جعلی پائلٹ لائسنس: پانچ اہلکار معطل

اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں وزیر ہوابازی نے کہا کہ ان پانچ اہلکاروں کے خلاف کریمنل انکوائری کے لیے بھی مشورہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ان اہلکاروں کے نام اور عہدے بھی بتائے۔

وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان پریس کانفرنس کرتے ہوئے (اے ایف پی)

وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) میں 28 پائلٹس کے جعلی لائسنس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ انہوں نے اس عمل میں ملوث پانچ لوگوں کو معطل کر کے ان کے خلاف انکوائری شروع کر کا اعلان بھی کیا ہے۔

اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ان پانچ اہلکاروں کے خلاف کریمنل انکوائری کے لیے بھی مشورہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ان اہلکاروں کے نام اور عہدے بھی بتائے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کے بھی چند لوگ ملوث تھے اور ان کی چھان بین کی جا رہی ہے اور تین یا چار لوگ باہر کے ہیں لیکن متعلقہ اداروں کو ان کے نام بھی دیے گئے ہیں جن کے خلاف انکوائری ہوگی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وفاقی وزیر نے کہا کہ '28 پائلٹس ایسے ہیں، جن کی تمام انکوائریز مکمل ہوئی ہیں، ان میں سے نو پائلٹس نے اعتراف بھی کرلیا ہے، انہیں برطرف کرنا حکومت کا کام ہے جس کے لیے کابینہ سے اجازت لینی ہوگی۔‘

وزیر ہوابازی غلام سرورخان نے اسلام آباد میں بغیر لائسنس والے پائلٹس سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 'جتنے بھی پائلٹس ہیں، جن لوگوں کے خلاف انکوائری ہوئی، یا جو لوگ ریکروٹ ہوئے یہ سب 2018 سے پہلے کے لوگ ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 2018 کے بعد حکومت نے پی آئی اے یا ایوی ایشن ڈویژن میں نہ کوئی نئی بھرتی کی ہے اور نہ ہی کوئی امتحانات لیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تصدیق کے اس عمل میں 2019 تک مجموعی طور پر 648 لوگ کیبن کرو 119، کاک پٹ 16، انجینئرنگ 98 اور جنرل ایڈمنسٹریشن کے 415 لوگ تھے۔

ادھر پائلٹوں کی ایسوسی ایشن پالپا کے صدر کیپٹن چوہدری سلمان سنیچر کو چار بجے کراچی پریس کلب میں حکومت کی جانب سے جاری کی گئی تحقیقاتی رپورٹ سے متعلق ایک اخباری کانفرنس بھی کرنے والے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان