انڈیا: نچلی ذات کے طلبہ سے ٹوائلٹ صاف کرانے پر مقدمہ

تمل ناڈو میں پولیس حکام ایک سکول کی پرنسپل سمیت ان اہلکاروں کو تلاش کر رہے ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر دلت برادری کے چھ بچوں کو سکول کے بیت الخلا صاف کرنے پر مجبور کیا۔

چار اکتوبر، 2020 کو نئی دہلی میں ایک 19 سالہ لڑکی کے مبینہ گینگ ریپ اور قتل کے خلاف احتجاج میں مظاہرین ’دلت زندگیاں معنیٰ رکھتی ہیں‘ کا پلے کارڈ اٹھائے ہوئے ہیں (اے ایف پی)

جنوبی انڈیا کی ریاست تمل ناڈو میں پولیس حکام ایک سکول کے پرنسپل سمیت ان اہلکاروں کو تلاش کر رہے ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر پسماندہ برادری سے تعلق رکھنے چھ بچوں کو سکول کے بیت الخلا صاف کرنے پر مجبور کیا جس کی وجہ سے ان میں سے ایک بچہ مچھر سے پھیلنے والی وائرل انفیکشن کا شکار ہو گیا۔

سکول کے ایک طالب علم کی والدہ ایس جینتی نے ایک فوج داری مقدمہ درج کروایا ہے۔ طالب علم کی والدہ کو ہیڈ مسٹریس کے اس فعل کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب ان کے بیٹے کو ڈینگی بخار ہوا اور اسے ہسپتال میں داخل کروانا پڑا۔

جینتی کا کہنا تھا کہ ’جب میں نے اس سے پوچھا کہ اسے ڈینگی بخار کیسے ہوا تو بیٹے نے جواب دیا کہ اس وقت مچھروں نے کاٹا جب وہ بلیچنگ پاؤڈر کے ساتھ روزانہ ٹوائلٹ صاف کرتا ہے۔‘

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق جینتی نے کہا کہ بچے چھ ماہ سے سکول کے واش رومز صاف کر رہے ہیں۔ ان کا بیٹا تمل ناڈو کے ضلع ایروڈ کے سرکاری سکول میں پانچویں جماعت میں پڑھتا ہے۔ سکول انتظامیہ کے خلاف بدھ کو شکایت درج کروائی گئی۔

نیوز چینل این ڈی ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ جینتی کے مطابق سکول کی ہیڈ مسٹریس گیتا رانی نے سکول میں ٹوائلٹس صاف کرنے کے لیے جبر کا شکار چھوٹی ذات کے بچوں کا انتخاب کیا۔ یہ چھوٹی ذات انڈیا میں ذات پات کے متنازع نظام کا حصہ ہے۔

اگرچہ انڈیا نے برطانیہ سے آزادی کے بعد 1955 میں اچھوت ہونے کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے توثیقی اقدامات کیے لیکن دلت برادری کے لوگ پورے ملک میں امتیازی سلوک اور بدسلوکی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق انڈٰیا میں دلتوں کے خلاف جرائم میں 2020 میں 9.4 فیصد اضافہ ہوا۔ 2019

 میں دلتوں کے خلاف جرائم کی تعداد 45،961 تھی جو 2020 میں بڑھ کر 50،291 ہو گئی۔

پولیس حکام نے بتایا کہ سکول کی ہیڈ مسٹریس رانی اب مفرور ہیں اور انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہیں جمعرات کو ان کے عہدے سے معطل کر دیا گیا تھا۔

 جینتی کا کہنا تھا کہ چوتھی جماعت کے تین طلبہ اور پہلی جماعت کے ایک طالب علم کو بھی سکول کے بیت الخلا صاف کرنے کے لیے کہا گیا اور وہ یہ کام کر رہے تھے۔

دلت بچوں سے سکول کے ٹوائلٹس صاف کروانے کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک طالب علم کی ماں نے دیکھا کہ طلبہ ڈنڈے اور مگ اٹھائے سکول کے واش روم سے نکل رہے ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق جینتی کا کہنا تھا کہ ’پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ انہوں نے ٹوائلٹ صاف کیا اور ہیڈ مسٹریس نے انہیں ایسا کرنے کو کہا تھا۔اس کلاس میں 40 بچے پڑھتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق اقلیتی ذات کے ساتھ ہے۔ ہیڈمسٹریس نے صرف ہمارے بچوں کو ٹوائلٹ صاف کرنے کے لیے کہا۔‘

پولیس نے سکول کے اعلیٰ حکام کے خلاف جووینائل جسٹس ایکٹ اور شیڈولڈ کاسٹ اور شیڈولڈ ٹرائب (امتناع مظالم) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

حکام نے کہا کہ پولیس نے سکول ہیڈمسٹریس کو گرفتار کرنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں اور واقعے کی چھان بین جاری ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہیڈمسٹریس کو بہت جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

(ایڈیٹنگ: بلال مظہر | ترجمہ: علی رضا)

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا