قبائلی خواتین کے حق میں ایک مرد کا مقدمہ

یہ بلاگ قبائلی خواتین کے سلگتے مسائل، ان کی وجوہات، رکاوٹوں اور ممکنہ حل کے بارے میں ایک قبائلی مرد کا نقطۂ نظر ہے۔

قبائلی خواتین میں تعلیم کی کمی کی وجہ سے اکثر کو مرد ڈاکٹروں سے علاج کروانا پڑتا ہے (اے ایف پی)

جس شدت سے قبائلی عوام ریاست سے اپنے آئینی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں وہ بلاشبہ ان کا حق ہے۔ اسی شدت سے میں تمام قبائلی مرد حضرات سے خواتین کے جائز حقوق کا مطالبہ کرتا ہوں۔ انہیں احساس دلانا چاہتا ہوں کہ دوسرے علاقوں کی نسبت قبائلی خواتین کی زندگی تقریباً ہر لحاظ سے قابل رحم ہے۔

قبائل کی تاریخ مردانگی، جنگ و جدل، بہادری اور پدر شاہی معاشرے پر مبنی ایک سلسلہ ہے جہاں قبائلی روایات کی پاسداری ایمان کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر ہم چنیدہ قبائلی روایات پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ قبائلی کلچر میں آج تک عصری تعلیم کا حصول غیرضروری سمجھا جاتا ہے۔ یہاں برداشت اور معافی کو ڈرپوک ہونے سے تشبیح دی جاتی ہے اور انتقام غیرت کی نشانی۔

انہی روایات کے نتیجے میں عورت اپنے ساتھ جڑے معاشرے کی ہر قسم کی حصہ داری سے مستثنیٰ قرار پاتی ہے۔ بہن پر بھائی کو ہر قسم کی فوقیت حاصل ہے اور جہاں عورت کوئی ایک قدم بھی مرد کی اجازت کے بغیر نہیں اٹھا سکتی۔ غرض یہاں عورت کے بارے میں بات کرنا ایک مضبوط ٹیبو کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے اس بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ عورت کے حقوق کی بات کرنا، بےراہ روی، بے پردگی یا حقوق نسواں کے نعرے کا استعمال کر کے کسی ایجنڈے کا اس بلاگ سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ایک درد دل رکھنے والے قبائلی کی طرف سے اپنی بہن، بیٹیوں کے ان کے جائز حقوق کا مقدمہ ہے۔

قبائلی مردوں کی عورت بیزار سوچ میں زیادہ کردار یہاں کے نیم مذہبی ملاؤں کا بھی رہا ہے جنہوں نے ہر اس آیت و حدیث کی من چاہی تشریحات کی وجہ سے قبائلی ذہنیت کو انتہا پسند اور زن بیزار بنانے میں مدد دی۔ انہوں نے وہ تمام احادیث و آیات چھپائیں جن سے برداشت، سماجی ترقی اور معاشرے میں عورت کا مثبت کردار نمایاں ہو۔

ستم ظریفی یہ بھی ہوئی کہ قبائلی نوجوان نے خود مطالعے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی جس کا لازمی نتیجہ یہ رہا کہ دیگر مسائل کی طرح قبائلی عورت کے حقوق بھی مذہبی انتہا پسندی کے ہاتھ چڑھ گئے۔ یوں قبائلی عورتیں ان اسلامی اور جائز حقوق سے بھی محروم ہوئیں جو اسلام نے 1400 سال پہلے عطا کیے تھے۔ سابق فاٹا کی عورت ایک معذور ہستی کی طرح ہمیشہ مرد کی محتاج رہی ہے یہاں تک کہ وہ اپنے ذاتی مسائل بھی مرد کی اجازت کے بغیر حل کرنے سے قاصر ہے۔

تعلیم کا حصول ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ دراصل یہ ایک حدیث کا ترجمہ ہے مگر خیانت یہاں یہ کی گئی کہ اس حدیث کو جب بھی ہمارے نیم ملاؤں نے بیان کیا تو بجائے علم کے حصول کو ’اسلام کی تعلیم‘ کا خود ساختہ جامہ پہنا دیا۔ چونکہ ہم نے کبھی خود پڑھنے اور تحقیق کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اس لیے اندھی تقلید کی وجہ سے اسی مبالغہ آمیز تشریحات کو مانتے رہے۔

آج حالت یہ ہے کہ قبائلی خواتین میں بنیادی تعلیم (پرائمری) کا تناسب بھی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے البتہ یہ الگ بات ہے کہ جو لوگ فاٹا کی ثقافتی بندشوں کے حدود سے نکل کر اپنی بہن بیٹی پر تعلیم کے دروازے کھول دیتے ہیں وہ پھر بھی پشتون کلچر اور روایات کا خیال رکھتے ہیں مگر بدقسمتی سے ایسے لوگ دوبارہ قبائلی علاقوں کا رخ نہیں کرتے۔

خواتین کی تعلیم کے ساتھ بےشمار مسائل جڑے ہیں۔ یہاں نہ سکول کالج کی عمارتیں ہیں، نہ استانیاں اور باقی سہولیات موجود ہیں۔ استانیاں تو اس لیے بھی موجود نہیں کیونکہ ہم نے خود اپنی بچیوں کی تعلیم روایات و ثقافت کے لیے قربان کیں۔ نتیجہ یہ رہا کہ آج بھی قبائلی علاقوں کی خواتین مرد ڈاکٹروں کے ساتھ اپنے تمام طبی اور جنسی مسائل شیئر کرتی ہیں کیونکہ پورے علاقے میں ایک بھی ایم بی بی ایس خاتون ڈاکٹر موجود نہیں۔

جو غیرت ہم بیٹی کو تعلیم نہ دینے میں دکھاتے ہیں وہ غیرت تب کہاں چلی جاتی ہے جب ہماری خواتین ایک غیر محرم کے ساتھ ذاتی مسائل شریک کرتی ہیں جو وہ محض یا تو کسی عورت یا اپنے شوہر کے ساتھ شریک کر سکتی ہیں۔

دوسرا بڑا نقصان یہ ہوا کہ تعلیم یافتہ مائیں نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی تربیت کی شروعات اچھی نہیں ہوتی۔ علم نفسیات کے مطابق بچے کے سیکھنے کا سب سے اہم مرحلہ ماں کی گود ہوتا ہے لیکن قبائلی ماؤں کی حالت خود قابل رحم ہوتی ہے۔

شادی کے حوالے سے قبائلی لڑکیاں بے شمار مسائل کا شکار رہی ہیں۔ یہاں لڑکی کی شادی صرف والد یا گھر کے سربراہ کی مرضی سے ہوتی ہے۔ بیٹی خود کو ایک بھیڑ بکری کی طرح محسوس کرتی ہے۔ والد اس کی جہاں کہیں بھی بات طے کرے بیٹی کو ہر حالت میں سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے کیونکہ انکار کو روایات سے غداری قرار دیا جاتا ہے۔

لڑکی سے پہلے تو پوچھا نہیں جاتا اور اگر پوچھ بھی لیا جائے تو اس مرحلے پر جب بات اکثر طے ہو چکی ہوتی ہے۔ صرف ’ہاں‘ سننے کے لیے ہی پوچھا جاتا ہے۔ وٹہ سٹہ بھی عام تھا لیکن یہ رسم اب آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے۔ البتہ کم عمری کی شادیاں اب بھی کروائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے ڈپریشن، جنسی بیماریاں اور کمزور اولاد جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ میرے علم میں ایسے کئی واقعات ہیں جو قبائلی لڑکیوں کے ساتھ رونما ہوئے بالخصوص شادی کے حوالے سے۔

کچھ واقعات تحریر کرنا چاہتا ہوں جو مقامی خواتین نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتائے ہیں۔

ضلع خیبر میں ایک لڑکی نے پسند کی شادی کے بارے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو گھر میں ایک کہرام مچ گیا۔ لڑکی کے والد نے بہت برا منایا اور طرح طرح کی دھمکیاں دیں۔ ذہنی ٹارچر کیا لیکن بیٹی پھر بھی اپنے انتخاب پر ڈٹی رہی۔ لڑکا بھی مسلسل رشتہ بھیجتا رہا۔

اس دوران خاندان والوں کے مابین کئی جرگے ہوئے۔ بالآخر لڑکی کے والد نے اپنی بیٹی کوعاق کیا اور بنا کسی رسم اور شادی بیٹی کو لڑکے کے خاندان بھجوا دیا۔ لڑکے میں ایسی کوئی خرابی نہیں تھی جو انکار کا سبب بنتی مگر اصل مسئلہ بیٹی کی اپنی پسند کا اعتراف تھا جسے والد ہضم کرنے کے لیے ہرگز تیار نہ تھے۔

وزیرستان میں ایک لڑکی کی اس کے چچا زاد کے ساتھ زبردستی رشتہ طے کیا گیا۔ لڑکی نے شدید احتجاج کیا لیکن گھر والوں نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ شادی کے بعد سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر شادی کے بعد لڑکی کی زندگی مزید اجیرن ہوئی۔ قبائلی علاقوں میں شادی ایک ایسا عہد ہوتا ہے جسے کبھی نہیں تھوڑا جا سکتا۔ اس لیے لڑکی نے کئی بار خودکشی کی کوشش کی۔ خود کو بجلی کے کرنٹ سے مارنے کی کوشش کی مگر بچا لیا گیا۔

اس کے شوہر نے دوسری شادی کر کے اس کو مزید اذیت میں مبتلا کر دیا، نہ وہ طلاق دے رہے ہیں اور نہ وہ خاتون خلع لے سکتی ہے۔ قبائلی علاقوں میں خلع لینے کا رواج سرے سے موجود ہی نہیں۔ ان اذیت ناک حالات کی وجہ سے وہ لڑکی اب نیم پاگل ہو چکی ہے۔

اسی طرح ضلع کرم میں ایک جوان عورت کا شوہر انتقال کر گیا۔ کچھ عرصے بعد اس کی بہنوں کی توسط سے اس کے میکے رشتہ آیا۔ ان لوگوں نے بیوہ عورت کی رضامندی معلوم کی تو وہ اپنی خوشی سے دوسری شادی کے لیے راضی ہوئی مگر اس کے میکے والوں نے یہ اپنی بےعزتی قرار دے کر اس رشتے کا سختی سے انکار کیا۔ اب وہ جوان عورت جس کے ابھی بچے بھی نہ ہوئے تھے اس کو کیا دوسری شادی کا حق نہیں؟

خواتین کے مسائل میں ایک سلگتا ہوا مسئلہ وراثت کا بھی ہے جس پر شاید ہی کوئی بات کرتا ہو۔ اسلام نے وراثت میں عورت کو مرد کا آدھا حصہ اس کا حق قرار دیا ہے مگر یہاں ایسا کوئی حق نہیں مانا جاتا۔

اس حوالے سے وزیرستان کی ایک خاتون سماجی کارکن نے بتایا کہ خواتین کو تمام قبائلی اضلاع میں وراثت و جائیداد میں حصہ دار نہیں مانا جاتا۔ اس کی وجہ یہاں کی ایک قدیم روایت ہے اس کے تحت جائیداد میں باہر کا قبیلہ حصہ دار نہیں بن سکتا اور چونکہ عورت کی شادی کہیں اور کسی بھی قبیلے میں ممکن ہے اس لیے جائیداد میں حصہ دینا قبائلی روایات کے خلاف ہے۔

اگر کوئی عورت شادی کے بعد اس کا مطالبہ کرے تو  اسے برا بھلا کہا جاتا ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ اگر اسلام کے اس جائز حکم کو اس انداز میں نہیں مانا جا سکتا تو کم از کم اپنی بہن بیٹی کے اس حصے جتنے پیسے یا کوئی اور نعم البدل پیش کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فاٹا کی خواتین کے لیے تفریح کا بھی کوئی ذریعہ موجود نہیںے۔ کوئی فیملی پارک ہے نہ ہی کوئی کمیونٹی اور ری ہیبلیٹیشن سینٹر، جہاں خواتین آپس میں سماجی روابط بڑھا کر کوئی مہارت سیکھ سکیں یا کسی ذاتی مسئلے کے سلسلے میں ایک تعلیم یافتہ اور سوشل خاتون سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔  

خواتین کا قبائلی اضلاع میں سماجی حوالے سے بھی کردار صفر ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بھی تعلیم و شعور کی عدم فراہمی اور سماجی و ثقافتی بندشیں ہیں۔ یہاں عورت کھیتوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام تو کر سکتی ہے مگر بدقسمتی سے معاشرے کی بہتری یا کم از کم اپنی برادری کی بھلائی کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی۔

اس حوالے سے سماجی تنظیموں کو خواتین کے قانونی اور مذہبی حقوق کو اجاگر کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ قبائلی خواتین کے لیے پشتون روایات کے اندر رہ کر ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

آخر میں اپنے تمام قبائلی دوستوں بھائیوں اور بزرگوں سے درد مندانہ گزارش کرنا چاہوں گا کہ عورت کو ثقافتی بندشوں کی نذر نہ کریں۔ ان کو وہ تمام حقوق بلاجھجک دیں جو ہمارے دین اسلام نے دیے اور جو ہمارے اسلامی معاشروں کی پہچان رہے ہیں۔ میں گزارش کرتا ہوں کہ عورت ایک ٹیبو کے طور پر نہ لی جائے بلکہ اسے معاشرے کے ایک مکمل اور حقوق کے لحاظ سے برابر انسان کے طور پر لیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ