مفتی منیب اپنے فتوے کی وضاحت کے لیے تیار نہیں

مفتی منیب الرحمٰن نے عید قرباں کے لیے جانوروں کی آن لائن خریداری کی مخالفت کی ہے لیکن جب انڈپینڈنٹ اردو نے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر فون بند کردیا کہ وہ اس فتوے پر مزید بات نہیں کرسکتے۔

کرونا وبا کے باعث پاکستان میں رواں سال قربانی کے جانوروں کی آن لائن خریداری کا رجحان بڑھ رہا ہے (اے ایف پی)

چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمٰن نے تین جولائی کو لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران قربانی کے جانوروں کی آن لائن خریداری کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے فتویٰ جاری کیا تھا کہ آن لائن خریدے ہوئے جانور کی قربانی نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ لوگ قربانی کے جانور آن لائن خریدنے سے گریز کریں کیونکہ یہ درست طریقہ نہیں۔ ان کے مطابق آن لائن خریدے گئے جانور کو پرکھا نہیں جاسکتا کہ اس میں کوئی نقص تو نہیں۔

مفتی منیب الرحمٰن کے مطابق: ' لوگ خود منڈی جا کر دیکھ بھال کر جانور خریدیں اور حکومت کو  چاہیے کہ منڈیاں شہروں سے باہر لگائی جائیں اور وہاں کرونا وائرس کے حوالے سے ایس او پیز کا خاطر خواہ خیال رکھا جائے۔'

مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اس عید الاضحی پر اجتماعی قربانی کی طرف جانا چاہیے،' اس طرح ہمیں کرونا وائرس کا پھیلاﺅ روکنے میں مدد ملے گی۔'

مفتی منیب الرحمٰن کے اس بیان کے بعد ان پر سوشل میڈیا پر تنقید کی جارہی تھی۔ اس حوالے انڈپینڈنٹ اردو  نے جمعے کو مفتی منیب الرحمٰن سے رابطہ کرکے اس فتوے کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کی تو انھوں نے یہ کہہ کر فون بند کردیا  کہ وہ معذرت خواہ ہیں کہ اس فتوے یا اس موضوع پر مزید بات نہیں کرسکتے۔

 اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے انڈپینڈنٹ اردو سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آن لائن قربانی کا جانور خرید کر قربانی کرنا بھی ایک صورت ہوسکتی ہے مگر اس کے لیے ضروری ہے  کہ خریدار کو پختہ یقین ہو کہ وہ جن سے قربانی کا جانور خرید رہے ہیں وہ قابل اعتماد ہیں اور جو جانور ان کو دے رہے ہیں وہ جانور بے عیب ہو۔' قربانی کے لیے جانور میں جو خصوصیتیں چاہیں وہ اگر ہیں تو آن لائن خریدے ہوئے جانور کی قربانی میں کوئی قباحت نہیں۔'

وفاقی وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز کی کرونا وائرس سے متعلق عوام الناس کو معلومات دینے کے لیے بنائی گئی سرکاری ویب سائٹ پر واضح طور پر مقامی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چھوٹے بڑے شہروں میں آن لائن جانوروں کی خریداری، ای فروخت اور آن لائن قربانی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی حوصلہ افزائی کرے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واضح رہے کہ گذشتہ چند سالوں سے پاکستان میں ای کامرس کا رجحان عام ہوتا جارہا ہے ،جس کے بعد عام اشیا کے علاوہ ہر سال عید الاضحی سے پہلے قربانی کے جانوروں کی آن لائن خریداری بھی رواج پا رہی ہے۔

اس سال کرونا  وائرس کی وبا کےبعد سماجی دوری کو یقینی بنانے کے لیے لاہورسمیت متعدد میٹروپولیٹین شہروں میں قربانی کے جانوروں کی منڈیاں لگانے کی اجازت نہیں  جس کی وجہ سے قربانی کے جانوروں کی آن لائن خریداری میں کئی گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

کئی رفاعی، سماجی اور کاروباری ادارے  شہریوں کوآن لائن قربانی میں شرکت کی دعوت دے رہے ہیں۔ اس آن لائن خریداری کے ٹرینڈ کے بعد انٹرنیٹ کے ذریعے قربانی کے جانوروں کی فروخت اور آن لائن قربانی کو آسان کردیا ہے۔ رواں سال پاکستان میں آن لائن مویشی منڈیوں کی مقبولیت میں کئی گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک آزاد اندازے کے مطابق  رواں سال اب تک  عید الاضحی کے لیے  خریدے گئے کُل جانوروں میں سے 30 فیصد جانور آن لائن خریدے گئے ہیں۔دوسری جانب اس تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کے بعد آن لائن  جانوروں کی قیمتوں میں بھی کئی گُنا اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں ایک بڑے چین سٹور نے آن لائن قربانی کی مانگ کی وجہ سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں عید سے 20 روز پہلے مزید آڈر لینا بند کر دیے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان