فاطمہ بھٹو کے دعوے پر سندھ حکومت اور پولیس کیا کہتی ہے؟

میر مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو کا کہنا ہے کہ سندھ پولیس نے ان والد کے قاتلوں کے نام پر پولیس ٹریننگ کالج کا نام رکھا ہے جو قابل مذمت فعل ہے۔

فاطمہ بھٹو سیاسی طور پر تو غیر فعال ہیں مگر اب تک نو کتابیں لکھ چکی ہیں (اے ایف پی)

میر مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو دعویٰ کیا ہے کہ سندھ پولیس نے ان کے والد کے ’قاتلوں‘ کے نام پر پولیس ٹریننگ کالج کا نام رکھا ہے۔ ان کے اس دعوے پر سندھ حکومت اور پولیس کے درمیان کنفیوژن پایا جاتا ہے۔

مرتضیٰ بھٹو سابق وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹے اور بے نظیر بھٹو کے بھائی ہیں۔ ان کی بیٹی فاطمہ بھٹو سیاسی طور پر تو غیر فعال ہیں مگر اب تک نو کتابیں لکھ چکی ہیں۔

ٹوئٹر پر اس معاملے میں کی گئی ٹویٹ میں فاطمہ بھٹو کا کہنا تھا کہ ’یہ کافی تکلیف دہ انکشاف ہے کہ حکومت سندھ نے پولیس ٹریننگ کالج سعید آباد کا نام شاہد حیات کے نام پر رکھ دیا ہے۔ ایک ایسے پولیس افسر جن پر میرے والد مرتضیٰ بھٹو کے قتل کا الزام ہے۔ میں نے اپنے والد کے قاتلوں کے ساتھ ان کی (پیپلزپارٹی) شمولیت کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ ایک یادگار باقی سب کو (اس بارے میں) یاد دلائے گی۔‘

انہوں نے اپنے والد کے قتل کی رات کو یاد کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’میرے والد جو ایک فعال ممبر پارلیمنٹ تھے، ان کو کئی بار چہرے اور گلے میں گولیاں ماری گئیں تھیں اور ایک گھنٹے سے زیادہ کے لیے سڑک پر طبی امداد کے بغیر خون بہنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔‘

'شاہد حیات اس رات پولیس فورس کا حصہ تھے۔ پولیس ٹریننگ کالج سعید آباد کا نام شاہد حیات کے نام پر رکھ کر کیا وہ (پیپلز پارٹی) یہ حربے پولیس افسران کی نئی نسل کو بھی سکھانے کا ارادہ کر رہی ہے؟'

اس حوالےسے سندھ پولیس کے ترجمان سہیل جوکھیو سے بات کی گئی تو انہوں نے اس معاملے پر اپنی رائے دینے سے معذرت کر لی جب کہ پولیس اکیڈمی سعیدآباد کے پرنسپل ایس پی شوکت خطیان اس معاملے پر گفتگو کی تو انہوں نے بھی یہ کہہ کر اپنی رائے دینے سے انکار کر دیا کہ ’ہمیں اوپر سے آرڈرز آئے تھے اس لیے نام تبدیل کیا گیا ہے لیکن اس کی وجہ کیا ہے اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘

شوکت خطیان نے اس بارے میں مزید بتایا کہ انہیں پولیس اکیڈمی سعیدآباد کا نام تبدیل کرنے کی زبانی ہدایت تو کر دی گئی ہے تاہم تاحال انہیں کوئی تحریری نوٹس نہیں ملا ہے۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے ترجمان رشید چننا سے نے اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’وزیراعلیٰ ہاؤس سے اس حوالے سے کوئی ہدایت نامہ جاری نہیں ہوا ہے۔‘

اس حوالے سے فاطمہ بھٹو کے بھائی ذوالفقار علی بھٹو جونئیر جو کئی سالوں سے امریکہ میں مقیم ہیں نے فاطمہ بھٹو کے دعویٰ پر اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’پولیس تشدد اور بربریت صرف امریکہ میں ہی شروع اور ختم نہیں ہوتی ہے۔ ہم ان بہت سارے لوگوں میں شامل ہیں جو انصاف کی فراہمی کا انتظار کرتے ہیں اور اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

’ہم ناصرف اپنے پیاروں کو کھو دینے پر غمگین ہیں بلکہ ایک ایسے سسٹم (میں رہنے) کے لیے بھی جہاں کا نظام ہم سے بہادر لوگوں کو چھین لیتا ہے۔‘

پولیس افسر شاہد حیات کون تھے؟

سابق سٹی پولیس چیف شاہد حیات کراچی آپریشن اور سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں ان کے بھائی مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے بعد برسوں تک کافی مقبول رہے۔

شاہد حیات کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے تھا۔ انہوں نے سول سروس کا امتحان (سی ایس ایس) 1988 پاس کرنے کے بعد خیبر پختونخوا میں سول جج کی حیثیت سے اپنی سرکاری ملازمت کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے 1991 میں باقاعدہ طور پر سول سروس میں شمولیت اختیار کی اور 1992 میں بطور اے ایس پی لاہور پولیس پولیس تعینات ہوئے۔ 1993 میں وہ امریکہ کے ایک مشن متخب ہونے کے بعد بیرون ملک منتقل ہوگئے تھے۔  

پاکستان لوٹنے کے بعد 1995 میں ان کا تبادلہ سندھ میں ہوا۔ اُن دنوں انہیں کراچی کے خطرناک ترین علاقے پاک کالونی میں سب ڈویژنل پولیس آفیسر کی حیثیت سے تعینات کیا گیا۔ یہ کراچی کی تاریخ کا سیاہ اور بدترین دور تھا جب ہزاروں لوگ قتل اور زخمی ہوئے۔ اُس وقت متحدہ قومی موومنٹ کی ’غیر قانونی اور غیر معاشرتی‘ کارروائیوں کے خلاف آپریشن کلین اپ جاری تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس دوران دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان پر حملہ ہوا، جس میں گولی اُن کے چہرے پر لگی اور ایک ماہ تک وہ ہسپتال میں زیر علاج رہے۔ صحت یاب ہونے کے بعد انہیں واپس پاک کالونی میں تعینات کر دیا گیا۔

اپنے کریئر کے آغاز میں ہی شاہد حیات کافی وقت تک دیگر پولیس افسران کے ساتھ 1996 میں ہونے والے مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں الجھے رہے جس کے بعد انہیں اس کیس میں کلیئر کردیا گیا۔

20 ستمبر 1996 کو شام چھ بج کر پانچ منٹ پر مرتظی بھٹو اپنی رہائش گاہ کے قریب پارٹی کے چھ دیگر کارکنان سمیت پولیس کارروائی میں ہلاک ہوئے تھے۔ اس کارروائی میں کچھ پولیس افسران بھی زخمی ہوئے تھے جن میں شاہد حیات خان شامل تھے۔

13 سال کے طویل عرصے تک اس کیس کا ٹرائل چلا جس دوران کئی ججز تبدیل ہوئے۔ تین دسمبر 2009 کو کراچی کی سیشن عدالت نے مرتضیٰ بھٹو کیس میں پولیس ٹیم پر حملا کرنے والے بیس پولیس اہلکاروں کوقتل سے بری کردیا تھا جب کہ عدالت نے اسی کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے  چھ کارکنوں کو بھی معاف کردیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان