ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں پی آئی اے طیارہ حادثہ ’انسانی غلطی‘ قرار

انڈپینڈنٹ ارو کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن (پی آئی اے) کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ حادثہ ’انسانی غلطی‘ کی وجہ سے پیش آیا۔

پی آئی اے کا مسافر طیارہ کراچی ائیرپورٹ سے کچھ فاصلے پر رہائشی آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا تھا (ا ےایف پی)

انڈپینڈنٹ اردو کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن (پی آئی اے) کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ حادثہ ’انسانی غلطی‘ کی وجہ سے پیش آیا۔

ایوی ایشن ڈویژن میں کام کرنے والے ایک اہلکار نے، جنہوں نے رپورٹ دیکھ رکھی ہے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ رپورٹ چار رکنی تحقیقاتی ٹیم نے مرتب کی ہے جس کی سربراہی ائیر کموڈور محمد عثمان غنی نے کی جبکہ ونگ کمانڈر ملک محمد عمران، گروپ کیپٹن توقیر اور ناصر مجید تحقیقاتی ٹیم کے ارکان میں شامل تھے۔

ادھر وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم سے وعدہ کیا تھا کہ طیارہ حادثے کی رپورٹ پیش کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ طیارہ حادثے کی رپورٹ تیار ہو گئی ہے اور انہیں مل چکی ہے تاہم وہ یہ رپورٹ دو روز بعد پیش کریں گے۔

غلام سرور خان نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ رپورٹ سے متعلق وزیر اعظم کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف یہی نہیں بلکہ 2010 سے 2020 تک ہونے والے تمام حادثات کی رپورٹس بھی ایوان کے سامنے پیش کی جائیں گی۔

22 مئی کو پیش آنے والے اس حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق چونکہ بلیک باکس ڈیٹا سے طیارہ میں کسی تکنیکی خرابی کے شواہد نہیں ملے اس لیے ابتدائی رپورٹ میں حادثہ انسانی غلطی سے پیش آنے کا شبہہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ایوی ایشن ڈویژن کے اہلکار نے بتایا کہ کہ رپورٹ میں براہ راست کسی کا نام لے کر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا بلکہ کہا گیا ہے کہ ’انسانی غلطی‘ حادثے کی وجہ ہے۔ اس اہلکار کے مطابق رپورٹ کے مندرجات میں پائلٹوں اور اے ٹی سی عملے کی تواتر سے غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

کہا گیا ہے کہ پہلی لینڈنگ پر جہاز رن وے کے درمیان میں آکر ٹکرایا لیکن پائلٹ دوبارہ طیارے کو اڑا کر لے گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلی لینڈنگ کے بعد پائلٹ کو جہاز اڑانا نہیں چاہیےتھا۔ دوبارہ ٹیک آف کے بعد جہاز کو 17 منٹ تک فضا میں اڑایا گیا اور اسی دوران انجن فیل ہوگئے۔

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خفیظ نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق طیارے میں فنی خرابی نہیں تھی بلکہ ’انسانی غلطی‘ کی وجہ سے ہی حادثہ پیش آیا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ حتمی تبصرہ وہ رپورٹ اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد ہی دیں گے۔

رپورٹ میں طیارے کے کاک پٹ کریو اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کو اِن ڈائریکٹ حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جب کہ پی آئی اے اور سی اے اے کو بھی برابر کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ حادثات کی روک تھام میں پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کا طریقہ کار بھی ناکام قرار دیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اطلاعات کے مطابق رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جہاز شروع سے ہی زائد رفتار اور اونچائی پرآرہا تھا، لینڈنگ پوزیشن میں آنے پر بھی جہاز کی اونچائی مقررہ اونچائی سے زیادہ تھی جبکہ حادثے کے شکار طیارے کے آلات اور سسٹمز کی جانچ کا کام ابھی بھی جاری ہے۔

ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں تمام شواہد کو شامل کیا گیا ہےت جن میں کپتان کا ڈیوٹی روسٹر،ائیرٹریفک کنٹرولر سے گفتگو، طیارے کی بیلی لینڈنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیجزز، فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر، کاک پٹ وائس ریکارڈر سے ملنے والی معلومات اور لاہور سے کراچی پرواز کا ایئرٹریفک کنٹرول سے حاصل ریکارڈ شامل ہیں۔

وفاقی حکومت نے سول ایوی ایشن کے رولز 1994 کے رول 273 کے سب رول ون کے تحت تحقیقات کے لیے یہ رکنی ٹیم تشکیل دی تھی۔ ٹیم کی سربراہی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ کے صدر ایئر کموڈور محمد عثمان غنی نے کی تاہم پائلٹوں کی تنظیم نے اسے مسترد کرتے ہوئے اس میں ان کے نمائندے کو بھی جگہ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم حکومت نے بظاہر اس پر کان نہیں دھرے۔ پائلٹوں کی تنظیم نے اسی خدشے کا اظہار کیا تھا کہ حکام حادثے کا ملبہ ہلاک ہونے والے پائلٹ پر ڈال دیں گے۔

ٹیم کے دیگر اراکین میں اے اے آئی بی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ٹیکنیکل انویسٹی گیشن ونگ کمانڈر ملک محمد عمران، پاک فضائیہ کامرہ کے سیفٹی بورڈ کے انویسٹی گیٹر گروپ کیپٹن توقیر اور بورڈ کے جوائنٹ ڈائریکٹر اے ٹی سی ناصر مجید شامل ہیں۔

یہ پی آئی اے طیارہ حادثہ کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ ہے جبکہ تفصیلی رپورٹ ایک سال کے دورانیے میں آنے کا امکان ہے۔

پی کے 8303 طیارہ حادثہ:

22 مئی کو لاہور سے کراچی آنے والی پرواز پی کے 8303 کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اترنےسے چند منٹ قبل ہی آبادی پر گر گر تباہ ہو گیا تھا۔ طیارے میں کُل 99 افراد سوار تھے، جن میں سے 97 افراد ہلاک جبکہ دو افراد معجزانہ طور پر بچ گئے تھے۔

حادثے کے چند روز بعد فرانس سے سپیشل ائیر بس ٹیم تحقیقات کرنے پاکستان آئی اور جائے حادثہ کا معائنہ بھی کیا۔ فرانس ائیر بس ٹیم نے متعلقہ چھان بین کے بعد پانچ جون کو جاری خط میں کہا تھا کہ پی کے 8303 سے متعلقہ تمام ریکارڈ چیک کیا گیا ہے لہذا معلومات کے جائزے کے بعد ایئربس نے فیصلہ کیا کہ کوئی نئی حفاظتی سفارشات جاری نہ کی جائیں۔

کمپنی نے یقین دہانی کروائی کہ وہ تحقیقات کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان