ایران،عراق اور شام: ’زائرین بھی حاجیوں کی طرح سفر کریں گے‘

تحریک انصاف حکومت نے ایران، عراق اور شام کے مقدس مقامات کی زیارات کے لیے جانے والے زائرین کے دوروں کو حکومتی نگرانی میں لینے کی غرض سے ایک پالیسی تیار کی ہے۔

پاکستان سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں زائرین مقدس مقامات کی زیارت کے لیے ایران، عراق اور شام کا سفر کرتے ہیں (اے ایف پی)

کچھ عرصہ قبل پاکستان سے تعلق رکھنے والے زائرین کے ایک قافلے پر شام کے شہر حلب میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پشاور سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون گولی لگنے سے ہلاک ہو گئیں۔

ہلاک ہونے والی خاتون کے ایک رشتہ دار محمد مہدی (فرضی نام) نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’لعش پاکستان تک لانے میں ہمیں بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔‘

اسی طرح اسلام آباد کی رہائشی مسز شاہین نے زیارات کی غرض سے اپنے ایران کے سفر کی روداد سناتے ہوئے کہا کہ زبان نہ جاننے کی وجہ سے انہیں کافی مسائل کا سامنا رہا۔

پاکستان سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں زائرین مقدس مقامات کی زیارت کے لیے ایران، عراق اور شام کا سفر کرتے ہیں۔

یہ زائرین ذاتی طور پر یا نجی ٹریول ایجنٹس اور ٹوور گائیڈز کے ذریعہ اکیلے یا قافلوں کی صورت میں سفر کرتے ہیں۔

حکومتی نگرانی یا چیک نہ ہونے کی وجہ سے اکثر ان زائرین کو کئی ایک مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جو کسی ہنگامی صورت حال میں زیادہ ہو جاتی ہیں۔ 

تاہم اسی وجہ سے تحریک انصاف حکومت نے ایران، عراق اور شام کے مقدس مقامات کی زیارات کے لیے جانے والے زائرین کے دوروں کو حکومتی نگرانی میں لینے کی غرض سے ایک پالیسی تیار کی ہے۔

وفاقی وزارت مذہبی امور اور مذہبی ہم آہنگی کی تیار کردہ پالیسی میں مقدس مقامات کی زیارت کے لیے جانے والوں کے لیے کئی سہولیات بھی اسی پالیسی میں شامل ہیں۔

اس حکومتی پالیسی کو ’زائرین منیجمنٹ پالیسی‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس پالیسی کا بنیادی مقصد زیارات پر جانے والے پاکستانیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ جن میں ان کا تحفظ یقینی بنانا سر فہرست ہو گا۔‘

وفاقی وزیر نے بتایا کہ اب ایران،عراق اور شام جانے والے زائرین بھی حاجیوں کی طرح حکومتی نگرانی میں سفر کریں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’ہر سال لاکھوں زائرین مقدس مقامات کی زیارت کے لیے ان ممالک کا سفر کرتے ہیں اور وہ ایسا ذاتی طور پر یا نجی ٹوور آپریٹرز کے ذریعے کرتے ہیں، جس میں سکیورٹی کے علاوہ دوسرے کئی مسائل بھی موجود رہتے ہیں۔‘

نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کے اطلاق کے بعد یہ تمام دورے ایک طرح سے حکومتی نگرانی میں آ جائیں گے اور کسی بھی ایمرجنسی صورت حال کو حکومتی سطح پر دیکھا جائے گا۔

زائرین منیجمنٹ پالیسی میں کیا ہے؟

دس فروری کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ ایران، عراق اور شام جانے والے پاکستانی زائرین کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے حج پالیسی کی طرز پر پالیسی تیار کی جائے۔

وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کی سربراہی میں پانچ رکنی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کو پالیسی کی تیاری کا کام سونپا گیا تھا۔

کمیٹی کے دوسرے اراکین میں وفاقی وزرا اسد عمر، شیریں مزاری اور علی زیدی اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی ندیم افضل چن شامل تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نور الحق قادری نے اندڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بدھ کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں زائرین منیجمنٹ پالیسی کے مسودہ کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں اسد عمر کی جگہ وزیر اعظم معاون خصوصی عاصم باجوہ کو شامل کر لیا گیا ہے۔

دس صفحات پر مشتمل زائرین منیجمنٹ پالیسی کےچند نکات:

  • عراق کے شہر کربلا میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) زائرین تعینات کیا جائے گا۔
  •  ایران کے شہر مشہد اور کوئٹہ میں زائرین ڈائریکٹریٹ قائم کیے جائیں گے۔
  •  پاکستان اور ایران کے درمیان تفتان بارڈر کے علاوہ عراق کے شہروں نجف اور کربلا میں پاکستان ہاؤس قائم کیے جائیں گے۔
  •  زائرین کے دوروں کی دیکھ بھال اور اس سلسلہ میں دوسرے انتظامات کی نگرانی کے لیے بلوچستان منیجمنٹ کمیٹی قائم کی جائے گی۔ جو اراکین پارلیمنٹ کے علاوہ شیعہ علما پر مشتمل ہو گی۔
  •  نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اور نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی)  بلوچستان میں باداک اور نوکنڈی کے مقامات پر زائرین کی سہولت کے لیے سروس سنٹرز قائم کریں گے۔
  •  پاکستان کے تمام ایئر پورٹس سے ایران، عراق اور شام کے لیے فلائٹس شروع کی جائیں گی۔ پی آئی اے کے علاوہ ایرانی ائر لائنز کو بھی پروازیں شروع کروانے کی کوششیں کی جائیں گی۔
  •  وزارت مذہنی امور کے رجسٹرڈ ٹوور آپریٹرز ہی زائرین کو لے جا سکیں گے۔ وزارت مذہبی امور اہلیت کے مطابق ٹوور آپریٹرز کی رجسٹریشن کرے گی۔
  •  صوبہ سندھ میں واقع ایرانی بارڈرز گبڈ کراسنگ پوائنٹ اور منڈ ریڈنگ بھی زائرین کے لیے کھولے جائیں گے۔
  •  زائرین کے لیے خصوصی فیری سروس بھی شروع کی جائے گی اور اس مقصد کے لیے گوادر میں امیگریشن پوائنٹ قائم کیا جائے گا۔
  •  زائرین محافظ فنڈ قائم کیا جائے گا۔ جس کے لیے پانچ سو روپے فی زائر وصول کیے جائیں گے۔ فنڈ کا مقصد زائرین کو موت یا کسی دوسری ایمرجنسی کی صورت میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
  •  دوران سفر کسی زائر کی موت کی صورت میں لواحقین کو ہانچ لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے جبکہ جزوی اور مکمل معذوری کی صورت میں ڈیڑھ اور ڈھائی لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔
  •  سفر پر روانگی سے قبل زائرین کو شناختی لاکٹ یا بریسلٹ جاری کیے جائیں گے۔
  •  دوران سفر ہر زائر کی سہولت کے لیے ویلفئیر سٹاف بھی مہیا کیا جائے گا۔ ہر سو زائرین کے لیے ایک سٹاف کا رکن تعینات ہو گا۔
  •  زائرین منیجمنٹ پالیسی پرعمل درآمد کو یقینی اور سہل بنانے کے لیے بلوچستان حکومت کو خصوصی فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔
  •  پالیسی میں درج کئی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے ایران، عراق اور شام کی حکومتوں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) کے ذریعہ معاہدے کیے جائیں گے۔ 

پالیسی پر ردعمل

شیعہ عالم دین علامہ شہنشاہ نقوی نے زائرین منیجمنٹ پالیسی کی تیاری کو تحریک انصاف حکومت کی جانب سے اچھا قدم قرار دیا ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ زیارات کے سفر کو عبادت قرار دیا جا رہا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ پالیسی پر عمل درآمد ہونے پر زائرین کو بہتر سہولتیں میسر ہوں گی اور زائرین سے صرف مالی مفاد حاصل کرنے والے قافلہ سالار کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان (ٹی اے اے پی) کے سینئیر نائب صدر حسن مسعود مرزا نے زائرین منیجمنٹ پالیسی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے غیر پیشہ ورانہ ٹوور آپریٹرز اور ٹریول ایجنٹس کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے اطلاق سے زائرین کو بھی زیادہ سہولتیں میسر ہو گی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ پالیسی بنانے کے لیے ٹریول ایجنٹس سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا، جو اگر کر لیا جاتا تو پالیسی میں مزید بہتری لائی جا سکتی تھی۔

اسلام آباد میں کاروبار کرنے والے ٹریول ایجنٹ وحید بٹ نے کہا کہ پالیسی میں زائرئن کے اندرون پاکستان سفر سے متعلق کوئی ذکر نہیں ہے۔ جو بہت ضروری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان