافی لوگ ایک نام پر متفق نہیں ہیں، اسے ’بہمنوا‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ سندھ کی تاریخ کے حوالے سے مشہور کتاب ’چچ نامہ‘ میں اسے برہمن آباد لکھا گیا ہے۔ ’آباد‘ کے حوالے سے کہا جاتا ہے یہ شاید ایرانی نام ہے۔ اور اس حوالے سے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ یہ شہر ایرانی بادشاھ بہمن اردشیر کے حکم سے تعمیر کیا گیا تھا۔ جس کا حقیقی نام بہمنوا تھا۔ جو کہ بعد میں تبدیل ہو کر بہمن آباد ہو گیا۔ بہمن اردشیر نے اپنی حاکمیت کے دوران اسی نام سے کئی شہر تعمیر کروائے۔ جبکہ ’مجمع التواریخ‘ میں لکھا گیا ہے کہ بہمن اردشیر نے ایک شہر قندابیل اور دوسرا بہمن آباد تعمیر کروایا۔

سبط حسن اپنی کتاب ’پاکستان میں تہذیبوں کا ارتقا‘ میں لکھتے ہیں کہ عربوں کی جانب سے سندھ کی فتح سے قبل سندھ اور عرب میں بہترین تجارتی تعلقات تھے۔ سندھ ایک زرخیز اور دولتمند سرزمین تھی۔ یہاں ان دنوں راجہ چچ کا بیٹا داہر حکومت کرتا تھا۔ اس کے دو دارالحکومت تھے۔ شمال میں اروڑ (روہڑی کے قریب) جہاں پر راجہ آٹھ ماہ رہائش اختیار کرتا تھا اور جنوب میں برہمن آباد (شہدادپور سے آٹھ میل شمال میں)۔

جب 711 میں عربوں نے سندھ پر حملہ کیا تو اس زمانے میں برہمن آباد میں موجود بدھوں نے عربوں کا ساتھ دیا، چوں کہ راجہ داہر ایک ہندو حکمران تھا، اور بدھ مت کے پیروکار کسی بھی انتظامی عہدے پر نہیں تھے، لہٰذا وہ راجہ داہر سے خفا تھے اور انہوں نے اسی لیے برہمن آباد پر حملے کے وقت داہر کا ساتھ نہیں دیا۔ آخرکار یہ شہر بھی اجڑ گیا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کا نام تبدیل ہو کر منصورہ ہو گیا۔

میں اس اجڑے ہوئے شہر کو خیرباد کہہ کر ایک اور مقام کی جانب نکل پڑا جہاں بھی راجہ داہر حکمرانی کرتا تھا۔  

اروڑ کی تخت گاہ روہڑی ضلع سکھر سے پانچ میل دور جنوب مشرق میں ایک پہاڑی پر واقع ہے۔ اروڑ پر چندر ونسی راجہؤں نے 450 سے 642 تک حکومت کی، جسے رائے گھرانہ کہا جاتا ہے۔ چندر ونسی گھرانے نے 1100 قبل مسیح میں اس شہر پر حکومت کی تھی۔ جب سکندر نے اپنی فوجوں کا رخ ہندوستان کی جانب موڑا اس وقت یہاں کا حکمران موسیکانوس تھا جبکہ رائے ساہسی کے زمانے میں نمروز ایرانی نے حملہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ اروڑ ایک بہت بڑا بندرگاہ بھی تھا جسے مضبوط حصار بھی حاصل تھا۔ جبکہ چوتھی صدی میں ہاکڑو دریا کا رخ تبدیل کرنے کی وجہ سے بھی یہ شہر بہت متاثر ہوا۔

تحفتہ الکرام میں اس شہر کا تذکرہ کچھ یوں ملتا ہے کہ ’ہندو راجاؤں نے اروڑ پر 130 برس حکومت کی۔ اس وقت تک چچ برہمن، اروڑ کا باسی ساہسی دوئم کے ہاں ملازمت کے لیے آیا اور ہوشیاری سے اس کا وزیر بن بیٹھا اور راجہ کی مہارانی سہاندی (سونہں دیوی) کی زلفوں کا اسیر ہو گیا اور راجہ کا قتل کر کے خود اروڑ کا حکمران بن بیٹھا۔‘ تحفتہ الکرام کے مطابق یہ 622 کا زمانہ تھا۔

راجہ داہر نے اپنے چچا راجہ چندر کے بعد اقتدار سنبھالا۔ وہ برہمن خاندان کے آخری حکمران تھے۔ راجہ چچ 677 میں وفات پا گئے، جس کے بعد ان کے بھائی راجہ چندر تخت نشین ہوئے۔ ایچ ٹی لئمبرک کا کہنا ہے کہ انہوں نے تقریباً سات برس حکومت کی اور ان کی وفات 681 میں ہوئی جس کے بعد اقتدار راجہ داہر کے سپرد ہو گیا جنہوں نے 32 سال سندھ پر راج کیا۔ ان کے حکومتی دور میں عرب میں یہ بنو امیہ کا دور تھا، اسی دور میں سندھ پر حملہ کیا گیا اور محمد بن قاسم نے حملہ کر کے راجہ داہر کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔

اروڑ بھی مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے۔ مثلا مسعودی نے اسے الرور، ابن شردا ذبہ نے الدور، اشکا البلاد نے اسے الدور اور الدود جبکہ گلائیڈ میٹر نے اسے رور اور الروز اور الاطلاع نے اسے الرور کا نام دیا۔  یہ قلعہ ایک بہت بڑی پہاڑی پر قائم کیا گیا تھا، مگر آج اس کے آثار بہت ہی کم رہ گئے ہیں، کیوں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تمام تر آثار ریزہ زیرہ ہو چکے ہیں۔

آپ جیسے ہی اروڑ کی جانب سفر کرنے لگتے ہیں، تو پہلے آثار اس مسجد کے نظر آتے ہیں، جو محمد بن قاسم نے بنوائی تھی۔ اس مسجد آج بھی کچھ بہتر شکل میں ہیں، مگر اروڑ کے اپنے آثار اب نظر نہیں آتے۔ یہ شہر بھی میلوں تک پھیلا ہوا تھا مگر آج وہاں پتھروں کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں۔

ماہرِ آثارِ قدیمہ پروفیسر ڈاکٹر محمد علی مانجھی کا کہنا ہے کہ ’موجودہ مسجد کے آثار اسی زمانے کے ہیں، جب عربوں نے سندھ پر حملہ کیا تھا۔ یہاں سے ہاکڑو دریا گزرا کرتا تھا۔ سندھ میں زیادہ تر تخت گاہیں دریا کے کنارے بنائی جاتی تھیں۔ آج اروڑ کے لوگ سندھ اور ہندوستان میں بھی آباد ہیں۔‘

پتھریلے راستوں سے سفر کرتے ہوئے میں اس پہاڑی پر پہنچا تھا، جسے ’شاہ جوں ٹکریوں‘ کہا جاتا ہے۔ میرے سفر کا آغاز جب ہوا تو میرے ذہن میں اروڑ کے بارے میں جو نقشہ تھا، اس کے بالکل برعکس ہی چیزیں نظر آئیں۔ اب تو وہاں کوئی ایسی فصیل بھی سلامت نہیں ہے، جو اروڑ کے قعلے کی علامت ہو، سب کچھ مٹ گیا ہے۔

اروڑ اور برہمن آباد ایک ہی بادشاہ کی تخت گاہیں تھیں، مگر آج یہ دونوں اجڑ چکی ہیں۔ میں نے دونوں شہروں کو دیکھا جو اپنے عروج کا زمانہ دیکھ چکے مگر ان شہروں کو دیکھ کر مجھے ایک بادشاہ کا قصہ یاد آنے لگا۔

کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے اپنے ملک سے تمام پڑھے لکھے، عقلمند اور عالم قسم کے لوگوں کو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا کوئی ایسا مشورہ، منتر یا مقولہ ہے کہ کو ہر قسم کے حالات میں کام کرے، ہر صورتحال اور ہر وقت میں اس ایک سے کام چل جائے۔ تمام لوگ بادشاہ کی اس خواہش کو سن کر پریشان ہو گئے کہ کون سی ایسی بات ہے جو کہ ہروقت، ہر جگہ کام آئے؟ جو کہ ہر صورتحال، خوشی، غم، الم، آسائش، جنگ و جدل، ہار، جیت غرض ہر جگہ کام آ سکے؟ِ
کافی دیر آپس میں بحث و مباحثہ کے بعد ایک بوڑھے آدمی نے ایک تجویز پیش کی جسے تمام نے پسند کیا اور وہ بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوئے۔

انہوں نے بادشاہ کی خدمت میں ایک کاغذ پیش کیا اور کہا کہ اس میں وہ منتر موجود ہے جس کی خواہش آپ نے کی تھی۔ شرط صرف یہ ہے کہ آپ اس کو صرف اس وقت کھول کر دیکھیں گے جب آپ اکیلے ہوں اور آپ کو کسی کی مدد یا مشورہ درکار ہو۔ بادشاہ نے اس تجویز کو مان کر کاغذ کو نہایت حفاظت سے اپنے پاس رکھ لیا۔


کچھ عرصے کے بعد پڑوسی دشمن ملک نے اچانک بادشاہ کے ملک پر حملہ کر دیا۔ حملہ اتنا اچانک اور شدید تھا کہ بادشاہ اور اس کی فوج کو بری طرح شکست ہوئی۔ فوج نے اپنے بادشاہ کے ساتھ مل کر اپنے ملک کے دفاع کی بہت کوشش کی لیکن بالآخر انہیں محاذ سے پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ اس صورت حال میں اسے اچانک اس منتر کا خیال آیا جو کہ اسے بوڑھے شخص نے دیا تھا۔ اس نے فورا اپنی جیب سے وہ کاغذ نکالا اور پڑھنا شروع کیا۔ اس کاغذ پر لکھا تھا کہ ’یہ وقت بھی گزر جائے گا۔‘

اسی طرح برہمن آباد اور اروڑ پر حکمرانی کرنے والے بادشاہ کا زمانہ بھی گزر گیا، آج محض ہم اس بادشاہ کی کہانیاں اور قصے کتابوں میں پڑھ رہے ہیں۔ مگر اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ سندھ میں آباد ایسے قدیم مقامات کی دیکھ بھال کرنا لازمی ہے ۔ کیا سندھ حکومت اس حوالے سے کوئی کردار ادا کر رہی ہے، یہ سوال ذہن میں لے کر میں نے اروڑ کو خیرباد کہا۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ