شوگر ملز انکوائری رپورٹ سے جان نہیں چھڑوا سکتیں: چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے شوگر کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی روکنے کے فیصلے کے خلاف وفاق کی درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ 'اگر کمیشن کو غیرقانونی قرار دے بھی دیا جائے تب بھی رپورٹ کالعدم نہیں ہوگی۔'

سپریم کورٹ نے شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وکلا سے 14 جولائی کو تحریری دلائل طلب کر لیے۔ (فائل تصویر: اے ایف پی)

شوگر کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی روکنے کے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ شوگر ملز ایسوسی ایشن انکوائری رپورٹ سے جان نہیں چھڑوا سکتی، کیونکہ اگر کمیشن کو غیرقانونی قرار دے بھی دیا جائے تب بھی رپورٹ کالعدم نہیں ہوگی۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جمعرات کو مذکورہ معاملے پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ کمیشن رپورٹ میں شوگر ملز پر بہت سے الزامات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز کو فعال کر دیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'کچھ شوگر ملز مالکان خیبرپختونخوا اور کچھ بلوچستان ہائی کورٹ چلے گئے ہیں، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ رپورٹ پر اتھارٹیز کاروائی کریں۔'

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ پر ملز مالکان کی تشویش کیا ہے؟

جس پر ایسوسی ایشن کے وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ کمیشن کی رپورٹ میں محض سفارشات دی گئی ہیں۔ کسی رپورٹ میں متاثر کن فائنڈنگ آئے تو دعویٰ دائر کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کل شوگر مل ایسوسی ایشن نے ذاتی حیثیت میں اسلام آباد ہائی کورٹ سےرجوع کیا ہے۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ 'بظاہر کمیشن نے فیکٹ فائنڈنگ کی ہے۔ ریاستی ادارے اگر شوکاز نوٹس جاری کرتے ہیں تو اپنا موقف وہاں پیش کریں۔ کابینہ نے رپورٹ متعلقہ اداروں کوبھجوا دی ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ رپورٹ کو کالعدم قرار دیا جائے تاکہ متعلقہ ادارے پھر صفر  سے کام شروع کریں۔اس طرح تو معاملے پر دس سال لگ جائیں گے۔'

اٹارنی جنرل نے دلائل دیے کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ میں سیاسی اتحادیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا: 'میں تسلیم کرتا ہوں کہ کسی کا میڈیا ٹرائل نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت کو کہہ دیا ہے کہ کسی ادارے کو معاملے پر ہدایات نہ دیں۔ حکومت کو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ رپورٹ پر اداروں کو آزادانہ کام کرنے دیا جائے۔'

اٹارنی جنرل انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی کابینہ نے ان کی سفارش پر اداروں کو دی گئی ہدایات واپس لے لی ہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ صورت حال حکومت نے خود پیدا کی ہے۔ حکومت تحقیقات کروا کر مقدمات بنوا دیتی۔'

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ رپورٹ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ملی بھگت کیسے ہوئی ہے۔ 11 سال سے مسابقتی کمیشن کا حکم امتناع چل رہا ہے۔

اس موقع  پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ شاید ایف بی آر سمیت کئی اداروں میں اہلیت کا فقدان ہے۔کمیشن ممبران کے نام سب کے سامنے تھے، ان کو کسی نے چیلنج نہیں کیا۔ کمیشن کی تشکیل غیر قانونی تھی تو وہ پہلے چیلنج کیوں نہیں کی۔ کمیشن کے ارکان شوگر ملز کے خلاف کیوں جانبدار ہوں گے؟ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے، جس سے لوگ متاثر ہوئے ہیں۔'

شوگر ملز کے وکیل مخدوم علی خان نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 'حکومت کہتی ہے کہ عوام پر ایک طبقے کا قبضہ ہوگیا ہے۔ حکومت اگر ریاستی اداروں کی مدد سے اس چیز کو نہیں روک سکتی تو پھر یہاں کیوں بیٹھے ہیں۔'

انہوں نے مزید کہا کہ 'کمیشن کے قیام کا گزٹ نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا تھا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چینی عوامی نوعیت کا مسئلہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے استفسار کیا کہ 'کیا شوگر کمیشن رپورٹ شائع ہو چکی ہے اور بطور ثبوت استعمال ہو سکتی ہے؟'

جس پر  شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وکیل نے جواب دیا کہ کمیشن ارکان پر جرح کے بغیر رپورٹ بطور ثبوت استعمال نہیں ہوسکتی۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ 'ریگولیٹری ادارے کمیشن رپورٹ کا حوالہ دیے بغیر بھی کاروائی کرسکتے ہیں۔ شوگر ملز کے پاس ریگولیٹری اداروں میں اپنا دفاع کرنے کا پورا موقع موجود ہے۔'

جبکہ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ کی حیثیت صرف فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کی ہے، ہو سکتا ہے کہ گزٹ نوٹیفیکیشن کسی دراز میں موجود ہو۔'

جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 'گزٹ نوٹیفیکیشن اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ کوئی چیز خفیہ نہیں ہے۔'

شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کرچکے ہیں۔

جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ انٹرا کورٹ اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنے دیں۔

سماعت کے بعد عدالت نے مقدمہ تین رکنی بینچ کے سامنے مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وفاق کی اپیل پر مزید سماعت 14 جولائی تک ملتوی کر دی اور شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وکلا سے تحریری دلائل طلب کر لیے۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے شوگر کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد روکنے کے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔

جبکہ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ میں شامل سندھ کی 20 شوگر ملوں کے خلاف 30 جون تک کارروائی سے روک دیا تھا۔

میرپور خاص شوگر ملز اور صوبے کی دیگر 19 ملوں کی جانب سے چینی کی ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں اضافے کےخلاف مرتب کی گئی انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا اور رپورٹ کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی گئی تھی۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ چینی کی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پر حکم امتنازع جاری کرچکی تھی۔ تاہم 20 جون کو اپنے فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم امتناع میں شوگر کمیشن کو قانونی اور اس کے اقدامات اور رپورٹ کی توثیق کردی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان