اسلام آباد میں مندر، ایک سوڈانی مسلمان کے سوالات

چین میں زیرِ تعلیم ایک سوڈانی مسلمان نے جب سنا کہ اسلام آباد میں مندر بن رہا ہے تو اس کے ذہن میں کیا آیا؟

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر  کا معاملہ کئی دنوں سے سرخیوں میں ہے (تصویر: ایم این اے لال چندر مالھی)

انور ہاسٹل میں میرا ہمسایہ ہے۔ ہم اکثر شام میں اکٹھے بیٹھتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں۔ وہ مجھے سوڈان کی کہانیاں سناتا ہے اور میں اسے پاکستان کے بارے میں بتاتی ہوں۔

ایسی ہی ایک شام جب ہم ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے، میں نے اسے بتایا کہ ’پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں حکومت کی معاونت سے ہندوؤں کا ایک مندر تعمیر ہونے والا تھا لیکن اب اس کی تعمیر روک دی گئی ہے۔‘

انور نے وجہ پوچھی تو میں نے اسے بتایا کہ ’ایک تو اس کا بلڈنگ پلان منظور نہیں تھا، دوم علما نے اس مندر کی تعمیر پر اعتراض کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت کسی نئی عبادت گاہ کی تعمیر کے لیے پیسے نہیں دے سکتی البتہ پہلے سے قائم عبادت گاہوں کی دیکھ بھال ، مرمت اور تزئین و آرائش کے لیے مدد کر سکتی ہے۔‘

انور نے پوچھا: ’حکومت یہ کام نہیں کرے گی تو کون کرے گا؟‘

میں اس کی شکل دیکھنے لگی۔ شاید میں بتانا بھول گئی، انور بھی میری طرح مسلمان ہے۔ ایک مسلمان کے منہ سے ایسے سوال سننا کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔ اسے تو پوچھنا چاہیے تھا کہ ایک اسلامی ملک کے دارالحکومت میں مندر بنانے کا سوچا ہی کیوں گیا پر وہ تو یہاں عجیب و غریب سوال پوچھ رہا تھا۔

میں نے اسے بتایا کہ ’پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا ہے، اس کے دارالحکومت میں مندر کیسے بن سکتا ہے اور وہ بھی حکومت کے خرچ سے؟‘

اس نے پوچھا: ’اسلام آباد میں کتنے ہندو رہتے ہیں؟‘

میں نے کہا: ’تقریباً تین ہزار۔‘

اس نے پوچھا: ’ان کے لیے وہاں کتنے مندر موجود ہیں؟‘

میں نے کہا: ’ایک بھی نہیں لیکن وہ اپنے اپنے گھروں میں اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کے لیے آزاد ہیں (اور محفوظ بھی)۔‘

انور نے کہا: ’ہاں وہ تو ان کا حق ہے لیکن اگر وہ مندر جا کر عبادت کرنا چاہیں تو اس کا حق بھی انہیں حاصل ہونا چاہیے۔‘

میں نے کہا: ’ہاں بالکل ہونا چاہیے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ فوراً بولا: ’لیکن ان کے لیے تو وہاں مندر ہی موجود نہیں، وہ کہاں جائیں گے؟‘

سوال تو واقعی غور طلب تھا، پر سانوں کی۔ ہمارے لیے تو ہر گلی میں مسجد موجود ہے۔ جہاں نہیں ہے وہاں کسی بھی خالی پلاٹ پر تعمیر کا کام شروع کیا جا سکتا ہے۔ خیر یہ بھی مردوں کی ٹینشن ہے، ہم عورتوں کے لیے تو گھر میں عبادت کرنا ہی افضل ہے۔

میں مندر سے نکل کر مسجد میں داخل ہو چکی تھی لیکن انور ابھی تک مندر کی چوکھٹ پکڑے بیٹھا تھا۔ پوچھنے لگا: ’کیا پاکستان کے ہندو حکومت کو ٹیکس نہیں دیتے؟‘

میں نے کہا: ’بالکل دیتے ہیں۔ اس معاملے میں وہ بھی ہمارے جیسے ہیں۔ سانس بھی لیں تو ٹیکس دینا پڑتا ہے۔‘

انور بولا: ’پاکستان میں رہنے والے ہندو ٹیکس بھی دیتے ہیں اور پاکستان کے قوانین کا احترام بھی کرتے ہیں، اس کے باوجود حکومت انہیں ایک مندر تک بنا کر نہیں دے سکتی؟‘

میں نے کہا: ’کیونکہ وہ ہندو ہیں۔‘

یہ سنتے ہی انور ہنس پڑا۔ اس کی ہنسی رکی تو بولا: ’یہاں بات مذہب کی نہیں قومیت کی ہے۔ ان کا مذہب جو بھی ہو، وہ پاکستانی ہیں۔ ان کا بھی پاکستان پر اتنا ہی حق ہے جتنا تمہارا۔ اگر تم حکومت سے بطور مسلمان مدد مانگ سکتی ہو تو وہ کیوں نہیں مانگ سکتے۔‘

اب معاملہ میری سمجھ سے اوپر جا چکا تھا۔ شاید میری جگہ کوئی عالمِ دین ہوتا تو اسے بہتر طور پر اس مندر کی تعمیر سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں بتا پاتا۔ میں ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ ایک کرسی کی پشت پر جائے نماز رکھی ہوئی نظر آئی اور پاس ہی ایک میز پر رکھا قرآن بھی نظر آیا، یعنی وہ باقاعدگی سے نماز بھی پڑھتا ہے اور قرآن بھی لیکن اپنی باتوں سے تو مسلمان نہیں لگ رہا تھا۔

اب یہی بات سن لیں۔ کہتا ہے مذاہب انسانوں کے لیے ہوتے ہیں، ریاستوں کے لیے نہیں۔ ریاست کا کام ہے کہ وہ اپنی حدود میں رہنے والے ہر انسان کو برابر کے حقوق فراہم کرے، اب چاہے کوئی مسلمان ہو، ہندو ہو، عیسائی ہو، پارسی ہو یا کسی اور مذہب کا ماننے والا۔ ریاست کا اس کے مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں۔

اب میری بس ہو چکی تھی۔ میں نے اس سے اجازت لی اور اس کے کمرے سے نکل آئی۔ وہ میرے پیچھے دروازے تک آیا۔ کہنے لگا: ’تم لوگوں کا مسئلہ مذہب نہیں بلکہ احساسِ برتری ہے۔ تم لوگ خود کو مسلمان ہونے کی وجہ سے دوسروں سے برتر سمجھتے ہو حالانکہ تمہارے مسلمان ہونے میں تمہارا کوئی اختیار نہیں۔ اللہ کے فضل سے تم لوگ مسلمان گھرانوں میں پیدا ہو گئے، بس اسی لیے مسلمان ہو۔ تم لوگ اپنے ملک میں رہنے والی مذہبی اقلیتوں کو خود سے کمتر سمجھتے ہو۔ تم لوگ اپنے لیے تو حقوق چاہتے ہو لیکن انہیں کوئی حق نہیں دینا چاہتے۔ کسی بھی مسلمان کا دل اتنا تنگ نہیں ہو سکتا۔‘

وہ غالباً کچھ اور بھی کہنا چاہ رہا تھا پر یقین مانیں میری بس ہو چکی تھی۔ میں نے اسے خدا حافظ کہا اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ