امریکہ میں پڑھنے والے پاکستانی طلبہ کے سر پر لٹکتی تلوار ہٹ گئی

امریکی حکومت نے ایسے غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے جن کے کورس کرونا وبا کی وجہ آن لائن منتقل ہو گئے تھے۔

انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کے مطابق 19-2018 کے تعلیمی سال میں 10 لاکھ سے زیادہ طلبہ امریکہ میں زیر تعلیم ہیں (پکسا بے)

امریکہ میں ایک وفاقی جج نے منگل کو کہا کہ امریکی حکومت نے ایسے غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے جن کے کورس کرونا وبا کی وجہ آن لائن منتقل ہو گئے تھے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جج ایلسن بروز نے مختصر سماعت میں کہا  کہ حکومت' اس فیصلے اورکسی حکم کا نفاذ منسوخ کرنے پر تیار ہو گئی ہے۔'

نامور اور تاریخی  ہارورڈ اور ایم آئی ٹی  یونیورسٹیوں نے متعدد تعلیمی اداروں کے تعاون سے غیر ملکی طلبہ کے خلاف امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ  (آئی سی ای)کے چھ جولائی کے اس متنازع  اعلان پر قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔

ہارورڈ اور ایم آئی ٹی نے عدالت سے درخواست کی تھی وہ آئی سی ای کے اس حکم پر عمل درآمد روک دے جس کے تحت کلاسوں کی آن لائن یا انفرادی طور  پر ٹیوشن کی سہولت فراہم کرنے والے سکول کو منتقلی کی صورت میں غیرملکی طلبہ کو امریکہ سے لازمی طور پرواپس جاناتھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس اقدام کوامریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ان تعلیمی اداروں پر دباؤ ڈالنےکی کارروائی کے طورپر دیکھا گیا جو کووڈ 19 کی عالمی وبا کے پیش نظرتدریسی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے میں احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔

امریکی یونیورسٹیوں نے اپنے مقدمے میں کہا کہ غیرملکی طلبہ کو واپس بھیجنے سے وہ ذاتی اور مالی اعتبارسے بری طرح متاثرہوں گے۔ انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کے مطابق 19-2018 کے تعلیمی سال میں 10 لاکھ سے زیادہ طلبہ امریکہ میں زیر تعلیم ہیں۔

پاکستانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس وقت آٹھ ہزار کے قریب پاکستانی طلبہ بھی امریکہ میں پڑھ رہے ہیں۔ امریکی حکومت کی جانب سے طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے سے ان کا مستقبل داؤ پر لگ گیا تھا جس کی وجہ سے وہ شدید پریشانی میں مبتلا تھے۔ تاہم امریکی حکومت کے نئے فیصلے  سے انہیں ریلیف ملے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل